پاکستانی شیعہ خبریں

پاراچنار روڈ کی بندش، طلبہ پانچ سال بعد بھی موسمِ گرما کی تعطیلات پر گھر جانے سے قاصر

کرم ایجنسی پاراچنار صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوب مغرب میں 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 2007ء میں ملک دشمن طالبان نے جب پاراچنار میں اپنی کاروائیاں شروع کیں تو وہاں آباد طوری و بنگش قبائل نے مزاحمت شروع کی اور آج تک اپنے ملک کے دفاع میں 1600ء جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ اسکے علاوہ 5000 سے زیادہ افراد زخمی اور سینکڑوں افراد عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں۔2007ء سے 5  لاکھ کی آبادی دہشتگردوں کی طرف سے پاراچنار ٹل روڈ کی بندش کی وجہ شدید مشکلات میں ہے، گزشتہ پانچ سال سے جنگ زدہ پاراچنار کا پورا علاقہ اقتصادی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی لحاظ سے بحران کا شکار ہے۔ اشیائے خورد و نوش اور ادویات ناپید ہیں اور ضروریات زندگی کی قیمتیں دس گنا ہو چکی ہیں۔ پورا علاقہ انسانی المیہ کا شکار ہے اور حقیقی معنوں میں فلسطینی غزہ سے بدتر حالات سے دو چار ہیں، کسی بھی قوم کے زوال کے لئے یہی کافی ہوتا ہے، ان مشکلات میں طلباء بھی بہت قربانیاں دے چکے ہیں، درجنوں طلباء پشاور اور پاراچنار کے درمیان سفر کرتے ہوئے اغواء کر لیے گئے، بہت سوں کو قتل کر دیا گیا، یہ کہنا بجا ہو گا کہ لوئر کرم ایجنسی پاراچنار کے لوگوں کے لئے موت کی وادی بن چکی ہے۔
ملک کے تمام تعلیمی اداروں نے موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام طلباء گھر جا رہے ہیں اور وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پر خوش ہیں، لیکن مظلوم اور اپنے گھروں سے دور پاراچنار سے تعلق رکھنے والے طلباء پچھلے چار سالوں کی طرح امسال بھی اپنے گھر نہیں جا سکتے اور نہ ہی پاراچنار کی سبز اور سرد وادی میں چھٹیاں گزار سکتے۔ پاراچنار کے ہزاروں طلباء ملک کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں باالخصوص پشاور میں سخت تکلیف میں ہیں۔ جنگ زدہ علاقے سے تعلق رکھنے والے طلباء دس ہزار سے بیس ہزار تک ہوائی جہاز کا ٹکٹ برداشت نہیں کر سکتے۔ پشاور یونیورسٹی کے طالب علم اعزاز حیدر کہتے ہیں کہ میرے تمام دوست اپنے گھروں کو چلے گئے مجھے بھی اپنے گھر اور والدین کی بہت یاد آتی ہے، لیکن راستوں کی بندش کی وجہ سے گھر نہیں جاسکتا۔ زرعی یونیورسٹی کے طالب علم حسن جان نے کہا کہ ھم حکمرانوں سے پوچھنا چاہتے ہیںطکہ کیا پاراچنار پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔؟ اگر ہے تو چار سالہ محاصرہ کیوں، کیا ٹل پاراچنار شاہراہ کو محفوظ بنانا واقعی حکومت کے بس میں نہیں اور کیا ایک مہذب قوم پانچ لاکھ آبادی کے پانچ سالہ محاصرے کا جواز پیش کر سکتی ہے؟ اگر حکومت چاہے تو پاراچنار امن کا گہوارہ بن سکتا ہے اور ریاست کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراھم کرے۔ طالب علم قلندر بنگش کہتے ہے کہ دو مہینوں سے مسلسل پاراچنا ر کے طلباء اپنے مطالبات منوانے اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہے لیکن حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ آج تک کوئی اعلٰی عہدیدار ان کی داد رسی کے لئے نہیں آیا۔ پشاور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم پاراچنار سے تعلق رکھنے والی طالبات نے کہا کہ شدید گرمی اور گھروں سے دوری کے باعث پڑھائی پر صحیح توجہ نہیں دے سکتی۔ ان طلباء و طالبات نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ہیلی کاپٹر کا انتظام کیا جائے، تاکہ وہ باحفاظت اپنے گھروں کو جا سکیں۔
قبائلی عوام ایف سی اور دہشت گرد طالبان کے مظالم کے درمیان سینڈوئچ
کرم ایجنسی(نمائندہ خصوصی)۔ قبائلی عوام ایف سی اور دہشت گرد طالبان کے مظالم کے درمیان سینڈوئچ بنے ہوئے ہیں۔ کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے عوام کے ساتھ ظلم عظیم بند کرنے کامطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحد پر واقع کرم ایجنسی کے علاقے لوئر کرم اور اورکزئی ایجنسی سے متصل ایف آر کرم میں جہاں قبائلی عوام طالبان کے مظالم و بھتہ خوری سے تنگ ہیں، تو ساتھ ہی اپر کرم جہاں کے عوام نے دہشت گرد طالبان کو پناہ نہیں دی وہاں طالبان کی کسر ایف سی نے پوری کردی ہے۔کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے غریب عوام کے ساتھ ایف سی کے مظالم کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا،کہ ٹل پاراچنار روڈ کی بندش کے بہانے ایف سی کے کرنل توصیف و کرنل سجاد اپر کرم آنے والے اشیائے خوردونوش کے محدود سویلین ٹرکوں سے چھپری چیک پوسٹ پر فی ٹرک چالیس
ہزار روپے بھتہ لینے میں مصروف ہیں،جب کہ ایف سی ہیڈکوارٹر حیات آباد پشاور سے  درجنوں مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ایف سی کے سرکاری ٹرکوں میں بٹھا کر پشاور سے پاراچنار فی کس پندرہ سو روپے کرایہ لے کر بندر بانٹ میں مصروف ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹل پاراچنار روڈ کھولنے کی صورت میں پشاور تا پاراچنار آرام دہ ہائی ایس گاڑی کا کرایہ صرف تین سو روپے فی کس تھا، شاید یہی وجہ ہے کہ ایف سی ٹل پاراچنار بند روڈ کھولنے سے گریز کرکے روازانہ لاکھوں روپے کی ناجائز بھتہ خوری و منافع سے ہاتھ دھونا نہیں چاہتی ۔عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے الزام عائد کیا کہ اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ دراصل دہشت گرد طالبان اور ایف سی ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔ اگر اسلام آباد و پنڈی میں برا جمان ارباب اقتدار نے فاٹا کے عوام پر ایف سی اور
دہشت گرد طالبان کے ان مظالم پر جلد از جلد نوٹس نہیں لیا ، تو وہ دن دور نہیں جب اللہ کی لاٹھی بے آواز ہونے کے مصداق دہشت گردوں اور ظالموں کے پشت پناہوں کو خود ہی ظالموں کا نشانہ بنا کر مذید ذلیل و رسوا کیا جائے گا،اسلئے یہ ظلم عظیم بند کرکے طالبان کو سزا دینے کے ساتھ ساتھ مظالم میں ملوث ایف سی کے آفسروں کا کورٹ مارشل کرکے عبر ت ناک سزا دی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button