مضامین

حضرت زینب سلام اللہ علیھا، تاریخ کا ایک ممتاز کردار

khamenei-sadحضرت زینب کبری تاریخ کا ایک ممتاز کردار ہے جس نے تاریخ کے ایک اہم ترین مسئلہ میں عورت کی کارکردگي کا باعظمت ثبوت پیش کیا ہے۔ یہ جو کہا جاتاہے کہ عاشور کو کربلا میں خون شمشیر پرکامیاب ہوا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے تو اس کامیابی کا سبب حضرت زینب تھیں ورنہ امام حسین علیہ السلام کا انقلاب کربلا میں ہی ختم ہوجاتا۔ کربلا کی جنگ ظاہری طورپر سپاہ حق کی شکست پر تمام ہوئي۔ لیکن جس چیز نے اس ظاہری شکست کو  دائمی اور یقینی فتح میں تبدیل کردیا وہ حضرت زینب کی کارگردگي سے عبارت ہے۔وہ ذمہ داری جو حضرت زینب نے سنبھالی لی تھی وہ نہات اہمیت رکھتی ہے ۔ اس واقعے سے پتہ چل گيا کہ عورت تاریخ کے حاشیے پررہنےوالا کردار نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اہم واقعات کے مرکز میں ہے۔ قرآن نے بھی متعدد موقعوں پر اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انسان جب زینب کبری کودیکھتا ہے تو پاتاہے کہ آپ میدان عمل میں بڑے دبدبے اور شان و شوکت سے وارد ہوتی ہیں اور ایسا وار کرتی ہیں کہ وہ دشمن جو بظاہر جنگ میں کامیاب ہوچکا ہے اور اس نے اپنے مخالفین کا قتل کردیاہے اور کامیابی کا جشن منارہاہے، اپنے ہی شاہی محل میں حقیر وذلیل ہوجاتاہے۔ حضرت زینب کبری اس کی پیشانی پرابدی ننگ وعار کا داغ لگادیتی ہیں اور اسکی فتح کو شکست میں تبدیل کردیتی ہیں یہ آپ کا کارنامہ ہے ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے یہ ثابت کردکھایا کہ عفت و حجاب کے ساتھ مجاھدانہ سربلندی حاصل کی جاسکتی ہےاور عظیم جہاد کیا جاسکتاہے۔
دشمن نے جب آپ کو مصیبت میں گھرا دیکھ کر شماتت کرنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا کہ مارایت الا جمیلا، میں نے اچھائی کے سوا کچھ نہيں دیکھا۔ میں نے کچھ نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ ان کے بھائي، بیٹے ، اعزا اور ان کے بھا ئي کے قریبی ترین ساتھی ان کی آنکھوں کےسامنے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئےتھے، خاک و خون میں غلطاں ہوگئےتھے، ان کے سرنیزوں پرچڑھادئے گئے تھے، ان حالات میں بھی آپ فرماتی ہیں مارایت الا جمیلا۔میں نے اچھائي کے سوا کچھ نہيں دیکھا۔( یعنی ہم نے خدا کے لئے قربانی دی ہے تو وہ محض اچھائي ہے) یہ کونسی اچھائي ہے؟ آپ اس اچھائي کو گيارھويں محرم کی رات میں بھی دیکھ سکتےہیں جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا نماز شب پڑھ رہی ہیں اور آپ کی نماز شب ترک نہيں ہوتی۔ اسیری کے دوران بھی آپ کی نماز شب ترک نہیں ہوئي یہ ا نقطاع الی اللہ ہے ، خداوند تعالی سے ان کے عشق میں کوئي کمی نہيں آئي بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ یہ خاتون نمونہ عمل ہے۔
خطبہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے بیانات میں سے جو کچھ باقی ہے اور ہماری دسترس میں ہے انمیں آپ کا ایک مشہور ومعروف خطبہ بھی ہے۔اس خطبے سے آپ کی عظمت و بزرگي کی نشاندھی ہوتی ہے۔ حضرت زینب نے یہ یادگار خطبہ بازار کوفہ میں ارشاد فرمایا تھا یہ کوئي معمولی بات نہیں ہے، یہ کسی بزرگ شخصیت کے معمول کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس زمانےمیں اسلامی معاشرے کا حقیقی تجزیہ و تحلیل ہے جو خوبصورت ترین ، گہرے ترین اور بامعنی ترین الفاظ میں بیان کی گئي ہے۔ حضرت زینب کی شخصیت کی عظمت و دبدبے کو ملاحظہ کریں آپ کی شخصیت کس قدر بلند و عظیم ہے۔ دو دنوں قبل ہی تو کربلا کے بیابان میں آپ کے بھائي کو آپ کے امام کو آپ کے رہبر کو اور عزیزوں ، جوانوں، بیٹوں کو آپ کی آنکھوں کےسامنے قتل کیا گيا تھا ، اور اھل حرم کو اسیر کرلیا گيا تھا، انہیں لوگوں کی بھیڑ میں لایا گيا، اونٹوں پرسوار کیا گيا، لوگوں کی بھیڑہے لوگ انہيں دیکھ رہےہیں۔ کچھ لوگ شور مچارہےہیں اور کچھ گریہ کررہےہیں ایسے بحرانی حالات میں ناگھان یہ خورشید عظمت طلوع ہوتاہے، اس کا لہجہ وہی ہے جو اس کے باپ امیرالمومنین کا ہے جو آپ منبر خلافت پرامت کے سامنے استعمال کیا کرتےتھے۔ اپنے باپ ہی کی طرح گفتگو کرتی ہیں۔ ان ہی طرح کلمات کا استعمال کرتی ہیں، ان ہی کی فصاحت و بلاغت کا نمونہ پیش کرتی ہیں ان ہی کی طرح اعلی اور بلند مضامیں کا استعمال کرتی ہیں، فرماتی ہیں یا اھل الکوفہ یا اھل الغدر و الختل۔ اے دھوکے بازو ، اے دکھاو کرنے والو، شاید تمہیں بھی یقین ہوگيا ہے کہ تم اسلام اور اھل بیت کے پیرو ہو۔لیکن تم نے بہت برا امتحان دیا ہے۔ فتنے کے موقع پر اندھے ہونے کا ثبوت دیا۔ ھل فیکم الا الصلف و والعجب والشنف و الکذب و ملق الاماء و غمز الاعداء تمہاری رفتار اور گفتار تمہارے دلوں سے ہماہنگ نہیں ہیں، تم مغرور ہوگئے، یہ سوچا کہ ایمان دار ہو، یہ سوچا کہ انقلابی ہو، تم نے یہ سوچا بدستور امیرالمومنین علیہ اسلام کے پیرو ہو، جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے، تم فتنہ کے موقع پر فتنے سے مقابلہ کرنے کی ذمہ داری پوری نہ کرسکے، اپنے آپ کو ساحل نجات تک نہ پہنچاسکے "مثلکم کمثل الذی نقضت غزلھا میں بعد قوۃ انکاثا”تمہاری مثال اس عورت کی ہے جو اون کاتتی ہے اس کا دھاگہ بناتی ہے لیکن بعد میں اسے دوبارہ ادھیڑدیتی ہے۔ اسی اون میں تبدیلی کردیتی ہے ۔ تم نے بے بصیرتی، کا ثبوت دے کر فضا کو نہ پہچان کر، حق و باطل میں فرق نہ کرکے، اپنے اعمال کو اور اپنے ماضی کو تباہ کردیا۔ تمہارا ایمان دکھاوا ہے، تم صرف انقلابی ہونے کے دعوے کرتے ہو، لیکن باطن کھوکھلا، اور مخالف ہواوں کے مقابلے عدم استقامت سے بھرا ہوا۔
حضرت زینب علیہ السلام نے ان دشوار حالات میں اس مستحکم بیان اور ان رسا کلمات سے گفتگو کی۔
ایسا نہیں تھا کہ کچھ لوگ سامعین کی حیثیت سے حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے سامنے بیٹھیں ہوں اور آپ کی باتیں سن رہےہوں اور آپ ان کے لئے تقریرفرمارہی ہوں بلکہ دشمنوں کی بھیڑ تھی، دشمن کے سپاہی نیزے لئے اطراف کھڑے ہوئےتھے، پل پل میں رنگ بدلنے والے لوگ بھی موجود تھے، وہی لوگ جنہوں نے مسلم (ابن عقیل علیہ السلام ) کو ابن زیاد کے حوالے کیا، وہی لوگ جنہوں نے حضرت امام حسین ( علیہ السلام ) کو خط لکھے تھے اور بے وفائي کی، وہی لوگ تھے کہ جب ابن زیاد سے مقابلے کاوقت تھا اپنے گھروں میں روپوش ہوگئے تھے، یہی لوگ بازار کوفہ میں بھی تھے، ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوںنے نفس کی کمزوری کا ثبوت پیش کیا۔ آج تماشہ دیکھ رہےہیں امیرالمومنین (علیہ السلام )کی بیٹی کو دیکھ رہےہیں، رورہےہیں ، حضرت زینب کبری ( سلام اللہ علیھا ) کو ان مختلف النوع اور ناقابل اعتماد افراد کا سامنا ہے۔ لیکن آپ بڑی صلابت سے تقریر فرماتی ہیں۔ آپ تاریخ ساز خاتوں ہیں۔ یہ کوئي ضعیف خاتون نہیں ہے، عورت کو ضعیف نہیں کھ سکتے، یہ مومنہ خاتوں کا جوہر ہےجو اس طرح دشوارحالات میں نمایاں ہورا ہے۔ یہ عورت ہے جو نمونہ عمل ہے۔ سارے عالم کے بزرگ مردوں اور خواتین کے لئے، حضرت زینب انقلاب نبوی اور انقلاب علوی کو درپیش خطرات کی نشاندھی کرتی ہیں۔ فرماتی ہیں تم لوگ فتنے کےموقع پرحق کی تشخیص میں ناکام رہے، اپنی ذمہ داریوں پرعمل کرنے میں ناکام رہے جس کانتیجہ یہ نکلا کہ جگر گوشہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سرقلم کرکے نیزے پرچڑھادیاگيا۔ یہاں آپ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی عظمت کو درک کرسکتےہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button