پاکستانی شیعہ خبریں

پوری دنیا کو دکھا دینگے کہ ہم دشمن کا مقابلہ حسینی انداز میں کرنا چاہتے ہیں، علامہ ہاشم موسوی

hashim mosviکوئٹہ میں نماز جمعہ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ گذشتہ روز علمدار روڈ پر اندوہناک دہشت گردی کا واقعہ امریکی، اسرائیلی شیطانی طاقتوں اور انسانیت سے عاری ان کے ایجنٹوں کی کارروائی ہے۔ جو صرف چند سکوں کی خاطر انسانیت کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو لانگ مارچ کے خوف سے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مقصد حسینیت (ع) کو دبانا ہے۔ تاکہ یہ اپنی عیاشیوں کی راہ ہموار کرکے دنیا کو شیطانی شکنجے میں جکڑے رکھیں اور ظلم پر ظلم ڈھاتے رہیں۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ ملت تشیع اس قسم کے ناپاک عزائم سے گھبراتی نہیں اور ان تمام سازشوں کو ناکام بنا کر رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام اہلیان کوئٹہ سے بھرپور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جو گذشتہ روز دیگر دہشت گردانہ واقعات میں متاثر ہوئے۔

علامہ ہاشم موسوی نے کہا کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد شیعہ سنی دونوں کا دشمن ہے، جس کی وجہ سے آئے دن بے گناہ نہتے مسلمان دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ دہشتگردی کیلئے حکومتی مشینری استعمال کی جاتی ہے اور ان دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک خصوصاً کوئٹہ کی ملت تشیع نے حوصلہ سے کام لیا ہے اور قانون کی مکمل پاسداری کی ہے۔ جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم دشمن سے غافل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کا بھرپور اور ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔ استقامت کے ساتھ دنیا کو دکھا دینگے کہ ہم دشمن کا مقابلہ حسینی (ع) انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت دہشت گردی کی روک تھام کیلئے اقدامات نہیں کریگی تو اس صورت ملت تشیع پاکستان بھر میں بھرپور احتجاج پر اتر آئینگے۔ اور جب تک حکومت ملت تشیع کا تحفظ یقینی نہیں بنائے گی ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس احتجاج کی دوسری صورت سول نافرمانی بھی ہوسکتی ہے، جس کی ذمہ داری حکومت اور اس کے اداروں پر عائد ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے جو آگ ملت تشیع کیخلاف لگائی گئی ہے ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ آگ پورے شہر بلکہ پورے پاکستان کو اپنی لپٹ میں لے لے گی۔ اور اس کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ تمام خشک و تر اس میں جل کر راکھ ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہماری عدم تشدد کی حالت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اللہ تعالٰی ان شہداء کو شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button