اہم پاکستانی خبریںہفتہ کی اہم خبریں

افغانستان جاکر لڑنا جائز، پاکستان کی اہم مذہبی جماعت کا رہنما افغانستان میں ہلاک

شیعہ نیوز:جمعیت علمائے اسلام نظریاتی بلوچستان کے نائب امیر مولانا مفتی رحمت اللہ خلجی کا بھتیجاحافظ نعمت اللہ خلجی افغانستان میں ہلاک، لاش پاکستان منتقل ، کھلے عام نماز جنازہ کی ادائیگی ، ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت ، بغیر کسی روک ٹوک کے آبائی علاقے میں تدفین عمل میں آئی، نہ کسی ایجنسی نے باقی گھر والوں سے پوچھ گچھ کی نہ ہی کسی گھر کے فرد کو جبری لاپتہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سے افغانستان جا کر وہاں کے سیاسی معاملات میں مداخلت اور نام نہاد جہاد میں شرکت کیلئے جانے والے جمعیت علمائے اسلام نظریاتی بلوچستان کے نائب امیر مولانا مفتی رحمت اللہ خلجی کا بھتیجا تحریک طالبان کا کمانڈر حافظ نعمت اللہ خلجی افغان صوبے غزنی میں دو طرفہ کاروائی کے دوران ہلاک ہوگیا۔حافظ نعمت اللہ خلجی کی لاش پاکستان منتقل کی گئی جہاں اس کے آبائی علاقے کلی حاجی چار گل خان خلجی میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور وہیں تدفین عمل میں آئی، اس موقع پر علاقہ مکینوں سمیت عزیزوقارب کی بڑی تعداد شریک تھی، لاش پاکستان منتقل ہونے سے لیکر تدفین تک پورے عمل میں کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ یا خفیہ ایجنسی حرکت میں نہیں آئی ، کسی نے بھی مقتول کے گھر والوں سے اس کے افغانستان جاکر لڑنے اور مرنے کے بارے میں استفسار نہیں کیا۔ اس کے گھر کے کسی فرد کو جبری لاپتہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب اہل بیت رسول اکرم ؐ اور اصحاب ذی وقار ؓکے مزارات مقدسہ کےتحفظ اور عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے نجس وجود کو عراق وشام میں ہی خاک میں ملانے کیلئے پاکستان سے جانے والے مجاہدین اسلام کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ۔کیا خانہ کعبہ و مسجد نبوی کی طرح اہل بیت اطہار ؑ اور اصحاب ذی وقارؓحرم ہائے مقدسہ کا دفاع کرنا گناہ اور جرم ہے ؟؟ کیا افغانستان جاکر لڑنا اور وہاں ہلاک ہونا جائز اور رسول پاکؐ کی آلِ اطہارؑ کی حرمت کا تحفظ کرنا جرم ہے ؟؟؟

آخر ریاست کا یہ دہرا معیار کب تک جاری رہے گا؟؟ اگر عراق وشام میں مقامات مقدسہ کا تحفظ جرم ہے تو بحرین ، سعودیہ عرب اور لیبیا جاکر کرائے پر فوج میں بھرتی ہوکر بے گناہ مسلمانوں کے خون ناحق سے ہاتھ رنگین کرنا کیسے جائز ہے ؟؟؟

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close