دنیا

شام میں عام شہریوں کے قتل عام کا کوئی جواز نہيں، انتونیو گوٹیرش

شیعہ نیوز: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ شام میں عام شہریوں کے قتل عام کا کوئی جواز نہيں ہے اور ہر طرح کے تشدد کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں جس طرح سے عام شہریوں کے قتل عام کی رپورٹیں ملی ہيں ان کا کوئی جواز نہيں ہو سکتا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا ہے کہ ہر طرح کے تشددکا خاتمہ ہونا چاہیے اور اس قسم کی خلاف ورزیوں اور غیرقانونی اقدامات کے سلسلے میں ایک آزاد، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیے تاکہ ان جرائم کے ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا میں سفری پابندیوں سے بچنے کے لیے پاکستان کو 60 دن کی مہلت

گوٹیرش نے کہا ہے کہ جو کچھ ایک پر امن تبدیلی کی خواہش کے طور پر شروع ہوا تھا وہ دنیا کی ایک بے حد تباہ کن اور خونی جھڑپوں میں تبدیل ہوگيا کہ جس کے ناقابل تصور جانی نقصانات ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا کہ گوٹیرش نے ان دسیوں لاکھ خواتین و بچوں کی بات کی جو بے گھر ہو گئے اور ناقابل تصور سختیوں کے متحمل ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں شام کے ساحلی علاقوں میں دمشق کی نئی حکومت کے عناصر اور الجولانی کی پالیسیوں کے مخالفین کے درمیان بھیانک جھڑپیں ہوئی ہيں۔

شام کی نئی حکومت کی پالیسیوں سے اس ملک کے علیوں کا غصہ بھڑک گیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے قرادحہ، جبلہ، لاذقیہ، طرطوس، حمص اور مصیاف میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع کر دیئے۔

شام کے علویوں کے پر امن مظاہروں پر جولانی کے عناصر نے فائرنگ کی جس کے بعد شام کے ساحلی علاقوں میں جھڑپیں شروع ہوگئيں اور بڑی تیزی سے لاذقیہ کے الحفہ، المختاریہ اور الشیر قصبوں تک پھیل گئيں۔ ان جھڑپوں میں اب تک سیکڑوں علوی مارے گئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button