مضامین

حزب اللہ، فلسطین اور عرب(2)

سید حسن نصراللہ کہتے ہیں کہ ابتداء میں وہ لوگ لفظ شیعہ کہنے سے جھجکتے تھے اور اس نئے ایجاد کردہ دشمن کو ایرانی، پارسی اور مجوسی کے ناموں سے بلاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم سنتے تھے کہ عرب ممالک کے مشرقی حصوں پر یہ قوت حملہ آور ہوگی۔(اسی عفریت کو قابو کرنے کے لیے) ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی۔ عرب ممالک نے اس جنگ میں لاکھوں ڈالر بھیجے۔ سید حسن کہتے ہیں کہ اگر اس کا چوتھا، پانچواں یا چھٹا حصہ بھی فلسطینیوں پر صرف کیا جاتا تو آج فلسطین آزاد ہوتا اور آج فلسطینی اس کرب و تکلیف سے دوچار نہ ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ کہ یہ وہ حقائق ہیں جن کے درمیان ہم نے زندگیاں گزاری ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کے لیے میڈیا چینلز بنائے گئے، مالی امداد دی گئی۔ اسرائیل سے لڑنے کے لیے تو فوج نہیں ہے، ایران سے لڑنے کے لیے افواج بنائی گئیں۔ سید حسن نے کہا کہ عرب افواج کا ہر ٹینک، جہاز، کشتی، راکٹ، امریکہ کو یہ یقین دہانی کروا کر حاصل کیا جاتا ہے کہ اسے اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اس نئے دشمن کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج دنیا کو شیعہ فکر، شیعہ تنوع، شیعت کے فروغ سے ڈرایا جا رہا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ تنوع کہاں ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ کیا شیعت کا فروغ امت کے لیے اسرائیل کے خطرے سے بڑا خطرہ ہے؟ کیا یہ سب کچھ امارات کی ریاستوں کے میڈیا چینلز پر نہیں کہا جا رہا؟ کیا اس بارے میں کتب اور مقالات تحریر نہیں ہو رہے؟ کیا مساجد صبح شام اس کا وعظ نہیں کر رہیں؟ آج بہت سے لوگوں کے لیے اسرائیل خطرہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ایک دشمن ایجاد کر لیا ہے۔
جزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آج سیاسی مسائل کو اپنے مقاصد کے لیے گروہی اور مذہبی رنگ دیا جاتا ہے۔ مصر میں ہمیں ایک سیاسی مسئلہ درپیش ہے، اختلافات بہت زیادہ ہیں، کیا ان اختلافات کو مذہبی اختلافات کہا جاسکتا ہے، ہرگز نہیں، یہ سیاسی اختلافات ہیں۔ لیبیا میں بہت سے سیاسی اختلافات ہیں۔ تیونس میں بہت سے مسائل ہیں۔ یمن کو بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ وہ ممالک جہاں آبادی میں بہت تنوع ہے اور جہاں مختلف مسالک آباد ہیں، مثلاً شام، لبنان، عراق، بحرین تو یہاں سیاسی مسائل کو فرقہ وارانہ کیوں بنا دیا جاتا ہے۔؟

سید حسن نے تمام سننے والوں کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم ان قوتوں کی جانب انگلی اٹھائیں، جنھوں نے ہمیں مسلمان، مسیحی، شیعہ، سنی، درز، زیدی، کرد، ترک، عرب اور پارسی کے عنوانات سے تقسیم کر رکھا ہے اور وہ ہمیں تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم ان ممالک کو پہچانیں جو اس تباہی کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ میرے بھائیو! ہر وہ شخص جو پورے عالم اسلام میں تکفیری جماعت کو نظریاتی، مالی، میڈیا اور اسلحہ کی صورت میں مدد مہیا کرتا ہے اور انھیں ایک سے زیادہ ممالک میں جنگ کے لیے روانہ کرتا ہے، آج کی تمام تر مصیبتوں میں سب سے زیادہ حصہ دار ہے اور یہ اس خطے میں ان کی اسرائیل اور امریکہ کے لیے سب سے بڑی خدمت ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج یوم القدس کے دن میں تمام ممالک کے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے داخلی مسائل کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور شام سے تیونس، مصر سے لیبیا، بحرین سے عراق، پاکستان سے افغانستان اور صومالیہ تک اور نہایت افسوس کے ساتھ ہر اس جگہ تک جہاں تکفیری گروہوں کا کردار ہے، خون ریزی کو بند کریں۔ سید حسن کہتے ہیں کہ یہ جہاں جہاں موجود ہیں ہم اس جگہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک حزب اللہ کا سوال ہے تو ہم لبنان اور اس سے باہر آج بھی مشترکات کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں آج اپنے اختلافات کو حل کرنا چاہیے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے، اس وقت یہ اختلافات اور نزاعات نقصان دہ شکل اختیار کرچکے ہیں۔ آج ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ان اختلافات کی وجہ سے ہماری معیشت، امن و امان خطرے سے دوچار ہے۔ آج یہ اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ یہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔

