پاکستانی شیعہ خبریں

پاراچنار:ساجد حسین طالبان دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید،جنگ جاری

کرم ایجنسی پاراچنار میں کالعدم دہشت گرد ناصبی وہابی گروہ طالبان سے جاری لڑائی میں ایک اور شیعہ نوجوان ساجد حسین طوری شہید ہو گیا ہے۔شیعت نیوز کے نمائندے کی کرم ایجنسی سے بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق کرم ایجنسی پاراچنر کے مختلف علاقو ں میں امریکی حمایت یافتہ ناصبی وہابی دہشت گرد طالبان دہشت گردوں سے شیعیان حیدر کرار (ع) کی جنگ جاری ہے ،یہ جنگ

گذشتہ تین روز میں شدت اختیار کر گئی ہے جس کے نتیجہ میں طالبان دہشت گرد شدید پریشان ہیں تاہم طالبان دہشت گردوں سے جہاد کرتے ہوئے ایک شیعہ نوجوان ساجد حسین طوری شہید ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب کرم ایجنسی انتظامیہ نے اس بات کا دعوایٰ کیا ہے کہ کرم ایجنسی انتظامیہ نے چاکی اور علی زئی گاؤں میں کاروائی کر کے گذشتہ دنوں بسوں پر حملون میں ملوث بائیس طالبان دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے جن کے حملوں میں متعدد شیعہ معصوم شہری شہید ہو گئے تھے۔کرم ایجنسی کے سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ ان طالبان دہشت گردوں کو ایجنسی کے قانون ایف آر کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور یہ ہماری تحویل میں ہیں جب تک کہ اصل محرکات کو گرفتار نہیں کر لیا جاتا۔
واضح رہے کہ گرفتار کئے گئے دہشت گردو ں نے گذشتہ دنوں کرم ایجنسی اور ملحقہ علاقوں میں مسافر بسوں پر حملے کئے تھے جس کے نتیجہ میں گیارہ معصوم اور بے گناہ شیعہ افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ متعدد ذخمی ہو ئے تھے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ چند ماہ قبل مارچ کے مہینہ میں اغوا کئے گئے تین طالب علم تا حال انہی طالبان دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں جنہوںنے مسافر بسوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا۔
اغواء ہونے والے تینوں طالب علموں قیصر حسین اور دو بچے جالیل حسین سمیت اکمل حسین کے رشتہ داروں کاکہنا ہے کہ طالبان دہشت گردوں نے مسافر بس پر حملہ کر کے تیس افراد کو اغواء کر لیا تھا جن میں سے ستائیس افراد کو بھاری مالی تاوان لیتے ہوئے رہا کر دیا تھا تاہم تین معصوم طالب علم تاحال طالبان دہشت گردوں کی حراست میں ہیں ۔
دوسری جانب طالبان دہشتگردوں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کاروائیوں کو روکنے کے لئے کرم ایجنسی کے قبائل نے طالبان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے مسلح کاروائیاں شروع کر دیں ہیں جس کا مقصد طالبان دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنا ہے ،تاہم گذشتہ کئی دنوں سے طالبان دہشت گردوں اور شیعہ قبائل میں جنگ کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button