پاکستانی شیعہ خبریں

یوتھ آف پارا چنار کا روڈ بندش اور مغویوں کی بازیابی کیلئے تین روز سے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

یوتھ آف پارا چنار کے زیر اہتمام مختلف یونیورسٹیوں،کالجوں اور سکولوں میں پڑھنے والے طالب علموں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ شرکائے کیمپ نے مین روڈ بلاک کرکے نیشنل کلب اسلام آباد سے چائنا چوک تک مار چ بھی کیا جس میں سینکڑوں نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے افرا نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا ہے کہ  کرم ایجنسی کے غیور اور محب وطن عوام گزشتہ چار سال سے ملک دشمن شر پسندوں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور تاحال 2200 سے زیادہ افراد کی قربانیاں دے چکے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت ان محبانِ وطن کی حمایت کی بجائے شر پسندوں کا ساتھ دے رہی ہے۔ 2007 سے پانچ لاکھ آبادی والا یہ علاقہ پورے ملک سے کٹا ہوا ہے۔ اشیائے خورد و نوش ناپید ہیں اور ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریض اور زخمی مر رہے ہیں۔ مقررین کاکہنا تھا کہ پورا علاقہ اقتصادی، معاشی،معاشرتی اور تعلیمی طور پر تباہ ہو چکا ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال کے دوران طور ی و بنگش قبائل اور متحارب گروپوں کے درمیان کئی معاہدے ہو چکے ہیں جن میں 2008 میں حکومت کی سرکردگی میں منعقدہ مری معاہدہ قابل ذکر ہے اور فروری 2011 میں اس پر عمل درآمد کے باقاعدہ احکامات وزیر داخلہ رحمان ملک کے زبانی جاری ہوئے ہیں۔ لیکن 25 مارچ کو ٹل پاراچنار روڈ پر 11افراد کی شہادت اور 35 کی تاحال عدم بازیابی اس معاہدے اور وزیر داخلہ کے احکامات پر سوالیہ نشان ہیں۔
قبائلی مشران اور یوتھ آف پاراچنار کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت گزشتہ ایک ماہ سے مغوی 41 افراد کو فوری طور پر رہا کرائے۔ طوری بنگش اور مخالف فریق میں ہونے والے مری معاہدہ پر عمل درآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پشاور سے پارا چنار تک پی آئی اے سروس فوری طور پر بحال کیا جائے۔ کرم ملیشیاء کو دیگر علاقوں سے واپس بلا کر کرم ایجنسی میں تعینات کرایا جائے۔ ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بنانے کیلئے جگہ جگہ آرمی چیک پوسٹیں بنائی جائیں۔ پاراچنار میں دو سالوں سے بند موبائل سروس بحال کیا جائے۔
چیئرمین ہیومین رایٹس آف پاکستان سینیٹر اقبال حیدر نے اپنے بیان میں یوتھ آف پاراچنار کی اس تحریک کی بھر پور حمایت کی اور پاراچنار میں جاری انسانی اور معاشی قتل عام کی شدیدمذمت کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button