سید حسن کہتے ہیں کہ آج ہم ایسے خطبات سن رہے ہیں جو مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین خلیج کو وسیع کر رہے ہیں۔ یہ خطبات اسلامی مسالک کے درمیان خلیج کو بڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے شیعہ سنی، عرب فارس ترک اور کرد کی خلیج، قومی اور مذہبی پارٹیوں کے مابین خلیج پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ آج ہر ملک میں تمام صاحبان اقتدار اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف فلسطین اور قدس بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے اس صہیونی منصوبے کے مقابلے میں اپنی بھرپور استعداد کے ساتھ باہم متحد ہوجائیں۔ سید حسن نے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے عوام، ہماری ملت، ہمارے علماء اس قابل ہیں کہ وہ خدا کی مدد کے ساتھ اس صہیونی فتنے کو تباہ برباد کر دیں۔

انھوں نے کہا کہ میری بہنوں اور بھائیو! میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم حزب اللہ میں ان اصولوں اور ترجیحات کے بارے میں تاکید کرتے ہیں اور ہم ان کے نفاذ کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی عزم اور اصول پرستی کے سبب لوگ ہمارے خلاف ہیں۔ بعض اوقات ہمارے دوست یا دوستوں کے دوست ہماری ترجیحات سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ ہمیں سمجھتے ہیں، لیکن بعض اوقات شکایت کرتے ہیں۔ بہر حال آج یوم القدس کے دن ہم اپنی ترجیحات
کے بارے میں اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
سید حسن نے کہا کہ آج میں بڑے واضح انداز میں کہنا چاہتا ہوں اور اس جملے پر زور دیتا ہوں کہ حزب اللہ فلسطین اور اس کے عوام کی حامی رہے گی اور فلسطین میں کام کرنے والے تمام گروہوں سے تعلقات استوار رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ ممکن ہے ہمارے ان سے بعض معاملات میں اختلافات ہوں۔ یہ معاملات فلسطین سے متعلق ہوسکتے ہیں، شام سے متعلق ہوسکتے ہیں، خطے سے متعلق ہوسکتے ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم مشترکات کی جانب دعوت دینے والے ہیں۔ پس فلسطین کے مشترکہ مسئلہ پر ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی اس نعرے کا مفہوم ہے کہ قدس ہمارے لیے وحدت کا مقام ہے۔

سید حسن نصراللہ کہتے ہیں آج قدس کے روز ہمیں بعض لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے، کیونکہ جو مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خالق کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ ہم یہاں شکریہ ادا کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ ایران اور عرب جمہوریہ شام کا، ان تمام اقدامات پر جو انھوں نے فلسطین اور قدس کی آزادی کے لیے اٹھائے۔ ہم شکریہ ادار کرتے ہیں ان کا فلسطین اور لبنان میں مزاحمت کی حمایت اور اس کے لیے عملی اقدامات پر، جس کے سبب دشمن کو متعدد بار شکست کا سامنا ہوا۔
سید حسن نصراللہ نے کہا میری بہنوں اور بھائیو! میں جانتا ہوں کہ آج کل بہت سی فرقہ وارانہ باتیں ہو رہی ہیں۔ میں نے متعدد مواقع پر مسلمان اور ایک قوم پرست کی حیثیت سے بات کی ہے، لیکن آج مجھے اجازت دیں کہ میں شیعہ کی حیثیت سے بات کروں۔ مجھے احساس ہے کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے آج میڈیا، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ایسی ایسی باتیں جس کے بیان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جو انسانیت سے ہی عاری ہیں اور یہ سب شیعہ کے خلاف کہا جا رہا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں کو ورغلایا گیا ہو، لیکن وہ فریق جو اس سب کے پیچھے ہے، جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ ممکن ہے یہی فریق کچھ شیعہ افراد، علماء اور چینلز کے پیچھے بھی ہو، تاکہ اہل سنت برادران اور دیگر اسلامی مسالک کے مقدسات کے خلاف بھی ویسی ہی فضا بنائی جائے، جیسی شیعہ کے خلاف بنائی گئی ہے۔

