پاکستانی شیعہ خبریں

کراچی: ایم کیو ایم اور کالعدم تکفیری گروہ سپاہ صحابہ کے درمیان اتحاد کی کوششیں تیز

mqm sspمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے شہر کراچی میں سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کی قاتل اور ناصبی تکفیری دہشت گرد جماعت کالعدم سپاہ صحابہ سے تعلقات مستحکم کرنے سمیت انتخابی اتحاد کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔شیعت نیوز مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ امت اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قائد الطاف حسین نے ناصبی تکفیری دہشت گردوں کے سرغنہ طاہر اشرفی کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے ساتھ متحدہ قومی موومنٹ کے تعلقات مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور ناصبی تکفیری گروہ کالعدم دہشت گرد سپاہ صحابہ کے ساتھ انتخابی اتحاد کے حوالے سے بھی بات کی جائے۔

اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما الطاف حسین نے ناصبی شرابی اور تکفیری سرغنہ طاہر اشرفی کو کہا ہے کہ پاکستان بھر میں شیعہ مسلمانوں کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کے لئے اچھے خیالات نہیں پائے جاتے ہیں کیونکہ شیعہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو پسند کرتے ہیں اور انتخابات میں مجلس وحدت مسلمین کے حمایت یافت امید وار کو ہی ووٹ دیں گے ۔لہذٰا طاہر اشرفی کو کہا گیا ہے کہ وہ کالعدم دہشت گرد ناصبی تکفیری اور شیعہ مسلمانوں کی قاتل جماعت کالعدم سپاہ صحابہ کے ساتھ ایم کیو ایم کے روابط کو مضبوط کرنے اور انتخابی اتحاد کروانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
دوسری جانب یہ بات بھی قابل غور ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی ایماء پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ناصبی یزیدی دہشت گردوں کے سرغنہ احمد لدھیانوی سے بھی گورنر ہاؤس میں ملاقاتیں کی ہیں جس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایم کیو ایم اور کالعدم سپاہ صحابہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔

اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ناصبی تکفیری دہشت گردوں کے سرغنہ طاہر اشرفی کی نائن زیروحاضری اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جبکہ اس سے قبل لندن سے مسلسل ٹیلی فونک رابطے بھی کئے جاتے رہے۔۔ذدائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ناصبی تکفیری دہشت گردوں کے سرغنہ شرابی طاہر اشرفی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ہدف پورا ہو گیا تو طاہر اشرفی کو سینیٹر بنا دیا جائے گا۔

زرائع کاکہنا ہے کہ شیعیان پاکستان کی ملک گیر جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ے درمیان اختلافات شدید نوعیت کے ہیں کیونکہ شہر کراچی میں شیعہ نوجوانوں اور عمائدین کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ پر ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہونے کے باوجود شہر کراچی کے شہریوں کی حفاظت کے لئے عملی اقدامات کرنے سے گریزاں کرتی رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کراچی میں شیعہ اخبار میں شائع خبر میں بتایا گیا ہے کہ شہر کراچی میں بسنے والی شیعہ آبادی کی بڑی اکثریت موجود ہے جو متحدہ کا اہم ووٹ بینک ہے تاہم گذشتہ کچھ عرصے میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ایم کیو ایم میں شامل معروف شیعہ رہنماؤں کو یا تو پیچھے کر دیا گیا ہے یا پھر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا گیا ہے جبکہ تنظیم کا مرکز نائن زیرو ناصبی تکفیری نظریات وافکار کے حامل افراد کے قبضہ میں ہے ۔

واضح رہے کہ موجودہ حالات میں روزانہ شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس ٹارگٹ کلنگ کو براہ راست ایم کیو ایم کی کراچی تنظیمی کمیٹی کے ذمہ دار حماد صدیقی سمیت لیبر ڈویژن میں موجود رضوان بیگ اور متعدد دیگر ناصبی فکر کے کارکنان ہدایات دے رہے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کو ایم کیو ایم کے حوالے سے اعتماد میں لینے کے لئے حیدر عباس رضوی سمیت بعض رہنماؤں کو خصوصی ٹاسک بھی دیا گیا تھا جو کافی کوششوں کے باوجود اب تک ناکام رہے ہیں ۔تاہم متبادل حکمت عملی کے طور پر الطاف حسین نے سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کی قاتل کالعدم دہشت گرد ناصبی تکفیری گروہ سپاہ صحابہ (اہلسّنت والجماعت )کی قیادت سے بھی خفیہ رابطے قائم کیئے ہیں اور انہیں مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی اس حوالے سے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ایک سے زائد ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ان رابطو ں کے لئے متحدہ نے طاہر اشرفی کو درمیان میں ڈالا تھا۔ متحدہ کی تجویز تھی کہ وہ ملیر اور اس کے مضافاتی علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی دونشستوں پر کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کے امیدوار کی حمایت کرے گی ۔ اس کے عوض کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ پنجاب میں متحدہ کو سپورٹ کر ے گی ، اور ان حلقوں میں مدد فراہم کرے گی جہاں ان کا حلقہ اثر ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close