مضامین

جے یو آئی اے (ف) کا جمہوری ریکارڈ

molana fazal ur rehmanجمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) نے بلوچستان حکومت کی برطرفی کے مسئلے پر جورد عمل ظاہر کیا ہے، اس پر حیران فقط وہ افراد ہیں جو اس جمعیت کے ماضی سے ناواقف ہیں۔ اور جو افراد ناواقف ہیں ان کی معلو مات میں اضافے کی نیت سے یہ تحریر پیش خدمت ہے۔ لیکن پہلے یہ بیان کردیا جائے کہ جے یو آئی (ف) کا موقف کیا ہے؟ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جمعیت نے بلوچستان میں ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز دی جو آئینی اور جمہوری بھی تھی، ملک میں تبدیلی کا راستہ صرف الیکشن ہے جو آئینی اور جمہوری راستہ ہے، جب وقت بھی کم رہ گیا ہو تو ایسے حالات میں اس طرح کے اقدامات سے غیر جمہوری قوتوں کو تقویت ملے گی۔ یعنی موصوف کا سارا زورآئینی اور جمہوری طریقوں کو اختیار کرنے پر ہے۔
وہ کسے گمراہ کرنا چاہ رہے تھے اور کیوں ایسے جاہلانہ بیانات دے رہے تھے، یہ سب اب سامنے آچکا ہے کیونکہ اب ان کی جمعیت نے اپنے ہی بیان کردہ آئینی اور جمہوری راستوں کو خود پر حرام قرار دیتے ہوئے مظاہروں اور ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ وہ اور ان کی جماعت بھول گئی کہ بلوچستان کی نااہل اور متعصب حکومت کوپاکستان کی سب سے بڑی آئینی اتھارٹی صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے تحت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا ہے۔ اس آرٹیکل میں واضح لکھا ہے کہ صوبے کی آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں اس شق کے تحت یہ آئینی قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔
لہٰذا یہ واضح ہوگیا کہ بلوچستان حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کا نفاذ آئین پاکستان کے تحت سو فیصد آئینی ہے۔ رہ گئی بات کہ یہ فیصلہ جمہوری بھی ہے تو وہ فراموش کر گئے کہ پورا پاکستان کوئٹہ میں دھرنا دینے والوں کے ساتھ ہم آواز تھا۔ پورے پاکستان میں دھرنا بھلے مجلس وحدت مسلمین کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر دیا گیا لیکن ان دھرنوں میں پاکستان کی ساری قابل ذکر جماعتوں کے قائدین نے شرکت کرکے اظہار یکجہتی بھی کیا اور مطالبات کی حمایت بھی کی۔ لہٰذا وہ نیند سے بیدار ہوں اور پاکستان کے عوام و خواص کے اس بے مثال جمہوری اتحاد کو تسلیم کریں۔
بلوچستان کے نااہل وزیر اعلیٰ کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ان کو برطرف کرنے والے صدر مملکت بھی پیپلز پارٹی کے عملی سربراہ ہیں۔ ان کے فیصلوں پر عمل کرنے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم پاکستان کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے لہٰذا جمعیت علمائے اسلام (ف) کو زیب نہیں دیتا کہ وہ پاکستانی حکمرانوں کے آئینی اور جمہوری فیصلے کے خلاف احتجاج کرے۔ انہیں اپنی غیر جمہوری اور غیر آئینی روش ترک کرنا ہوگی۔
معلومات میں اضافے کے لئے عرض کردیں کہ جمعیت علمائے اسلام کو یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی روش ورثے میں ملی ہے۔ فضل الرحمان کے والد مفتی محمود بھی اسی روش پر گامزن رہے۔ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں ملک پر خود کو مسلط کرنے والے غیر جمہوری حکمران جنرل ایوب خان جیسے تیسے صدر مملکت بن بیٹھے تھے اور جس آئین کے تحت ملک چلایا جا رہا تھا اسی آئین کے تحت صدر مملکت عہدے پر رہتے ہوئے دوبارہ صدر مملکت بننے کے لئے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ البتہ دو تہائی اکثریت کی حمایت سے آئین میں ترمیم کرکے وہ اس آئینی پابندی کو ترمیم کے ذریعے ختم کر سکتے تھے ۔ انہیں ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے جن دو ووٹوں کی ضرورت تھی ان میں ایک ووٹ حضرت مفتی محمود کا بھی تھا۔ جنرل ایوب خان کا مقابلہ محترمہ فاطمہ جناح سے تھا اور ملک بھر میں اتفاق رائے یہ تھا کہ اگر ایوب خان عہدے سی علیحدہ ہوکر صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے تو ہار جائیں گے۔