سید حسن نے کہا کہ آگاہ رہیں، ہم ماہ رمضان میں روزے سے ہیں، ان دونوں گروہوں کے پیچھے ایک ہی قوت ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے لبنان میں نوبت قتل و غارت، خودکش حملوں تک پہنچ جائے، جیسا کہ عراق اور پاکستان میں ہے، جہاں آئے روز امام بارگاہوں، مساجد، بازاروں، عام جگہوں اور سڑکوں پر دھماکے کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس شدت پسندی میں شام کے واقعات کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور جیسے جیسے شام میں واقعات بڑھیں گے، اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس شدت پسندی کا فقط ایک ہی مقصد ہے کہ ہم فلسطین اور قدس کو فراموش کر دیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم فلسطین اور فلسطین سے متعلق ہر چیز سے نفرت کرنے لگیں۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کیا آپ مجھ سے مزید وضاحت چاہتے ہیں؟ ان کا ارادہ ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے شیعوں کو جو یوم القدس والے دن فلسطین کے حق میں مظاہرے کرتے ہیں اس ہدف سے دور کر دیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں یوم القدس کے جلوسوں اور مظاہروں پر خودکش حملے کیے جاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ شیعہ اس عرب اسرائیل مسئلے سے نکل جائیں۔ شیعہ جو مسلم امہ کا ایک بڑا، موثر، اساسی اور قوی گروہ ہیں، جب اس معاملے سے نکل جائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران اس معاملے میں نہیں ہوگا۔ یہی وہ نتیجہ ہے جو اسرائیل کے حامی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

آج ہم امریکہ، اسرائیل، برطانیہ جو کہ سب سے زیادہ شاطر ہے اور ان کے آلہ کاروں کو بتانا چاہتے ہیں، جب میں آلہ کاروں کی بات کر رہاں ہوں تو اس سے میری مراد اس خطے کے ممالک میں موجود آلہ کار ہیں۔ میں ہر دوست اور دشمن کو بتانا چاہتا ہوں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم نے اپنے خون سے تحریر کیا ہے، یہ ایسی بات نہیں جو میں سٹیج پر کھڑا ہو کر کہ رہا ہوں۔ آج رمضان المبارک 2013ء کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع اور یوم القدس کے موقع پر میں کہنا چاہتا ہوں:
دنیا میں پھیلے ہوئے ۔۔۔۔ علی ابن طالب (ع) کے شیعہ عہد کرتے ہیں کہ ہم کبھی بھی فلسطین، فلسطینی عوام، اس سرزمین پر موجود مسلمانوں کے مقدسات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ تم ہمیں رافضی کہو، دہشت گرد کہو، مجرم کہو بلکہ جو تمھارا جی چاہے کہو۔۔۔۔۔ہمیں ہر مقام اور پتھر کے نیچے قتل کرو، کسی بھی مسجد اور امام بارگاہ کے دروازے پر ہم پر حملے کرو، ہم علی ابن طالب (ع) کے شیعہ۔۔۔ تمھیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم فلسطین سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
سید حسن نصراللہ نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں کہا کہ حزب اللہ کے بچوں، جوانوں، نوعمروں کی زندگیاں قدس کے دفاع اور فلسطین کی حمایت کی فضا میں پروان چڑھی ہیں۔ فلسطین کی حمایت اور قدس کا دفاع ہمارے خون، گوشت اور رگوں کا حصہ ہے، جسے ہمارے اجداد نے ہمیں ورثے میں دیا ہے۔ یہ ورثہ ہم نے بھی اپنی نسلوں کو منتقل کیا ہے۔ اس راہ میں ہم نے ہزاروں شہید دیئے ہیں، جن میں ہمارے بہترین شہداء سید عباس موسوی، شہید راغب حرب اور عماد مغنیہ شامل ہیں۔ ہم نے اپنے پیارے اس راہ میں قربان کیے، جو دلوں کے بہت قریب تھے۔ سید حسن نے کہا کہ میں بات مختصر کروں، ہم حزب اللہ! ذمہ داریوں میں سے اپنا مقدور بھر حصہ ادا کرتے رہیں گے اور ہم کبھی بھی فلسطین، فلسطینی عوام اور امت کے مقدسات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button