مشرق وسطیہفتہ کی اہم خبریں

سعودی حملوں میں اب تک 3 لاکھ 20 ہزار یمنی مسلمان شہید ہوچکے ہیں

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی سربراہی میں یمن پر حملہ آور امریکی و سعودی اتحاد کی جانب سے یمنی صوبے "حجہ” میں ہونیوالے تازہ ترین ہوائی حملے میں 6 بچوں سمیت 12 بیگناہ یمنی شہری شہید ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے عالمی رابطہ دفتر نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے گذشتہ 4 سال سے یمن پر مسلط کردہ بدترین جنگ میں اب تک تین لاکھ بیس ہزار بیگناہ یمنی شہری شھیدہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عالمی رابطہ دفتر کی سیکرٹری لیزا گرینڈ کا کہناہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بیگناہ یمنی عوام کے خلاف روا رکھا جانے والا تشدد قطعی طور پر نا قابل قبول ہے۔

لیزا گرینڈ نے آل سعود کی جانب سے یمن میں برپا کئے جانے والے اس انسانی المیے کو جلد از جلد روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، یمن پر اپنے براہ راست اور بالواسطہ حملوں میں اب تک تین لاکھ بیس ہزار عام یمنی شہریوں کی جانیں لے چکا ہے جبکہ یمنی شہریوں کے لئے سعودی عرب کی جانب سے یمن پر مسلط کردہ اس انتہائی تشدد کی کیفیت میں زندگی گزارنے کا کوئی رستہ باقی نہیں بچا۔ دوسری طرف یمنی صوبے "حجہ” پر جارح ملک سعودی عرب کے تازہ ترین ہوائی حملے میں 6 بچوں سمیت 12 بیگناہ یمنی شہری شھید ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کے صوبہ "حجہ” کا زیادہ تر حصہ انصاراللہ کے کنٹرول میں ہے جبکہ اسکا کچھ حصہ سابقہ مستعفی صدر منصور ہادی جو یمن سے فرار کرکے ریاض میں مقیم ہے، کے حامیوں کے قبضےمیں ہے، جن کی حکومت کو یمن پر دوبارہ مسلط کرنے کے لئے سعودی عرب نے اپنے امریکی اتحاد کے ہمراہ 26 مارچ 2015ء کو یمن پر حملہ کر دیا تھا، لیکن یمن پر سعودی عرب کی وسیع وحشیانہ بمباری کے باوجود وہ اپنے بیان کردہ مقاصد تک پہنچ نہیں پایا، جبکہ انصاراللہ اپنے اتحادیوں کے ہمراہ نہ صرف سعودی عرب کے متعدد جنوبی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے بلکہ کئی مرتبہ سعودی عرب کی بین الاقوامی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر اپنے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلز کے ساتھ کامیاب حملے بھی کرچکی ہے، جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا سب سے اہم اتحادی متحدہ عرب امارات اپنے ملک پر انصار اللہ یمن کے حملوں کے خوف سے سعودی عرب کے ساتھ اپنا اتحاد توڑ کر یمن سے اپنی افواج نکالنے کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close