پاکستانی شیعہ خبریں

طالبان مخصوص اداروں کی پیداوار ہیں جو اب تک ان کی بھرپور سرپرستی کر رہے ہیں، علامہ محمد اقبال بہشتی

قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے علامہ محمد اقبال بہشتی کا شمار قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے بہترین شاگردوں اور باوفا احباب میں ہوتا ہے۔ علامہ محمد اقبال بہشتی مدرسئہ اہلبیت ع انوار المدارس کلایہ کے سابق پرنسپل اور اورکزئی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کلایہ میں کئی برس تک امام جمعہ کے طور پر مذہبی و ملی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آج کل اتحاد امت کیلئے برسر پیکار ملک گیر تنظیم مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی آفس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے علامہ محمد اقبال بہشتی سے ایک خصوصی نشست کے ذریعے علاقائی صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں سوال و جواب پر مبنی گفتگو کی، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
:آغا صاحب، اورکزئی ایجنسی کے عوام کو درپیش مسائل بالخصوص دہشت گردی کی جاری لہر کے بارے میں آپ کیا نظر رکھتے ہیں۔؟
علامہ محمد اقبال بہشتی: اگر ہم نکات کی صورت میں بیان کریں، تو بے شمار مسائل میں سے درجہ ذیل اہم مسائل عوام کو درپیش ہیں۔
1۔ امن کا نہ ہونا یعنی عوام کی جان و مال حتٰی کہ عزت تک محفوظ نہیں، حالانکہ اورکزئی ایجنسی میں پہلے مثالی امن قائم تھا۔
2۔ اورکزئی ایجنسی میں پہلے فرقہ وارانہ مسائل نہ تھے، لیکن دہشت گردی کی جاری لہر اور طالبان کی آمد سے فرقہ واریت عروج پر پہنچ چکی ہے۔
3۔ تعلیم کا شعبہ زیادہ متاثر ہوا ہے، بالخصوص اہلسنت کے علاقوں میں جہاں پر طالبان نے سکول تباہ کر دئیے ہیں، جب کہ شیعہ علاقوں میں چونکہ طالبان کا خودساختہ نظام رائج نہیں، اسلئے تعلیمی ادارے محفوظ ہیں۔
4۔ دہشت گردی کی وجہ سے کاروبار و معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہیں، زیادہ تر تاجر اور کاروباری طبقہ اپنا کاروبار دوسرے شہروں میں شفٹ کر چکا ہے۔
5۔ اورکزئی ایجنسی کے تقریباً اسی فیصد عوام آئی ڈی پیز یعنی مہاجر بنے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے مختلف مسائل بالخصوص اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں۔
6۔ سب سے اہم مسئلہ انسانی قدروں اور حریت کا پامال ہونا ہے۔
اسلام ٹائمز:آغا صاحب، جیسا کہ اسلام ایک مکمل ضابطئہ حیات کے عنوان سے تمام امور حتٰی کہ اقلیتوں کے حقوق پر بھی زور دیتا ہے، لیکن گزشتہ سال اورکزئی ایجنسی میں کئی دہائیوں سے آباد اقلیتی برادری بالخصوص سکھ اقلیتوں کو طالبان نے مطالم کا نشانہ بنا کر بے دخل کر دیا۔ کیا طالبان کے اس طرز فکر سے دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کی تذلیل نہیں ہوئی۔؟
