پاکستانی شیعہ خبریں

مولانا فضل الرحمان بلوچستان میں وزارتیں چھن جانے پر غمزدہ ہیں، علامہ مختار امامی

mukhtar imamiمجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مختار احمد امامی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت پورے پاکستان کے اہل تشیع نے جس طرح دھرنا دے کر استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے مثال قائم کردی اور اس ظالم و جابر وزیراعلیٰ سے نجات حاصل کی کہ جس کے ہاتھ ملت تشیع اور بلوچستان کی عوام کے خون سے رنگین تھے۔ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے قائدین اس وقت کہاں تھے کہ جب بلوچستان کی سرزمین پر بے گناہوں کا خون بہایا جارہا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے گورنر راج کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے خلاف اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک گیر دھرنا اللہ تعالیٰ کی غائبانہ مدد، امام زمانہ (عج) کی تائید اور ملت جعفریہ کی استقامت کا نتیجہ ہے لیکن کچھ قوتیں کوئٹہ کے مومنین کی طاقت سے خوفزدہ ہوکر بلوچستان میں گورنر راج کے خلاف تحریک چلانے کی باتیں کررہی ہیں۔

انہوں نے جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شیرانی اپنے قائدین سمیت گورنر راج کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ ان کی بلوچستان میں وازتیں ختم ہوگئی ہیں، لیکن ان کو کوئٹہ میں ملت تشیع کے خون کی نہیں اپنی کرسیوں کی فکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مولانا فضل الرحمان خود کوئٹہ آتے اور شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نا اہل وزیراعلیٰ کے خلاف احتجاجی تحریک میں ملت جعفریہ کے شانہ بشانہ ہوتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ بلوچستان میں مظلوموں کو قتل کرنے والے اسلم رئیسانی کے دست بازو بن گئے ہیں۔

علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بلوچستان میں گورنر راج کی مخالفت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے کہ اندرون خانہ وہ بھی ملت جعفریہ کے قتل عام سے راضی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ نے اپنے حق کو اپنے شہداء کے لہو کی طاقت سے حاصل کیا ہے، اگر کسی نے بھی ملت جعفریہ کے حقوق پر شب خون مارنے کی کوشش کی تو وہ یہ سن لے کہ ملت جعفریہ اپنے حق کے تحفظ کے لئے میدان میں موجود ہے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کرے گی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button