مضامینہفتہ کی اہم خبریں

آل سعود کی حفاظت کیلئے اسرائیلی فوجی سعودی عرب روانہ

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ کی جانب سے حال ہی میں سعودی عرب روانہ کئے گئے فوجی امریکی نہیں بلکہ اسرائیلی ہیں جو اس سے پہلے بھی یمن جنگ میں شرکت کیلئے سعودی عرب جا چکے ہیں۔

تحریر: وفیق ابراہیم (کالم نگار ڈیلی البناء لبنان)

اس وقت آل سعود رژیم ایسے شدید خوف اور وحشت کا شکار ہے جو امریکہ سے اتحاد کے گذشتہ سات عشروں کے دوران بے سابقہ ہے۔ آل سعود رژیم اپنا اقتدار لڑکھڑاتا محسوس کر رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یمن کی انقلابی قوتوں کا خاتمہ کرنے میں ناکامی اور امریکہ کی جانب سے ایران پر فوجی حملہ کرنے کی جرات نہ ہونا ہے۔ خلیج فارس کا خطہ بے سابقہ انداز میں تناو کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ تناو ایران اور امریکہ کے درمیان ٹکراو کا نتیجہ ہے۔ دوسری طرف روس، چین اور یورپ جیسی عالمی طاقتیں بھی کسی نہ کسی طرح اس تنازع کا حصہ بن گئی ہیں۔ یہ تناو آہستہ آہستہ امریکہ اور اسرائیل اور ایران اور اس کی اتحادی قوتوں کے درمیان جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مغربی طاقتوں نے فضول بہانوں کے ذریعے خلیج فارس میں موجود تناو کو بین الاقوامی سطح پر کشتیوں کی آزادانہ آمدورفت، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی کوشش، ایران کے میزائل پروگرام اور سیاسی اتحادوں سے جوڑ دیا ہے۔ ایران خلیج فارس خطے کا وہ واحد ملک ہے جو امریکہ اور اسرائیل سے مقابلے کیلئے خطے سے باہر فوجی اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔ امریکہ دسیوں ہزار میل دور سے آتا ہے اور اسرائیل مقبوضہ فلسطین سے آتا ہے جبکہ دونوں کا خلیج فارس سے فاصلہ اپنے دو اتحادی ممالک اردن اور سعودی عرب جتنا ہے۔

ایران سے مغربی طاقتوں اور اسرائیل کی جنگ سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک بار پھر خطے پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں جبکہ خطے کے اپنے ممالک اس معرکے سے غائب دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایک برطانوی تیل بردار جہاز روک لئے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تیل کے ذخائر استعمال کرنے کے باعث خلیج فارس میں زیادہ تیل بردار کشتیاں نہیں رکھتا اور اس علاقے میں امریکہ کی زیادہ تر کشتیاں جنگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں فوجی اڈوں کا مالک ہے۔ یہ ایک قابل قبول قبضہ ہے جو امریکہ کے اقتصادی مفادات اور اسٹریٹجک اثرورسوخ کے حق میں ہے۔ یہ "لاٹھی کا قانون” ہے نہ "قانون کی لاٹھی” جو امریکہ کو مشرق وسطی اور اس کے اردگرد موجود سمندروں میں فوجی اڈے بنانے کی اجازت دیتا ہے اور برطانیہ کو فضول بہانوں اور طاقت کے زور پر آبنائے جبل الطارق میں ایرانی تیل بردار جہاز روکنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر سعودی عرب یمن میں اپنی شکست کے نتیجے میں پیش آنے والے حالات پر خوفزدہ ہے اور امریکی مشرق وسطی میں پھیلتے ہوئے ایرانی اتحادوں سے وحشت زدہ ہیں تو ان دونوں خوف میں کسی قسم کا کوئی تعلق موجود نہیں۔

وہ قوتیں جنہیں امریکہ ایرانی ملیشیائیں قرار دیتا ہے درحقیقت اصیل عربی قوتیں ہیں جو امریکہ اور علاقائی سطح پر امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔ شام کی عرب مسلح افواج کس طرح اپنے ملک میں اجنبی ہو سکتی ہیں یا عراق میں حشد الشعبی جن کا تعلق رافدین کی سرزمین سے ہے یا حوثی جنگجو جو زیدی ہیں کس طرح غیرملکی ہو سکتے ہیں۔ یمن کے زیدی کم از کم گذشتہ 9 صدیوں سے اس ملک پر حکم فرما ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان کے مجاہد بھی ہیں جو قومی امور میں مختلف سطح پر کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج فارس میں امریکہ کی جنگ درحقیقت خطے کے اصیل لوگوں کے خلاف ہے جس کا مقصد خطے میں امریکی اثرورسوخ کم ہونے سے روکنا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ مطلوبہ سیاسی اہداف کے حصول کیلئے خطے کی علاقائی قوتوں پر تکیہ کرنے پر مجبور ہے۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے پر امریکہ سعودی عرب میں آل سعود رژیم کا اقتدار محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ ایک طرف آل سعود رژیم کے دل سے خوف اور وحشت ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف اس ملک کے تیل اور گیس کے ذخائر لوٹنے کے درپے ہے۔

لہذا امریکہ نے جدید ہتھیاروں سے لیس 500 فوجی سعودی عرب روانہ کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جدید F 22 جنگی طیارے، ٹاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم اور ڈرونز بھی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کی یہ فوجی امداد آل سعود رژیم کے مزید تمسخر کا باعث بنی ہے۔ واشنگٹن نے سعودی حکومت سے پہلے اس خبر کا اعلان کیا ہے۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ امریکہ نے اس اقدام کے ذریعے سعودی عرب کی ایک تاریخی مقدس روایت کو بھی توڑا ہے کیونکہ آل سعود رژیم ہمیشہ سے یہ دعوی کرتی آئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر غیرمسلم افواج کو رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اس مسئلے سے بچنے کیلئے امریکی فوجیوں کی جگہ اسرائیلی فوجیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اب سعودی حکومت یہ دلیل پیش کر سکتی ہے کہ یہودی ایک تو اہل کتاب ہیں جبکہ اسلام سے پہلے یہودی مکہ اور مدینہ میں بستے رہے ہیں۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close