علامہ محمد اقبال بہشتی :واقعاً اسلام میں ہر کسی کے لئے حقوق معین ہیں، چاہے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتی برادری ہی کیوں نہ ہو، اور یہی اسلام کی کامیابی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک بالخصوص قبائلی علاقوں میں طالبان اسلام کے نام پر وہابی طرز فکر کو بزور طاقت و شمشیر نافذ کر کے دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی میں سکھ اقلیتوں کے ساتھ طالبان نے بہت زیادتی کی، انہیں بالجبر طالبان کا نظام ماننے اور جزیہ کے نام پر بھتہ دینے کا حکم دیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں اغوا برائے تاوان حتٰی کہ قتل و ذبح کر دیا۔ اس صورتحال سے بہت سے سکھ اقلیتوں نے اہلسنت و طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے ہجرت کر کے دیگر بڑے شہروں کے علاوہ اورکزئی ایجنسی کے اہل تشیع علاقوں میں آباد ہوئے۔ جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ محمد و آل محمد (اہلبیت اطہار ع) کے نقش قدم پر ان کے پیروکارو اہل تشیع بھی بزور طاقت کی بجائے اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے کے قائل ہیں۔
اسلام ٹائمز:آغا صاحب، اورکزئی ایجنسی کی سرحدیں چونکہ کرم ایجنسی اور ضلع ہنگو سے ملتی ہیں، اسلئے اورکزئی میں ہونے والی شدت پسندی و دہشت گردی کے ان علاقوں پر کیا اثرات ہیں۔ مزید یہ کہ اورکزئی ایجنسی کے علاقے علی خیل سے اہل تشیع کے جو سینکڑوں گھرانے طالبان مظالم کی وجہ سے جبری بے دخل ہوئے تھے، ان کی تازہ تریں صورتحال کیا ہے۔؟
علامہ محمد اقبال بہشتی: اورکزئی ایجنسی میں جاری شدت پسندی و دہشت گردی سے نہ صرف ضلع ہنگو بلکہ اس سے متصل ضلع کوہاٹ تک پھیلا ہوئی ایک بہت بڑی شیعہ آبادی پر مشتمل علاقہ بنگش اور کرم ایجنسی متاثر ہو رہے ہیں۔ ہنگو میں عاشورا کے جلوس پر خودکش حملہ یا لشکر کشیاں و دھماکے ہوں یا شدت پسند کالعدم تنظیموں کی مذہبی منافرت پر مبنی اشتعال انگیزی ہو، اس کا منبع و مرکز اورکزئی ایجنسی ہی ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ ہنگو ایک بندوبستی علاقہ جو ضلع کا درجہ رکھتا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں عملاً حکومتی رٹ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح اورکزئی ایجنسی سے متصل لوئر کرم و ایف آر کرم میں کالعدم تحریک طالبان حکیم اللہ محسود کے کئی گروپ سرگرم ہیں، جو اپر کرم ایجنسی پاراچنار میں حملوں اور لشکر کشیوں کے لئے اورکزئی ایجنسی سے ہی منظم ہو کر جاتے ہیں۔ کرم ایجنسی پاراچنار کے حالات ٹھیک نہ ہونے کی متعدد وجوہات میں ایک اہم وجہ اورکزئی ایجنسی میں طالبان کا مضبوط گڑھ و ٹھکانے قائم ہونا ہے۔
رہا سوال علی خیل کا تو میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ اورکزئی ایجنسی کے تقریباً اسی فیصد عوام آئی ڈی پیز ہیں، لیکن علی خیل وہ واحد علاقہ ہے، جس کی سو فیصد شیعہ آبادی کے املاک و جائیداد کو لوٹنے کے بعد طالبان نے انہیں جبری بے دخل کر دیا، جو آج بھی مہاجر کیمپوں یا دیگر شہروں میں رشتہ داروں کے ساتھ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
اسلام ٹائمز:آغا صاحب،حکومت و سیکورٹی فورسز بارہا اورکزئی ایجنسی میں آپریشن کے دعوے کر کے طالبان دہشت گردوں کے خاتمے کے اعلانات کر دیتی ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ علاوہ ازیں کلایہ اورکزئی ایجنسی کا ہیڈکوارٹر ہے، لیکن ایک عرصے سے کلایہ کو ترقیاتی کاموں میں مسلسل نظر انداز کر کے طالبان کے زیرکنٹرول علاقے غلجو کو سرکاری سطح پر متوازی ہیڈکوارٹر بنایا جا رہا ہے، اس کی کیا وجہ ہے۔؟
