
ٹرمپ اپنی مرضی دنیا پر تھوپنے کا خیال ذہن سے نکال دے، ترکی الفیصل
شیعہ نیوز: سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے امریکی صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ٹرمپ جو کچھ بھی کہے وہ دنیا بھر میں نافذ ہو۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیانات اور ان کا رویہ جابرانہ اور تمام سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف جی-7 کے دعوے مضحکہ خیز ہیں، ترجمان وزارت خارجہ
انہوں نے مزید کہا کہ بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دیتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کے تعلقات کی معمول پر لانے کا کوئی سوال نہیں پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ٹرمپ کہتے ہیں، ضروری نہیں کہ دنیا اسے نافذ کرے۔ باتیں کرنا آسان ہے لیکن انہیں عملی طور پر کرنا مشکل ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ فلسطینیوں کو نکالنے کے لیے فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بیانات ٹرمپ کے جابرانہ رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔
الفیصل نے مزید کہا کہ اگر عرب ممالک ایک مشترکہ موقف اپنائیں تو کوئی بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