پاکستانی شیعہ خبریںہفتہ کی اہم خبریں

روز اول سے اردو زبان کو اسکا آئینی و جائز حق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، علامہ ساجد نقوی

شیعہ نیوز:شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ ہم روز اول سے اردو زبان کو اس کا آئینی و جائز حق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اردو قومی زبان کے ساتھ قومی شناخت بھی ہے، دستور میں موجود، سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود اور پورے ملک کو آپس میں پروئے ہوئے ہے، مگر افسوس اس قومی شناخت کے ساتھ ”من پسند پالیسی“ جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے، اردو زبان کا حق تسلیم کرتے ہوئے آئین کا آرٹیکل 251 نافذ کرنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے، سپریم کورٹ کے سینیئر جج کا بیان خوش آئند ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 2015ء میں اردو زبان کے نفاذ بارے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلہ پر نوٹس لینے، جواب طلب کرکے معاملے کا ازسر نو جائزہ لینے کی سماعتوں اور چند روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر جج جسٹس فائز عیسیٰ کے قانون کی واقفیت سے متعلق اردو میں قانون سازی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم روز اول سے اردو زبان کو اس کا آئینی حق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متواتر حکمرانوں کو متوجہ کرتے آرہے ہیں، مگر اس کے باوجود اس حکم کی تعمیل نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود آج تک اس کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، حکمران قانون کی حکمرانی، جمہور، دستور کی بالادستی کی صرف مالا جپتے ہیں، مگر عملاً سب کچھ مفادات کی نذر کر دیا جاتا ہے، یہی حال اردو زبان کے ساتھ کیا جا رہا ہے، زبان زندہ قوموں کی پہنچان ہوا کرتی ہے، مگر افسوس پاکستان میں اس کے ساتھ بھونڈے انداز میں مذاق جاری ہے اور صرف ”من پسند پالیسی“ کے تحت ہر کچھ عرصہ بعد معمولی سی بات کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان جہاں پورے ملک کو آپس میں پروئے ہوئے یکجہتی کی علامت ہے، وہیں دستور میں موجود اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے۔ اردو کے نفاذ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 251 پر فی الفور عمل کیا جائے، قوانین کے ساتھ کیسز کے فیصلے بھی اردو میں دیئے جائیں، تاکہ عوام کی اکثریت ان سے مستفید ہوسکے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button