پاکستانی شیعہ خبریں

نواز لیگ اور کالعدم سپاہ صحابہ کے درمیان جنوبی پنجاب میں انتخابی کٹھ جوڑ

ssp pmln۔ مسلم لیگ ن اور کالعدم سپاہ صحابہ کے درمیان جنوبی پنجاب میں قومی اسمبلی کی 12 نشستوں پر سیٹ ایدجسٹمنٹ کیلے کئی ہفتوں سے جاری بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، جس کے تحت نواز لیگ اہل سنت والجماعت کو پانچ انتخابی حلقوں میں جبکہ اہل سنت والجماعت نواز لیگ کو سات حلقوں میں سپورٹ کرے گی۔ دونوں پارٹیوں میں موجود معتبر ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جماعتوں میں اہم رہنماؤں کی کئی ملاقاتیں ہوئیں، جس میں نواز لیگ کی طرف سے صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے مولانا احمد لودھیانوی، خادم حسین ڈھلوں، ملک اسحاق شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے لاہور کے ایک ایڈیشنل آئی جی مشتاق سکھیرا کے ساتھ ملکر فارمولا طے کیا ہے اور اسے نواز شریف کو پیش کر دیا گیا ہے۔

جن اضلاع میں انتخابی گٹھ جوڑ کیا گیا ان میں بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان، لیہ، جھنگ اور فیصل آباد شامل ہیں۔ ان علاقوں میں مذہبی مدارس کی بھرمار ہونے کی وجہ سے دائیں بازو کی جماعتیں کافی اثر ورسوخ رکھتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مشتاق سکھیرا کو ان کی خدمات کے صلے میں بلوچستان میں آئی جی لگائے جانے کا عندیہ بھی دے گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ملک اسحاق کو جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے میں خصوصی مذاکرات کرانے کے عوض جماعت اہل سنت والجماعت میں اہم عہدہ دیکر ملک کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثناءاللہ نے میاں محمد نوازشریف کو اعتماد لیکر سپاہ صحابہ سے مذاکرات کئے ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے نواز شریف سے کہا ہے کہ شیعہ اور بریلوی حضرات ہمیں کبھی ووٹ نہیں دیں گے، لٰہذا ان کی خاطر ہمیں سپاہ صحابہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے، اگر کسی نے سوال اٹھایا بھی تو ہم بتا دیں گے کہ جماعت کالعدم ہوتی ہے نہ کہ ووٹ کالعدم ہوتا ہے۔ جبکہ اب تو سپاہ صحابہ نے اپنا نام تبدیل کرکے اہل سنت والجاعت رکھ لیا ہے، لٰہذا کالعدم والا مسئلہ بھی حل چکا ہے۔ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو عمرے کے موقع پر سعودی حکام نے واضح پیغام دیا تھا کہ وہ اہل سنت والجماعت کو تحفظ فراہم کریں اور ان سے سیاسی فائدہ اٹھائیں۔

دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق سربراہ حمید گل پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سپاہ صحابہ اب سیاسی عمل میں داخل ہو رہی ہے، جس سے اس جماعت کے اندر عسکریت پسندی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ حمید گل کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے بجائے اسے مین اسٹریم میں لایا جائے، تاکہ وہ سیاسی عمل سے گزر کر عسکریت پسندی سے نکل سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ علمی ڈائیلاگ شروع ہوں تو شیعہ سنی آپس میں قریب آسکتے ہیں اور ان مسائل سے نکلا جاسکتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button