دنیا

روس، یوکرین جنگ مذاکرات میں امریکہ کو منہ کی کھانی پڑی

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) روس نے یوکرین کے معاملے میں مذاکرات کی امریکی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے تاہم کہا کہ وہ یوکرین سے باہر نہیں نکلے گا۔

روسی ایوان صدر کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتین یوکرین کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ روسی صدر ملکی مفادات کی خاطر مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار تھے ، ہیں اور رہیں گے۔
دیمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے نئے علاقوں کو روس کا حصہ تسلیم نہ کرنے کا معاملہ کسی بھی سمجھوتے میں رکاٹ ہے اور مذاکرات کی کوششوں کو مشکل بنا رہا ہے۔

روسی صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن نے در حقیقت یہ کہا ہے کہ مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب صدر پوتین اپنی فوجیں یوکرین سے باہر نکال لیں لیکن ماسکو ایسی کوئی بھی شرط قبول نہیں کرے گا۔

جو بائیڈن نے جمعرات کو اپنے فرانسیسی منصب کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پوتین یوکرین کی جنگ ختم کرنے کا پکا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

امریکی صدر کے تازہ بیان کو جنگ یوکرین کےحوالے سے ان کے موقف میں واضح اور بنیادی تبدیلی کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے۔
جوبائیڈن جنہوں نے رواں سال مارچ میں کہا تھا کہ صدرپوتین کو اقتدار چھوڑنا ہوگا اب کہہ رہے ہیں کہ اگر روس اپنی فوجیں یوکرین سے باہر نکال لیں تو وہ نیٹو میں امریکہ کے اتحادیوں سے مشورہ کرنے کے بعد اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہو ں گے۔

امریکی صدر کے موقف میں ایک سو اسی درجے کی اس تبدیلی کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو جنگ میں یوکرینی فوج کی کامیابی کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی، یوکرینی فوج ان علاقوں کو بھی آزاد کرانے سے قاصر ہے جو باضابطہ طور پر اب روسی قلمرو کا حصہ بن چکے ہیں ۔

مغربی ملکوں کی تمام تر فوجی اور مالی امداد کے باوجود یوکرینی فوج صرف خرسون جیسے علاقوں میں محدود پیشقدمی کرپائی ہے اور موسم سرما کے پیش نظر مختلف محاذوں پر اس کی پیشقدمی کا امکان تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button