پاکستانی شیعہ خبریں

بحرینی فورسز کے لئے ایک ہزار پاکستانیوں کی بھرتی

بحرین سیکورٹی نیشنل گارڈز میں ایک ہزار پاکستانیوں کی بھرتی کر دی گئی۔شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے ایک ہزار افراد کو بحرین نیشنل گارڈز میں بھرتی کر دیا گیا ہے اور ان کی تربیت شروع کر دی گئی ہے تا کہ بحرین میں انقلابی تحریک کے حامیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔واضح رہے کہ بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لئے پہلے ہی سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنی فورسز کو بحرینی عوامکے قتل عام کے لئے بھیج چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحرین فاؤنڈیشن اور فوجی فاؤنڈیشن پاکستان مشترکہ طور پر ب ھرتی کئے گئے ایک ہزار پاکستانیوں کو تربیت فراہم کریں گے جس کا مقصد بحرینی شیعہ اور سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے،واضح رہے کہ بحرین میں انقلابی تحریک جاری ہوتے ہی دو تنظیموں نے مل کر پاکستان سے سلفی اور وہابی سوچ کے افراد کی بھرتی شروع کر دی تھی تا کہ بحرینی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لئے بحرین بھیجا جا سکے۔
دونوں تنظیموں کاکہنا ہے کہ امریکی اور بحرینی نیشنل گاڑڈز کے ماہرین ایک ہزار بھرتی کئے گئے پاکستانیوں کو تربیت دیں گے جن کو ایک ماہ کے اندر بحرین روانہ کر دیا جائے گا۔
بحرین فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائرکٹر ایڈ مرل محمود اے خان کاکہنا ہے کہ بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد انہوںنے پاکستان میں فوجی فاؤنڈیشن کے تعاون سے 850افراد کو بھرتی کیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانیوںکی بحرینی عوام کے قتل عام کے لئے کی جانےو الی بھرتی کو پاکستانی عوام نے مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی بحرینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور اپنے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خون سے رنگین نہیں کریں گے،دوسری جانب شیعہ تنظیموں کے سربراہوں بشمول جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری،شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا ناظر تقوی،آئی ایس او پاکستان کے صدر رحمان شاہ،اور ماتمی انجمنوں کے رہنماؤں نے بحرین میں شیعہ افراد کی نسل کشی کے لئے ایک ہزار پاکستانیوںکی بھرتی کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود ایسے ملک دمشن و مسلم دشمن عناصر کا قلع قمع کیا جائے اور بحرین نیشنل گارڈز میں پاکستانیوں کی بھرتی کو روکا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button