پاکستانی شیعہ خبریں

بیداری کی تحریکیں رکتی نہیں، امید ہے اب تشیع مایوسی کے اندھیروں سے نکلیں گے، علامہ جواد ہادی

molana jawad hadi ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی دفتر میں شیعہ عمائدین کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور کے اہل تشیع نے بھی بہت بڑی بڑی قربانیاں دیں، ملت کے محبوب قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے بھی اسی سرزمین پر جام شہادت نوش کیا۔
 معروف عالم دین اور سابق سینیٹر علامہ سید جواد ہادی نے کہا ہے کہ جب بیداری کی تحریکیں چلتی ہیں تو وہ رکتی نہیں، امید ہے کہ اب تشیع مایوسی کے اندھیروں سے نکل آئیں گے، ہر کسی کو اس کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے دیا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں واقع مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے دفتر میں شیعہ عمائدین کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی بھی موجود تھے، علامہ جواد ہادی نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور کے اہل تشیع نے بھی بہت بڑی بڑی قربانیاں دیں، ملت کے محبوب قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی نے بھی اسی سرزمین پر جام شہادت نوش کیا، تحریک جعفریہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل شہید انور علی اخونزادہ سمیت کئی شہداء کا خون اس شہر کی مٹی میں شامل ہے، لیکن افسوس کہ ہم ان شہداء کے مشن کو آگے نہیں بڑھا سکے، یہاں کے تشیع کے مسائل حل ہونے چاہیں۔
 انہوں نے کہا کہ ہمارے بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے لوگوں میں کچھ مایوسی پیدا ہوئی ہے لیکن امید ہے کہ اب ہم مایوسی کے اندھیروں سے نکلیں گے، انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم نے جس طرح ملک بھر میں عوام میں بیداری کا سلسلہ شروع کیا وہ قابل تعریف ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ ہم ایک دوسرے کے گریبان پکڑیں، ہر ایک کو قوم و ملت کیلئے کام کرنے دینا چاہئے، اگر ہم ملکر کام کر سکتے ہیں تو ملکر کرنا چاہئے اگر نہیں تو الگ رہ کر بھی کام کیا جائے، اور منزل کی طرف بڑھا جائے، انہوں نے کہا کہ سوال ہی پید انہیں ہوتا کہ علی ع کا شیعہ کہلانے والا موت سے ڈرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button