پاکستانی شیعہ خبریں

بیداری کی لہر کو کوئی نہیں روک سکتا، اسلام کا مستقبل روشن ہے، بین الاقوامی کانفرنس

پشاور میں منعقدہ ”عالم اسلام: روشن مستقبل کی نوید” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں موجود امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صوتحال میں اتحاد و وحدت ہی مسلمانوں کو مسائل و بحرانوں سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہے۔
بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”عالم اسلام: روشن مستقبل کی نوید” پشاور میں اختتام پذیر ہو گئی ہے، اس موقع پر ملک کے مختلف دینی و سیاسی رہنمائوں، مذہبی اسکالرز، دانشوروں سمیت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے اسلامی بیداری کو امت مسلمہ سمیت تمام انسانیت کیلئے فلاح و کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اتحاد و وحدت ہی مسلمانوں کو مسائل و بحرانوں سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہے۔ البصریرہ ٹرسٹ کے زیراہتمام نشتر ہال پشاور میں منعقدہ اس بین الاقوامی کانفرنس سے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے قائد علامہ ساجد علی نقوی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے سربراہ علامہ رمضان توقیر، حزب اسلامی افغانستان کے ترجمان ڈاکٹر غیرت بحیر، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید پراچہ نے خطاب کیا۔

اس کے علاوہ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلٰی ابتسام الہٰی ظہیر، آل پارٹیز حریت کانفرنس کشمیر کے کنوینئر غلام محمد فصیح، تحریک منہاج القرآن کے مرکزی رہنماء مسکین قادری، جامعہ نعیمیہ کے مہتمم راغب حسین نعیمی، وائس چانسلر جامعہ پشاور ڈاکٹر قبلہ ایاز، مرکزی متحدہ علماء محاذ کے صدر علامہ مرزا یوسف حسین، پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء فقیر حسین بخاری، صدر رابطتہ الامہ حمید اختر نیازی، فلسطین فائونڈیشن کے سرپرست قاضی احمد نورانی اور مولانا محمد اصغر درس نے بھی انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پر نشترہال شرکاء سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، تمام مقررین نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں موجود امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اسلامی بیداری کی یہ لہر دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اور عالم اسلام کا مستقل روشن ہے، تاہم یہ کامیابیاں حقیقی اتحاد اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے ہی نصیب ہو سکتی ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ فلسطین، کشمیر اور افغانستان میں بے گناہ مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف مسلم حکمرانوں کو امت کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے موثر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان بیت المقدس کی صہیونی قبضہ سے آزادی کیلئے بھرپور کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا بھر کے مسلمان ایک ہو جائیں تو کوئی طاقت ان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔ مقررین نے ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مذہبی جماعتوں کے غیر فعال اتحاد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو بھی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے اہم قرار دیا۔

مقررین نے برادر اسلامی ملک ایران کے عالمی سطح پر طرز عمل کو مسلم ممالک کیلئے نمونہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو امریکی غلام حکمرانوں سے آزادی دلوانا ہوگی، ان حکمرانوں نے عوام کو مسائل اور مشکلات کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب ان باتوں پر نہیں جھگڑنا کہ کوئی نماز ہاتھ باندھ کر پڑھے یا ہاتھ کھول کر، آج حزب اللہ اور حماس کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو صہیونی دشمن کے مقابلے میں ایک ہو کر اپنا وجود منوا چکے ہیں۔ مقررین نے البصیرہ ٹرسٹ کی جانب سے اس بین الاقوامی کانفرنس کے اقدام کو سراہتے ہوئے منتظمین کی مثبت کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button