پاکستانی شیعہ خبریں

دہشتگردی کو پروان چڑھانے والی امریکی اور سعودی لابی نے پاکستان میں اپنے مہروں پر مشتمل انتخابی اتحاد تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا

دہشتگردی کو پروان چڑھانے والی امریکی اور سعودی لابی نے پاکستان میں اپنے سیاسی اثر و نفوذ کو بڑھانے کی خاطر اپنے تنخواہ داروں کو مشترکہ انتخابی پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔
حکومت اور متحدہ مجلس عمل کے مقابلے میں غیر ملکی اشاروں پر ملک کی سات مذہبی ودینی جماعتوں نے آئی جے آئی کی طرز پر نیا انتخابی اتحاد تشکیل دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ آئندہ سال ہونیوالے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں نے بھرپور طریقے سے حصہ لینے کیلئے متحد ہونے کے ساتھ دائیں بازو کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے جوڑ توڑ شروع کر دیا ہے۔ ایم ایم اے کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق) کے سربراہ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے جماعت اسلامی ،جماعت اہلحدیث، جمعیت علماء اسلام ’’نظریاتی گروپ‘‘، کالعدم سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت )،جماعت الدعوۃ، اور جمعیت علماء پاکستان سواداعظم پر مشتمل ایک نیا سیاسی انتخابی اتحاد بنانے کیلئے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں سات مذہبی ودینی جماعتوں کا سربراہی اجلاس آئندہ ہفتے ہونے کا قوی امکان ہے۔ جے یو آئی کے مولانا سمیع الحق نے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، جماعت اہلحدیث کے ابتسام الٰہی ظہیر اوربدنام زمانہ دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ جس کاموجودہ نام اہلسنت والجماعت ہے کے مولوی احمد لدھیانوی سمیت دیگر رہنماؤں کیساتھ رابطے کئے ہیں ۔اور جلد ہی نیا سیاسی اتحاد تشکیل دینے کے حوالے سے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دائیں بازو سے نزدیک کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اوردیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی رابطے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ سال ہونیوالے انتخابات میں آئی جے آئی کی طرز پر ایک بڑا سیاسی انتخابی اتحاد تشکیل دیا جا سکے۔ مجوزہ اتحاد کے ذریعے مذکورہ جماعتیں، حکومتی اتحاد اور ایم ایم اے کا سیاسی میدان میں بھرپور مقابلہ کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کو نواز لیگ کی پس پردہ حمایت حاصل ہے، نواز لیگ چاہتی ہے کہ وہ مذہبی ووٹ بینک کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال میں لائے ۔اور اس سارے سیٹ اپ کی تشکیل کے لئیپس پردہ نواز شریف کی جانب سے ہی کمک فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اس اتحاد کی تشکیل کے لئے جماعت اسلامی زیادہ متحرک ہیکیونکہ اسے اس بات کا دکھ ہے کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ان کی شمولیت کے بغیر ایم ایم اے کو فعال کر لیا ہے۔ دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جنہوں نے دفاع پاکستان کونسل بنوائی تھی اور اب وہی قوتیں اس اتحاد کی تشکیل کے لئے سرگرم ہیں۔بظاہر یہ جماعتیں اور گروہ امریکا کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کا براہ راست اور سعودی عرب کے ذریعے امریکا سے رابطہ رہتا ہے۔ یہ مخالفت دراصل امریکا کو یہ باور کرانے کے لئے ہے کہ امریکا نے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button