پاکستانی شیعہ خبریں

امام خمینی مذہبی مکتبی مسلکی یا جذباتی شخصیت نہیں بلکہ نظریاتی سیاسی اجتماعی اورعالمی حیثیت کے حامل ہیں

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی : امام خمینی مذہبی مکتبی مسلکی یا جذباتی شخصیت نہیں بلکہ نظریاتی سیاسی اجتماعی اورعالمی حیثیت کے حامل ہیں
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہا : امام خمینی کی شخصیت فقط مذہبی مکتبی مسلکی یا جذباتی نہیں بلکہ نظریاتی سیاسی اجتماعی اورعالمی حیثیت کی حامل ہے ۔
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، قائد تحریک جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے بانی انقلاب اسلامی ایران کی 22 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں اپ کو موجودہ صدی مایہ ناز شخصیت بیان کیا ۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ رہبر انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی اس صدی کے عظیم مفکر اور اسلامی معاشرے کی برجستہ علمی و انقلابی شخصیت ہیں کہا: آپ نے علم و شعور اور عمل و کردار کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی کرکے پیغمبرانہ فریضہ انجام دیا اور عوام کو اسلامی انقلاب کے ذریعہ اسلامی کی صحیح اور آئیڈیل تصویر دکھائی۔
قائد تحریک جعفریہ پاکستان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امام خمینی نے اپنی ذاتی زندگی قرآن کریم کے فیضان ‘ سیرت النبی سے الہام اور اہل بیت سے وابستگی کے ساتھ بسر کی کہا : اپنی اجتماعی زندگی میں بھی انہوں نے قرآن وسنت اور اہل بیت اطہار کی سیرت کے عملی پہلوئوں سے استفادہ کیا اور عوام کو اپنے ذاتی و اجتماعی مسائل کے حل کی طرف متوجہ کیا۔ امام خمینی جیسی نابغہ روزگار شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔
پاکستان کے اس معروف شیعہ عالم دین نے یہ کہتے ہوئے کہ امام خمینی دنیائے اسلام کی ایسی معتبر اور ارفع شخصیت ہیں جو علمی اور تحقیقی میدان میں سرکردہ حیثیت کی حامل ہیں اور عملی میدان میں بھی کامل رہبری و رہنمائی کا بہترین اور مثالی عملی نمونہ ہیں تاکید کی : ایسی ہمہ جہت شخصیات ہی وقت کے دھارے اور عوام کی تقدیر بدلتی ہیں یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے اپنے اعلی و ارفع کردار سے تمام میدانوں میں عوام کی رہنمائی کی اور انہیں اسلامی انقلاب کے ذریعے جدید اسلامی ایران عطا کیا۔
حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے امام خمینی کی شخصیت کو بلاشبہ انبیاء کے اوصاف اور آئمہ کے کردار کا ائنہ دار بتاتے ہوئے کہا : آپ نے ذاتی و اجتماعی زندگی میں انبیاء و مرسلین اور آئمہ معصومین کی جدوجہد سے الہام لیا ، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیر قیادت رونما ہونے والے انقلاب میں معاشرے کے تمام طبقات بلاتفریق شامل اور شریک تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button