مشرق وسطی

یمنی حملوں کا خوف، سعودی عرب ابہا ائیرپورٹ بند رکھنے پر مجبور

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر یمن کے مسلسل ڈرون حملوں کے بعد ریاض کی حکومت نے رات کے وقت ابہا ہوائی اڈے کو بند رکھے جانے کا حکم دے دیا۔ سعودی حکومت نے اسی کے ساتھ اسٹاک ہوم جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں پر وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

سعودی عرب کی آل سعود خاندان سے متعلق لیک ہونے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ یمنی عوام پر سعودی اتحاد کی جاری جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے کئے جانے والے جوابی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کہ جس کے تحت ابہا ائیرپورٹ کو بارہا نشانہ بنایا گیا، سعودی حکام نے ابہا ایرپورٹ کو رات میں بند رکھے جانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

مجتہد نامی سوشل میڈیا کے ایک صارف نے ٹویٹ کیا ہے کہ سعودی فضائیہ کا اینٹی ایرکرافٹ یونٹ جب یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے جوابی حملوں کو روکنے میں ناکام ہو گیا تو سرکولر جاری کر دیا گیا کہ جنوبی سعودی عرب کے ابہا ائیرپورٹ کو رات بارہ بجے سے صبح چھے بجے تک بند رکھا جائے۔

یمنی فوج نے جب ائیرپورٹ کے بدلے ائیرپورٹ کے فارمولے کو پیش کیا اور اس پر تاکید کی اور سعودی اتحاد نے نظرانداز کرتے ہوئے جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا تو سعودی اتحاد کی فوجی جارحیت بند کرانے اور دشمن کو مجبور کرنے کے لئے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دس سے زائد بار جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں منجملہ ابہا۔ نجران اور جیزان کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

اسی کے ساتھ یمن کے المسیرہ ٹی وی نے خبر دی ہے کہ مغربی یمن کے صوبے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں پر سعودی اتحاد نے ایک بار پھر مارٹر گولوں سے حملہ کیا ہے۔ یمن کے المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے فوجیوں نے صوبے الحدیدہ کے علاقوں الزعفران اور اور الشیخ کے رہائشی علاقوں کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا۔ ابھی ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ جارح سعودی اتحاد نے جمعرات کے دن بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے الحدیدہ کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ 13دسمبر 2018 کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ہونے والے مذاکرات میں فریقین نے صوبہ الحدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن سعودی اتحاد نے آج تک اس معاہدے کی پابندی کی ہے۔

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close