
صیہونی حکومت کا "مارشل منصوبہ”، علاقے کے ممالک پر قبضے کا خواب
شیعہ نیوز: صیہونی حکومت کے سابق انٹیلی جنس افسر "عامیت یاگور” نے صیہونی اخبار میں ایک کالم شایع کیا ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ غزہ پٹی، شام اور لبنان کی تعمیر نو اور ان کے بقول "نئے مشرق وسطی” کے لیے صیہونی حکومت، امریکہ اور ابراہم اکارڈ میں شامل ممالک "اسرائیل کے مارشل منصوبے” کے تحت تعاون کریں گے۔
عامیت یاگور نے دعوی کیا ہے کہ مارشل منصوبے کے تحت، ابراہیمی سمجھوتہ استقامتی محاذ کے رکن ممالک پر قابو کرنے کے لیے استعمال ہوگا اور ان کے بقول علاقے میں استحکام کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ سازش کے تحت غزہ کی تعمیرنو کے لیے حماس کا ہتھیار ڈالنا ضروری ہوگا۔
مذکورہ انٹیلی جنس افسر نے دعوی کیا ہے کہ اس منصوبے پر ان کے بقول جنگ ختم ہونے کے دوسرے دن سے عملدرامد شروع ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا ذکر تک نہیں ہوا!، ٹرمپ اور پوتین کی ٹیلی فونی بات چیت، کریملن کا باضابطہ بیان
عامیت یاگور نے دعوی کیا ہے کہ فریق مقابل یعنی فلسطینیوں کو تعمیر نو اور صیہونی حکومت کو اپنے دشمنوں کے نہتّے ہونے کی ضرورت ہے، لہذا ان کے بقول مارشل منصوبہ غزہ کے علاوہ اردن اور مصر کے لیے بھی انتہائی مناسب ہے۔
اس شخص نے دعوی کیا ہے کہ لبنان بھی ہر دور سے کہیں زیادہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے چھیننے سے قریب ہوچکا ہے۔
یہ دعوے ایسی حالت میں کیے جا رہے ہیں کہ صیہونی حکومت اپنی تمام سازشوں میں علاقے کی عوامی طاقت اور عالمی سطح پر تل ابیب کے ہاتھوں کیے جانے والے بہیمانہ جرائم سے نفرت کو نظرانداز کردیتی ہے۔
صیہونی حکومت اور اس کے مغربی حامیوں کو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سے قبل مسئلے فلسطین کو دبانے کی جتنی بھی سازشیں کی گئی ہیں، علاقے کے عوام اور استقامتی محاذ نے صبر و ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر پانی پھیر دیا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت طوفان الاقصی ہے۔