دنیا

ٹرمپ کی تجارتی پالیسی، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید تناؤ

شیعہ نیوز: امریکی اعلی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد ردعمل میں کہا ہے کہ تل ابیب امریکی مالکانہ حقوق کو چوری کرنے میں ملوث ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک مخصوصا واشنگٹن کے دوست ممالک سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے فیصلے کے دفاع میں دوسرے ممالک میں مختلف نوعیت کے الزامات عائد کررہی ہے۔

اسی سلسلے میں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ اسرائیل نے طویل عرصے سے امریکی دواسازی کی صنعت میں کئی مالکانہ حقوق چوری کیے ہیں۔ یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہ سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : اہل سنت عقائد کے مطابق وہابی مُلا منظور مینگل کی خلیفہ سوئم حضرت عثمان کی بدترین توہین، ریاست، ٹی ایل پی اور سپاہ صحابہ خاموش

اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیل کئی سالوں سے اپنی تجارتی محصولات میں کمی کرنے کا وعدہ کر رہا ہے اور امریکہ گذشتہ 50 سال سے اس اقدام کا انتظار کررہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی ملک کی جوابی کارروائی کا سخت جواب دیں گے تاکہ اقتصادی نظام کو کمزور ہونے سے روکا جاسکے۔

وائٹ ہاؤس کے مذکورہ اہلکار نے انکشاف کیا کہ تقریبا 60 ممالک بدترین تجارتی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ 5 اپریل سے 10 فیصد ڈیوٹی نافذ ہوگی جبکہ 9 اپریل سے مزید ڈیوٹی لاگو کی جائے گی۔ اسی تناظر میں اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی درآمدات پر 17 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button