پاکستانی شیعہ خبریں

کوئٹہ کے شیعہ جوانوں کو راہ حق پر چلنے کیلئے استقامت علوی سے کام لینا ہوگا، علامہ امین شہیدی

ameen shaeedi مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے الہدیٰ مرکز تبلیغات کے زیراہتمام دو روزہ پیام کربلا کانفرنس کا انعقاد مسجد و امام بارگاہ حسینی قندہاری علمدار روڈ کوئٹہ میں کیا گیا۔ کانفرنس میں کوئٹہ کے اہل تشیع نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، علامہ سید ہاشم موسوی، علامہ اعجاز بہشتی، علامہ ثمر نقوی سمیت دیگر علماء نے خطاب کیا۔ علامہ محمد امین شہیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اہل تشیع نے خون دے کر تلوار پر فتح حاصل کریں۔ کوئٹہ کے اہل تشیع کو راہ حق پر چلنے کیلئے استقامت علوی سے کام لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ میدان عمل میں ڈٹے رہنے کی نسبت فقط اپنے آپ کو شیعہ کہنا آسان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مکتب تشیع کے دشمن کو اسلام کے نام پر ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔ ہر قسم کی افواہیں، پروپیگنڈے، شیطانی دھوکہ بازی، قتل و غارت، شب خون، وحشی گری وغیرہ۔ لیکن اہل حق کے لئے صرف اور صرف صحیح راستہ ہے۔ اپنی زندگی گزارنے کیلئے ائمہ معصوم (ع) کی پیروی میں پاکیزگی، شجاعت، استقامت، تقویٰ اور اللہ پر توکل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسے ہمارے آقا مولا حسین (ع) اور جناب زینب کبریٰ (س) کے ساتھ میدان کربلا میں باتقویٰ، پاکیزہ اصحاب نے استقامت دکھائی اور راہ خدا میں اپنی جانوں کو قربان کیا۔ جن کو آج چودہ سو سال بعد بھی شیعہ، سنی بلکہ غیر مسلم بھی یاد کرکے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ولایت معصومین (ع) کی صحیح پیروی کرکے، مکتب تشیع کے افراد کسی بھی سرزمین پر اپنے ظاہری و باطنی دشمن کو شکست دے کر سرخرو ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ اہل ایمان صحیح معنوں میں اگر سو یا دو سو ہوں تو کوئٹہ میں تمام مومنین کی دینی، اخلاقی، جان و مال، عزت و آبرہ کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کے اصحاب نے اپنی جانوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے رہتی دنیا تک انسانیت کو محفوظ کر دیا۔ شہادت سے مومنین کبھی نہیں گھبرائینگے۔ شہادت جس کی آرزو تمام اولیاء اللہ کو ہے۔ مولا علی (ع) نے اپنی شہادت کو عظیم کامیابی سے تعبیر کیا اور کوئٹہ میں بھی شہداء کے وارثین مولا علی (ع) کی پیروی میں شہادت کو کامیابی تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کے خون کی پاسداری زندہ قوموں کے صبر کی علامت ہے۔ لیکن بعض نادان اور نافہم لوگ جو شہداء کے وارث بھی نہیں، ان شہداء کے خون کے سوداگر بن کر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ نالہ و فغاں کرتے ہیں لوگوں کو ڈراتے ہیں، ان میں وسوسہ پیدا کرکے مومنین کو ایمانی طور پر کمزور کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں، تاکہ مومنین اپنی املاک چھوڑ کر چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ معصومین (ع) کے فرامین کے مطابق شہداء دوسرے مومنین کی شفاعت کرتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی ہمیں شہداء کے خون کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شہداء کو اہل بیت (ع) کے ساتھ محشور فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button