پاکستانی شیعہ خبریں

سانحہ کوئٹہ کے خلاف سندھ بھر میں ہڑتال،یوم سوگ

quetta protestسانحہ کوئٹہ کے خلاف سندھ بھر میں ہڑتال،یوم سوگ۔  درجنوں مقامات پر احتجاجی دھرنا اور ریلیاں ،کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ، مطالبات کی منظور ی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان، کوئٹہ میں 110شہداء کے جنازوں کے ساتھ احتجاج کا دوسرا دن
کراچی( )سانحہ کرانی روڈ کوئٹہ کے خلاف پیر کے روز ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی ہڑتال رہی جبکہ تمام کاروباری مراکز اور تضارتی سرگرمیاں بھی بند ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی شہر میں درجنوں مقامات پر سانحہ کوئٹہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنوں کا انعقاد کیا گیا۔سانحہ کوئٹہ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان ،شیعہ علماء کونسل پاکستان،جعفریہ الائنس پاکستان،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی اپیل پر سندھ بھر میں ہڑتال اور یوم دوگ رہا جبکہ شہر کے درجنوں مقاما ت پر احتجاجی دھرنے دئیے گئے جس میں ہزاروں کی تعداد مین مرد وخواتین اور بزرگوں نے شرکت کی۔
سانحہ کوئٹہ کے خلاف شہر کراچی میں نمائش چورنگی،ملیر ،کھارادر،رضویہ سوسائٹی،واٹر پمپ،عائشہ منزل،انچولی،فیڈر ل بی ایریا،دو منٹ چورنگی،عباس ٹائون،صفورہ چورنگی،ناتھا خان،شارع فیصل،اسٹار گیٹ،گورا قبرستان،تین تلوار اور کورنگی ڈھائی سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی دھرنے دئیے گئے ۔احتجاجی دھرنوں میں شریک ہزاروں شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سوال لکھے ہوئے تھے کہ’’ا ٓخر شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کب تک‘‘، ’’ ناصبی تکفیری دہشت گردوں کو ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے‘‘، ’’پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ایجنسیاں ملوث ہیں‘‘ ، ’’کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے‘‘، ’’دہشت گردوںکے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے ‘‘ اور امریکہ اور اسرائیل مردہ باد اور کوئٹہ مینا مریکی سفارت خانے کو بند کرنے سمیت ملک بھر سے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کئے گئے تھے۔شرکائے احتجاجی دھرنا نے سرو ںپر سرخ و سیا ہ پٹیاں باندھ رکھی تھی جن پر لبیک یا حسین اور لبیک یا رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔واضح رہے کہ احتجاجی دھرنوں میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز کوئٹہ شہر میں ہزارہ ٹائون میں کرانی روڈ پر ایک دہشت گردانہ بم دھماکے میں 110شیعہ مسلمان شہید اور 200سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔دوسری طرف سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے 110شہداء کے خانوادوںنے اپنے عزیز و اقارب کے جنازوں کو اس وقت تک سپرد خاک کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان ،شیعہ علماء کونسل،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ،جعفریہ الائنس پاکستان اور دیگر ملی و قومی جماعتوں کے رہنمائوںنے احتجاجی دھرنوں میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں جاری احتجاجی دھرنے اس وقت تک ختم نہیں کئے جائیں گے جب تک کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ رہنمائوں کاکہنا تھا کہ سانحہ علمدار روڈ میں 80سے زائد معصوم اور بے گناہ شیعہ مسلمانوں کی شہادت کے وقت اگر ملت جعفریہ کا یہ مطالبہ بھی گورنر راج کے ساتھ ساتھ تسلیم کیا جاتا تو آج 110معصوم انسانی جانوں کا زیاں نہ ہوتا۔
سانحہ کوئٹہ کے خلاف شہر کراچی میں جاری احتجاجی دھرنوں میں مرکزی احتجاجی دھرنا نمائش چورنگی پر جاری ہے جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما سلیم ضیائ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما وسیم آفتاب،جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی،نصر اللہ شجیع،نسیم صدیقی،سنی تحریک کے رہنما شکیل قادری،جمعیت علماء پاکستان کے رہنما انس نورانی،تاجر برادری کے چیئر مین جمیل پراچہ سمیت سنی اتحاد کونسل کے رہنمائوںنے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ ملت جعفریہ پاکستا ن کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کر کے ملت جعفریہ کی نسل کشی میںملوث دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button