مشرق وسطی

اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی میں صیہونی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ پر دھاوے

شیعہ نیوز: صیہونی آباد کاروں کی جانب سے پولیس اور فوج کی فول پروف سیکیورٹی میں قبلہ اول پر دھاوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ کل اتوار کو 230 صیہونی آباد کارتلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔

رپورٹ کے مطابق اتوار کو230 صیہونی آباد کار پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں قبلہ اول میں داخل ہوئے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔

تفصیلات کے مطابق مسجد اقصیٰ کے پہرے داروں نے صیہونیوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوج اور پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا اور صیہونی آبادکاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی۔

اسرائیلی پولیس نے بھی فلسطینی محافظوں کو پیچھے دھکیل دیا اور صیہونی آباد کاروں کو آزادی کے ساتھ مسجد میں گھومنے کی اجازت دی گئی۔رپورٹ کے مطابق صیہونی آباد کاروں کی قبلہ اول پر یلغار کے وقت فلسطینیوں کی بڑی تعداد بھی مسجد اقصیٰ میں جمع ہوگئی۔ فلسطینیوں نے صیہونیوں کی اشتعال انگیزی کا مقابلہ کرنے اور انہیں روکنے کی کوشش کی مگر قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صیہونی آباد کاروں کی اشتعال انگیز یلغارکے باعث مسجد اقصیٰ میں کشیدگی پائی جار ہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفرتی تعینات ہے۔

دوسری جانب اردنی حکام نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے 230 صیہونی آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دینے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

اردن کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان ضعیف اللہ الفائض کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پولیس نے اردن کے محکمہ وقف کے افسران سے رابطہ کیے بغیر ہزاروں آبادکاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

اردنی ترجمان نے اسرائیل کے اقدام کو ’’سراسر خلاف ورزی‘‘ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

الفائض نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ وقف یروشلم وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کا انتظام سنبھالتا ہے، جس میں اس کا فیصلہ کرنا بھی شامل ہے کہ اندر کون داخل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کو یروشلم کے محکمہ وقف کے افسران کا احترام کرنا چاہیے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close