پاکستانی شیعہ خبریں

مسلمانان پاکستان آٹھ شوا ل کو عالمگیر یوم انہدام جنت البقیع منائیں۔حامد موسوی

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ علامہ آغاسیدحامدعلی شاہ موسوی نے امتِ مسلمہ پر زوردیا ہے کہ اگر وہ اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی ‘مصائب و آلام کا خاتمہ اور مسائل کا حل چاہتی ہے تو تمام مسلم ممالک کو مشاہیر اسلام کے آثار کی شان و شوکت دوبالا کرنے کیلئے اُن کے مزارات ِ قدسیہ کی جلد ازجلدتعمیر نوکو یقینی بنانا ہوگا’اسی صورت میں القدس شریف کو بازیاب اورفلسطین و کشمیر کو آزادکرایا جاسکتا ہے’اس مقصد کیلئے روئے زمین پر موجود ہر کلمہ گو مسلمان 8شوال کو عالمگیر یوم انہدام جنت البقیع پرامن احتجاج میں شامل ہوکر غیرت ِایمانی کا عملی ثبوت فراہم کرے۔
شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے اتوار کو ٹی این ایف جے کی مرکزی کابینہ کے اہم اجلاس میں مرکزی عہدیداران اور ذیلی شعبہ جات کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے باورکرایا کہ دنیا کی تمام قومیں اپنے مشاہیر کو نہ صرف یاد رکھتی ہیں بلکہ اُن کے آثار کی حفاظت کرتی ہیں تاکہ ان کی تعلیمات سے استفادہ کرکے ان کی معرفت حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے اسلام و قرآن کو بھلا دیا ہے جس کی وجہ سے ابلیسی قوتیں اسلام کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور آپس میں ایکا کرکے شعائر اللہ کی اعلانیہ بے حرمتی پر اتر آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ مسائل میں نہ الجھنے اور اسلام کو ترجیح دینے کے دعویدار ایک بڑے اخبار نے ایک مسلم ریاست پر دوسرے مسلمان ملک میںمداخلت کا الزام لگایا ہے جبکہ المسلم اخ المسلم کے تحت مسلمانوں کے درمیان جغرافیائی حدود حائل نہیں’اسی لیے جب بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تو کسی نے اسے سنی شیعہ کا مسئلہ نہیں کہا کیونکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امر یہ امر قابل غور ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق کی قبر کی اینٹ ادھر سے اُدھر ہوئی تو پورے ملک میں شور و غوغہ مچا دیا گیا اور برطانیہ میں قبروں کی بے حرمتی پر سب چیخ اٹھے لیکن کتنی شرم کی بات ہے کہ جنت المعلیٰ اور جنت البقیع کے تاریخی قبرستانوں میں پون صدی سے عظیم ترین مشاہیر دین و شریعت جن میں رسول اکر م (ص) کے آباؤ اجداد’اہلبیت اطہار(ع) ‘امہات المومنین(ع) سمیت صحابہ کبار کے آثار کو مٹایا جارہا ہے ‘یہ صرف ہماری ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے ہمارے ساتھ احتجاج میں شامل ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button