پاکستانی شیعہ خبریں

رہبر معظم فکر اقبال کو اپنا مرشد, ایرانی علماء کی نظر میں انقلاب ان کی شاعری کا ثمر ہے۔ برسی امام خمینی پر مقررین کا خطاب

خالق مطلق نے انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں نمونے کے طور پر کچھ مثالی کردار دیے جن کی پیروی جہاں انسان کی معاشرتی و معاشی زندگی سدھار دیتی ہے وہاں پر اخروی نجات کی بھی ضامن ہے۔ حضرت آدم سے لیکر حضرت ولی العصر تک انبیاء و اوصیائے کرام نے الٰہی تعلیمات کوخود عمل پیرا ہوتے ہوئے رواج دیا۔ حضرت حجت (ع)کی غیبت کے بعد سے اب تک یہ الٰہی ذمہ داری انہی کی طرف سے علمائے حق کو سونپی گئی۔ نواب اربعہ کے بعد سے آج تک اسلامی تعلیمات کو بدعات کے زنگ سے بچاتے ہوئے عوام الناس تک پہچانے میں علمائے کرام کا کردار کلیدی اورقابل تحسین ہے۔ ویسے تو تمام علماء نے امت کی رہنمائی اور ان کی صفوں میں وحدت کے لئے انتھک کوششیں کیں۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا انتظار صدیوںپر محیط ہوتا ہے اور جب وہ دنیا میں آتی ہیں تو سامراجی و طاغوتی نظام کی بساط لپیٹ دیتی ہیں اور اس کی جگہ اسلامی نظام کو رائج کر دیتی ہیں۔ دور حاضر کی ایسی ہی شخصیت حضرت امام خمینی رہ ہیں جو ہستی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آج ان کو ہم سے بچھڑے تئیس برس بیت گئے۔ لیکن آج بھی ان کی فکر مسلمانان عالم کی رگوں میں لہو بن کے دوڑ رہی ہے۔ ان کی برسی کے سلسلے میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں کانفرنسز اور سیمنار کا سلسلہ جاری ہے۔بانی انقلاب رہبر کبیر اور امت مسلمہ کے اتحاد کے عالمی علمبردار امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ کی برسی کی مناسبت سے لاہور میں ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کے علاوہ نامور سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ سیمنار کے مہمان خصوصی ایرانی صوبے فارس کے گورنر حسین صادق عابدین تھے۔ جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے معروف قانون دان اور گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی فارس کے گورنر حسین صادق عابدین کا کہنا تھا کہ امام خمینی وہ پہلی شخصیت ہیں جن کی دوراندیشانہ فکر نے مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے امت مسلمہ کی وحدت پر زور دیا۔ وہ صرف ایرانی قوم کے رہبر نہیں بلکہ ان کی شخصیت میں عالمگیریت کا عنصر نمایاں ہے۔ انہوں نے ہمیشہ عالم اسلام کی بات کی۔ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ امام خمینی نے خود کو محراب و منبر تک محدود رکھنے کی بجائے الہی سیاست میں قدم رکھا اور قوم کو متحد کر کے اسلامی نظام پر جمہوری انداز سے متفق کیا۔ انہوں نے کہا کہ خط امام پر چلتے ہوئے ایران نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کی ہیں۔ ان کی سوچ مذہبی، سیاسی اور سماجی زندگی کے لئے مشعل راہ ہے۔ نائب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ امام خمینی مذہبی رواداری کے حامی اور فرقہ واریت کے بہت بڑے علمبردار تھے اور انہوں نے اسلامی دنیا میں اسی سوچ کو پروان چڑھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام فرقے متحد ہوتے تو کسی کو قرآن مجید کی بیحرمتی اور رسول اللہ کے گستاخانہ خاکے بنانے کی جرات نہ ہوتی۔ مرکز اہل سنت پاکستان کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری نے کہاکہ رہبر معظم حکیم الامت علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کو اپنا مرشد قرار دیتے ہیں اور ایرانی علما انقلاب اسلامی کو اقبال لاہوری کی شاعری کا ثمر قرار دیتے ہیں۔اس موقع پر تحریک حسینیہ کے چیئرمین علامہ محمد حسین اکبر کاکہنا تھا کہ مسلمانوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے والے اسلام اور وطن عزیز کے دشمن ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کے رہنما علی اکبر الازہری نے کہا کہ امام خمینی رہ کی کامیابی ہے کہ انہوں نے انقلاب اسلامی پر کسی فرقے کی چھاپ نہیں لگنے دی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button