پاکستانی شیعہ خبریں

انقلاب اسلامی ایران کے اہم ترین عوامل میں مخلص اور مضبوط قیادت کا ہونا ہے ۔ مقررین

inqalb iran salgiraشیعت نیوز کے نمائندے کے مطابق دنیا بھر میں انقلاب اسلامی ایران کی چونتیسویں سالگرہ بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ پاکستان کے شہر کراچی میں بھی اسی مناسبت سے مختلف مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مسجد مدینتہ العلم گلشن اقبال میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جسمین حجتہ السلام شیخ حسن صلاح الدین اور مولانا سید علی افضال رضوی نے خطاب کیا۔حسینی ینگ آرگنائزیشن کراچی کے زیرانتظام انقلاب اسلامی سیمینار کا انعقاد بھوجانی ہال سولجر بازار میں کیا گیا۔ سیمینار سے مولانا سید علی مرتضٰی زیدی اور ریسرچ اسکالر آغا سید مبشر زیدی نے تاریخ و عوامل انقلاب اسلامی کے عنوان پر خطاب کیا، جبکہ برادر شجاع رضوی اور دستہ امامیہ کے صاحب بیاض عاطر حیدر نے ترانہ شہادت پیش کئے۔ سیمینار میں خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد شریک تھی۔ اس موقع پر جدوجہد انقلاب اسلامی ایران کے موضوع پر ایک ڈاکومنٹری فلم بھی پروجیکٹر پر دکھائی گئی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالٰی کا انتہائی شکر گزار ہونا چاہئیے کہ اس نے ہمیں ایسے دور میں پیدا کیا کہ ہم اسلام کی کامیابیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے سب سے بڑی کامیابی انقلاب اسلامی ایران کا قیام ہے۔ جس کا ہم نے مشاہدہ کیا اور اب اس کے اثرات کے سارے جہان میں پھیلتا دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ چند صدیوں میں ہم مسلمانوں کو مشکلات میں دیکھتے تھے، الحمد اللہ یہ وہ دور ہے کہ جب ہم اسلام کی عزت و سربلندی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم خداوند کریم سے دعا کرتے ہیں کہ اسی دور میں ہی ہمیں وہ اپنی آخری حجت حضرت امام مہدی (عج) کا ظہور پرنور دیکھنا بھی نصیب فرمائے۔

مقررین نے مزید کہا کہ ہمیں اللہ تعالٰی کا انتہائی شکر گزار ہونا چاہئیے کہ اس نے ہمیں اپنے دور میں اپنی زندگی میں امام خمینی (رہ) جیسی شخصیت دیکھنا نصیب کی۔ ہم اہل بیت اطہار (ع) و امام زمانہ (عج) کی غیبت کے زمانے میں دین کی صحیح تعلیمات کو سمجھ نہیں پاتے، اگر امام خمینی (رہ) کی عظیم الشان شخصیت یہاں نہ ہوتی۔ اس عظیم شخصیت نے ہمارے سامنے دین کو واضح کیا اور پھر اس کے اثرات ہمارے سامنے کھلتے چلے گئے۔ امام خمینی (رہ) اور ان کے زیر قیادت آنے والے انقلاب اسلامی ایران نے دین کو کتابوں سے نکال کر لوگوں تک پہنچایا۔ جب تمام اقوام عالم امریکہ و سوویت یونین کے باطل نظریات و افکار کے شکنجہ میں پھنسے ہوئے تھے تو اس وقت انقلاب اسلامی ایران نے اقوام عالم خصوصاً امت مسلمہ کو سیاسی رہنمائی دی۔ اس جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی کا محاذ سب سے بڑا محاذ سمجھا جاتا ہے، اسی محاذ پر انقلاب اسلامی ایران نے کامیابی کا جھنڈا گاڑ کر تمام دنیا خصوصاً دشمنان اسلام و انقلاب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

تاریخ و عوامل انقلاب اسلامی پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام خمینی (رہ) کی قیادت میں آنے والے انقلاب اسلامی ایران کے اہم ترین عوامل میں اس ایک عامل انتہائی مخلص و مضبوط قیادت کا ہونا تھا۔ قیادت کے ساتھ جو چیز اہم ہوتی ہے وہ یہ کہ قائد کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو، اگر اس کے ساتھ اطاعت گزار امت نہ ہو تو انقلاب کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ جہاں مخلص قیادت موجود تھی، وہیں اطاعت گزار و باشعور امت نے بھی اس قیادت کا ساتھ دیا۔ امام خمینی (رہ) کے انقلاب اسلامی میں دوسرا اہم عامل اطاعت و اتباع ہے۔ لوگوں کے اندر اتباع و اطاعت کا جذبہ تھا۔ تیسری چیز جس کا اس انقلاب اسلامی میں ہم نے مشاہدہ کیا، وہ تھا شہادت طلبی اور اپنی عزت کا احساس کرنا۔ امام خمینی (رہ) کی تقاریر میں اس اہم چیز کا تذکرہ ہمیں جا بجا ملتا ہے اور اسی کو علامہ اقبال نے خودی سے تعبیر کیا ہے۔ اس تحریک کا ایک اہم نکتہ خود باوری تھا یعنی اپنے آپ کو پہچاننا اور اپنے اوپر اعتماد کرنا جسے استقلال کہا جاتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ عوامل انقلاب میں چوتھی چیز وحدت تھی۔ ہم نے انقلاب میں مشاہدہ کیا کہ کس طرح عوام و خواص، علماء، دانشوروں، عام لوگوں نے اتحاد و وحدت کو قائم کیا ہوا تھا۔ کس طرح یہ سب ہاتھوں میں ہاتھ دیئے انقلابی جدوجہد میں مصروف تھے۔ انتہائی اہم عامل اس انقلاب میں خود شہادت طلبی اور قیام امام حسین (علیہ اسلام) تھا۔ جیسا کہ امام خمینی (رہ) نے جا بجا اس کا تذکرہ کیا اور انقلاب کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ کربلا و عاشور کی بدولت ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button