مضامین

ڈی آئی خان بم دھماکے، شیعہ سنی کے مشترکہ دشمن کا وار

shia sunniامن کے دشمنوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین کو ایک مرتبہ پھر بے گناہ عزاداران امام حسین (ع) کے خون سے رنگین کرتے ہوئے 9 اور 10 محرم الحرام کو بم دھماکوں کے ذریعے 17 افراد کی جانیں لے لیں، 9 محرم الحرام کو مضافاتی علاقے تھویا سیال سے عزاداروں کا ایک ماتمی جلوس مرکزی جلوس میں شرکت کے لئے آ رہا تھا کہ دہشتگردوں نے راستے میں نصب ریمورٹ کنٹرول بم کو زور دار دھماکے سے اڑا دیا۔ جس کے نتیجے میں 9 افراد نے جام شہادت نوش کیا، جن میں 4 معصوم بچے بھی شامل تھے، شہید ہونے والوں میں 6 اہل سنت اور 3 اہل تشیع تھے، جو نواسہ رسول (ص) کا غم منانے کیلئے وہاں موجود تھے، جبکہ اگلے ہی روز یعنی یوم عاشور کو دہشتگردی کا ایک اور ہولناک واقعہ اس وقت رونماء ہوا جب ماتمی جلوس چوغلہ کے کمشنری بازار سے گزر رہا تھا۔ اس دوران عزاداران امام عالی مقام (ع) نوحہ خوانی اور ماتم داری میں مصروف تھے کہ دکان کے اندر نصب بم شدید ترین دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید جبکہ 135 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں موبائل سروس معطل ہونے اور سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کے دعوئوں کے باوجود پے درپے دہشتگردی کے یہ دو واقعات حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، دونوں سانحات کے بعد گیارہ محرم الحرام کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مکمل ہڑتال رہی اور شہر سوگ میں ڈوبا رہا، شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ شیعہ سنی عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا، اور انہوں نے احتجاج کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا، جس کے بعد متعلقہ ڈی ایس پی اور ٹی ایم او کو معطل کر دیا گیا، دھماکوں میں شدید زخمی ہونے والے بعض افراد کو ملتان کے نشتر اسپتال اور پمز اسلام آباد منتقل کیا گیا، جبکہ کئی معمولی زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد فارغ کردیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے ان سانحات پر ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے دو دن کے حادثے اسی سلسلہ کی کڑی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی سرزمین کے مختلف حصوں پر جاری ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کو صرف لوکل مسئلہ نہیں کہہ سکتے، اور صرف انٹرنیشنل مسئلہ بھی نہیں کہہ سکتے، بلکہ بین الاقوامی امن کا روپ دھار کر دہشتگردی کرنے والے ممالک اور پاکستان کے اندر فرقہ پرستی کے ذریعے جینے کی راہیں تلاش کرنے والے گروپس، ان دونوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں آج عزاداری بھی نشانے پر ہے اور میلاد بھی نشانے پر ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں ان کو نہ دیوبند کے معروف، اہل دین اور مجاہد عالم دین مولانا حسن جان کی جان لینے میں کوئی مشکل نظر آتی ہے، نہ ہی بریلویوں کے انتہائی امن پسند اور صلح دوست مولانا نعیمی کی جان لینے میں کوئی پریشانی ہوتی ہے، اور نہ ہی شیعہ علماء، اکابرین، بیوروکریٹس، ڈاکٹرز اور عام شہریوں کی جان لیتے ہوئے کوئی پشیمانی ہوتی ہے، علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ریاست اور ریاستی اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان عناصر کو جو پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، ان کی نشاندہی کریں، ان کے بیرونی رابطوں پر نظر رکھیں اور ان کا قلع قمع کرنے کیلئے پوری قوت اور ارادے کیساتھ میدان میں حاضر ہوں۔
 
انہوں نے کہا کہ لیکن ہماری مشکل یہی ہے کہ یہ جو کینسر ہے یہ اداروں میں بھی پھیلتا ہوا نظر آتا ہے، لہذا ایسی صورتحال جب پیدا ہوتی ہے تو پولیس کی وردی پہنے ہوئے لوگ اور دیگر سیکورٹی کے اداروں میں موجود بعض کالی بھیڑیں اس طرح کے حساس ترین معاملات میں آنکھیں بند کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور مجرموں کو ڈھیل دیتی ہوئی نظر آتی ہیں، تاہم اب وقت آگیا ہے قوم متحد ہو اور ان دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آواز بلند کرے۔

اسی موضوع پر شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے سربراہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے علامہ رمضان توقیر نے بھی ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ بات چیت کی، ان سانحات کو ملک اور اسلام دشمن قوتوں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، 9 محرم الحرام کو ہونے والے دھماکے میں 6 شہید اہل سنت اور 2 اہل تشیع تھے، اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور نفرتیں پھیلانے کیلئے دہشتگردوں نے یہ حرکت کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ میں اہل سنت کے شہداء کے گھروں پر بھی گیا اور ان کے اہل خانہ کیساتھ تعزیت بھی کی، اور ان سے اپیل کی کہ جو اتفاق و اتحاد پہلے تھا اسے برقرار رکھا جائے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب راجپوت برادری اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد کی فضاء قائم ہو رہی تھی، تاہم اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی ایک سازش کی گئی اور دشمن نے یوم عاشور کو دوسرا دھماکہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں راجپوت برادری سے اپیل کروں گا کہ وہ تفتیش میں انتظامیہ کیساتھ تعاون کریں، تاکہ دشمنوں کی سازش ناکام ہو، مجرم جو ہمارے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتا ہے وہ کیفر کردار تک پہنچ سکے، انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد کچھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم راجپوت برادری اس حوالے سے آزادانہ تفتیش کیلئے تعاون کرے، انہوں نے کہا کہ گیار
ہ محرم الحرام کو کامیاب ہڑتال اس بات کی دلیل ہے کہ سنی شیعہ اکھٹے ہیں اور ہم تاجر برادری کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کامیاب ہڑتال کی، ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ سنی متحد ہیں اور وہ اسی اتحاد کے ذریعے اپنے دشمن کے مزموم عزائم خاک میں ملائیں گے، انہوں نے کہا کہ گو کہ قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعمل البدل نہیں ہوتا، تاہم انتظامیہ نے دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادائیگی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دو روز کے دوران پیش آنے والے ان افسوسناک واقعات میں بلاشبہ وہ قوتیں ملوث ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان کا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں، اور ان واقعات میں شیعہ سنی کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کا دشمن مشترکہ ہے، اسی قسم کی مثال روالپنڈی کے علاقہ ڈھوک سیداں اور کراچی میں ہونے والے دھماکوں کے موقع پر بھی دیکھی گئی، جہاں اہل تشیع کیساتھ ساتھ اہل سنت بھی شہید ہوئے اور راولپنڈی میں 4 اہل سنت کی نماز جنازہ اہل تشیع شہداء کیساتھ ادا کی گئی، نواسہ رسول (ع) کی شہادت کے موقع پر شہید ہونے والے ان مسلمانوں کی قیمتی زندگیاں تو کسی طور واپس نہیں آسکتیں اور یہ غم متاثرہ خانوادگان سمیت پوری قوم کیلئے تکلیف دہ ہے، لیکن ان شہیدوں کے خون سے ملک میں امن اور اتحاد کے پودے کی آبیاری کی جاسکتی ہے اور تمام مکاتب فکر کو اب اپنے مشترکہ دشمن کا پہچاننا ہوگا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button