پاکستانی شیعہ خبریں

کرم ایجنسی :ناصبی طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ

حکومت نے کرم ایجنسی کے بعض علاقوں میںطالبان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا ہے ۔شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق وسطی کرم کے علاقوں زی موشت، علی شیر زئی اور ماصو زئی میںطالبان دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف حکومت نے ان کے ٹھکانوں اور کنٹرول کو ختم کرنے کے لئے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی پاراچنار میںگزشتہ چار سالوں سے جاری ناصبی طالبان دشت گردوں کے محاصرے کے خلاف وفاقی حکومت نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی بھی شروع ہو گئی ہے ۔ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لئے صدا کے قریب کیمپ قائم کر دیا گیا ہے جہاں پینتیس خاندان پہنچ چکے ہیں ۔
واضح رہے کے گزشتہ چار سالوں سے کرم ایجنسی پاراچنار جانے والے رستوں پر ناصبی دہشت گرد طالبان کا قبضہ ہے اور روزانہ ان راستوں پر کرم ایجنسی کے کئی علاقوں پر ناصبی دہشت گرد طالبان حملہ کر کے معصوم شہریوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں جس سے کرم ایجنسی پاراچنار کے سات لاکھ عوام شدید مشکلات کا سامناکر رہے ہیں وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ اُس وقت کیا ہے
جب ان دہشت گردوں نے حکومت کے سیکورٹی اداروں میں شامل ہو کر کرم ایجنسی میں مکمل ناصبی طالبان راج قائم کر لیا ہے جو ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
دوسری جانب کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے کرم میں جاری آپریشن کی حمایت طالبان کمانڈر فضل سعید کی ہلاکت سے مشروط کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز طالبان کمانڈر فضل سعید کے دیئے جانے والے بیانات کے ردعمل میں ۔کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فضل سعید کو ایک ظالم و جابر اور مکار و منافق قرار دیتے ہوئے دیئے جانے والے  اخباری بیانات کو  فضل سعید  اور حکومتی اداروں میں اس کے بعض سرپرستوں کا ڈرامہ و ڈھونگ قرار دے کر فضل سعید کو جاری فوجی آپریشن میں ریاستی تحفظ کی چھتری مہیا کرنے سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ  فضل سعید  کی منافقت اور مکاری کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ سوموار کی علی الصبح  فضل سعید نے اپنے بیان میں خودکش دھماکے،سرکاری افواج و سویلین پر حملے حرام قرار دئیے لیکن
اسی دن سوموار کی سہ پہر بگن لوئر کرم میں سیکورٹی فورسز کی کانوائی پر حملے کی ناکام کوشش میں گرفتار دہشت گرد کا تعلق  فضل سعید کے قریبی ساتھیوں میں ہے۔اس کے علاوہ  فضل سعید کے ہاتھ سینکڑوں بے گناہ افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں،حتی کہ اب بھی کچھ افراد بشمول کم سن اغوا بچے  فضل سعید  کے بنائے جانے والے ذندان میں قید ہیں۔
کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے حکومت و سیکورٹی فورسز سے کرم آپریشن کے نام پر ڈرامہ بازی بند کرکے ملاکنڈ و سوات طرز کا حقیقی آپریشن کرکے دہشت گرد طالبان کا نیٹ ورک بشمول فضل سعید کو باعث عبرت بناکر ہلاک کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت و سیکورٹی فورسز آپریشن کے نام پر ڈرامہ بازی سے شاید فاٹا کے دیگر ایجنسیوں کے لوگوں کو دھوکے دیتی رہی ہے ،لیکن کرم کے باشعور عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ایک طرف کماندر فضل سعید کی سر کی قیمت حکومت نے پانچ ملین روپے مقرر کی ہے اور دوسری طرف آپریشن سے فضل سعید کو بچانے کے لئے  سینکڑوں افراد کے قاتل اور اب تک درجنوں افراد کی اغوا کے باوجود سرکاری سطح پر میڈیا کے ذریعے دہشت گرد اور قاتل کو ہیرو کے طور پر پیش کر رہی ہے،جو لمحئہ فکریہ ہے۔لیکن چور کے داڑھی میں تنکا کے مترادف  فضل سعید جیسے دہشت گرد اور قاتل کو ہیرو کے طور پر پیش کر نے کے ساتھ کرم ایجنسی کے فسادات و واقعات کو  سرکاری سطح پر میڈیا پروپیگنڈے کے زریعے فرقہ وارانہ قرار دینے کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا۔اگر کرم ایجنسی کے فسادات فرقہ وارانہ ہیں، تو پھر طالبان کے مختلف دھڑوں حکیم الللہ اور حقانی نیٹ ورک  کے کمانڈر وں اور لاؤ لشکر کا وہاں کیا کام۔۔۔۔۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر فضل سعید جیسے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو عوام پر مظالم کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز آستین کا سانپ پال کر جی ایچ کیو اور پی این ایس مہران جیسے کسی بڑے حادثے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ آخر میں عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین نے ایک بار پھر آپریشن کے مشروط حمایت کے لئے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت و سیکورٹی فورسز صحیوں معنوں میں کرم ایجنسی میں امن کی خواہاں ہیں ،تو انہیں فساد کی جڑ طالبان کمانڈر فضل سعید اور اس کے نیٹ ورک کو ہلاک کرنا ہوگا۔ وگرنہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جو ظالموں اور ان کے سرپرستوں دونوں کو آپسمیں ٹکرا کر نیست و نابود کرتی ہے،اس پر ہمیں یقین ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button