علامہ محمد اقبال بہشتی: سچ کڑوا تو ہوتا ہے، لیکن اگر حقیقت کا اظہار کیا جائے تو یہ بات اب راز نہیں کہ طالبان کو پیدا کرنے والے مخصوص ادارے ہی تھے، جو اب تک طالبان کی بھرپور سرپرستی کر رہے ہیں۔ آپریشن محض ایک دکھاوا و ڈرامے کا نام ہے، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اب تک ہونے والے آپریشن میں طالبان کے خودساختہ بنائے ہوئے بڑے بڑے کمانڈر جیسے اورکزئی کا اسلم فاروقی، نور جمال عرف ملا طوفان اور ملا نبی حنفی کے علاوہ حکیم اللہ محسود کے دیگر کمانڈروں میں سے نہ تو کوئی مارا گیا اور نہ ہی گرفتار ہوا۔۔؟؟ جب اورکزئی کے عوام نے خود اٹھ کر طالبان کے خلاف مزاحمت شروع کی تو حکومت و سیکورٹی فورسز نے عوام کو مضبوط کرنے اور ان کی مدد کرنے کی بجائے الٹا عوام کی سرکوبی کرنے کے لئے ان کو دبایا اور عوام کے گھر مسمار کر دئیے۔ جیسا کہ میں نے بارہا ذکر کیا کہ اورکزئی ایجنسی کے اسی فیصد عوام آئی ڈی پیز ہیں۔ لیکن آپ کو یہ حیرت ہو گی کہ نام نہاد آپریشن سے پہلے صرف بیس فیصد عوام آئی ڈی پیز تھے۔ لیکن فوجی آپریشن کے بعد آئی ڈی پیز کی تعداد اسی فیصد ہو گئی، یعنی طالبان کی وجہ سے بیس فیصد جب کہ آپریشن کی وجہ سے ساٹھ فیصد اضافی عوام آئی ڈی پیز بن گئے۔
جب کہ دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اورکزئی ایجنسی کے بننے سے لے کر آج تک پرامن علاقے کلایہ ہیڈکوارٹر کی موجودگی میں حکومت اور مخصوص ادارے سرکاری سرپرستی میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقے غلجو کو مراعات دے کر ہیڈ کوارٹر کے طور پر متعارف کروا رہی ہے۔ یہ طالبان نوازی نہیں تو اور کیا ہے۔
اسلام ٹائمز:آغا صاحب،آپ دنیا بھر بالخصوص مشرق وسطٰی کے ممالک مصر، لیبیا، بحرین، سعودی عرب اور یمن میں عوامی بیداری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، اور اس انٹرویو کے ذریعے آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔؟
علامہ محمد اقبال بہشتی: عرب ممالک میں جاری بیداری کی تحریک اس حوالے سے اہم ہے کہ یہ خالصتاً عوامی تحریک ہے، جس میں سب سے اہم مذہبی رنگ، نماز جمعہ کے اجتماعات اور حجاب و پردے کی پابند خواتین کی اکثریت کا ہونا شامل ہے۔ دراصل عرب خطے کے عوام طویل عرصے تک امریکہ اور استعماری قوتوں کے تسلط و غلامی اور ان کے مسلط کردہ پٹھو و ڈکٹیٹر حکمرانوں کے ظلم و جبر، انسانی و اسلامی اقدار کی پامالی پر مبنی ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ایسے میں عرب عوام نے انقلاب اسلامی ایران اور انقلاب اسلامی لبنان حزب اللہ کی صورت میں ظلم و جبر کے خلاف نمونہ عمل دیکھ کر امام خمینی رہ اور حسن نصر اللہ کی تحریک کو آئیڈئل بنا کر جدوجہد شروع کی، انشااللہ کامیابی ان عوامی و اسلامی تحریکوں کے قدم چھومے گی۔
پیغام:۔ ہم سب کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ پہلے ہم اپنے معاشرے یا جامع کے اصل مسائل یا باالفاظ دیگر دشمن شناسی پر توجہ کریں، پھر اس کے بعد ان مسائل کے حل کے لئے مثالی نمونہ یا آٰئیڈیل تلاش کر کے جدوجہد شروع کریں۔ مثالی نمونہ و آئیڈیل آج کی دنیا و معاشرے میں بھی موجود ہیں۔ ضرورت صرف پہچان و عمل کی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button