حضرت مفتی محمود نے ایوب خان کو ووٹ دے دیا ۔ ایک معروف تجزیہ نگارجو حافظ قرآن بھی ہیں، نے لکھاہے کہ مفتی صاحب کے اس ووٹ کو لوگوں نے اچھا نہیں سمجھا اور جمعیت کی جو ساکھ اچھی بن چکی تھی اس کو بھی دھچکہ لگا۔ مفتی صاحب پر اعتراض ہونے لگے تو انہوں نے اپنے دفاع میں کہا کہ چونکہ حزب اختلاف نے صدارت کے لئے مس فاطمہ جناح کو نامزد کیا تھا اور امکان تھا کہ اگر صدارت چھوڑ کر جنرل ایوب صدارت کا الیکشن لڑتے تو مس فاطمہ جناح پاکستان کی صدر بن جاتی اور اسلامی نقطہ نگاہ سے عورت کا سربراہ مملکت بن جانا غلط ہے۔ یہ ہی اسلامی نقطہ نگاہ سے بہتر تھا اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کا سربراہ مرد کو ہی رہنا چاہیے۔ بعد میں اسی مرد کے خلاف تحریک بھی چلائی۔
انیس سو ستر کے انتخابات میں جمعیت نے مرکز میں سات اور سرحد اسمبلی (خیبر پختونخواہ ) میں چار اور بلوچستان اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کا نام نیشنل عوامی پارٹی تھا اور اور بلوچستان کے موجودہ قوم پرستوں کی اہم شخصیات بھی باچا خان ،ولی خان کی پارٹی میں شامل تھے۔ مفتی محمود نے غیر جمہوری مطالبہ پیش کیا کہ وہ ایسی جماعتوں کی حمایت کریں گے جو انہیں سرحد کا وزیر اعلی بنائیں گی۔ ملاحظہ فرمائیے کہ اس وقت صوبائی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد چالیس تھی اور چار اراکین کے ساتھ مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔اور بالآخر وہ وزیر اعلیٰ بنادیئے گئے حالانکہ وہ رکن صوبائی اسمبلی بھی نہیں تھے۔
یہ بھی پوی دنیا پر واضح ہے کہ عالمی سامراج نے اپنے گماشتوں کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف سازشیں کیں۔ مفتی محمود اور ان کی جمعیت بھی پاکستان
قومی اتحادکے پلیٹ فارم سے اس سازش کا حصہ بنی ۔ بھٹو حکومت کو جنرل ضیاء نے غیر آئینی طور پر برطرف کردیا۔ جمعیت کے رہنمامولانا غلام غوث ہزاروی نے پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی۔ جب مارشل لا ڈکٹیٹر جنرل ضیا ء کو خفیہ انکوائری کے ذریعے معلوم چل گیا کہ نوے دن میں انتخابات کرانے کی صورت میں پیپلز پارٹی ہی کامیاب ہوگی تو اس نے الیکشن موخر کردیئے۔ مارشل لا حکومت نے پاکستان قومی اتحاد کی جماعتوں کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی اور جمعیت کے تین وزیر جنرل ضیاء کی حکومت میں شامل ہوگئے اوردس ماہ حکومت میں شامل رہے۔
مفتی محمود کی انیس سو اسی میں وفات کے بعد جمعیت کی قیادت کے معاملے پر جھگڑا ہوگیا اور جناب فضل الرحمان نے قیادت پر قبضہ کر لیا۔ جمعیت کے دو گروپ بن گئے اور اکوڑہ خٹک گروپ نے بعد میں سمیع الحق کو اپنے گروپ کا قائد بناڈالا۔ جنرل ضیاء کے غیر جماعتی الیکشن میں بھی جمعیت نے حصہ لیا ۔ انیس سو چورانوے میں جمعیت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کی اتحادی بن گئی۔ یوں فضل الرحمان نے مفتی محمود صاحب کی سنت کی خلاف ورزی کی اور ایک عورت کی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس اس کے اتحادی بھی بنے۔
صدر آصف زرداری سے ان کی ’’دوستی‘‘ ایسی رہی کہ وہ سال دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والے حکمران اتحاد کا حصہ بھی بن گئے۔ کہتی ہے خلق تجھ کو غائبانہ کیا اور آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھا جائے تو حضرت فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی شہرت کی وجہ معلوم ہو کہ وہ طالبان دور حکومت میں ڈیزل اٖفغانستان اسمگل کیا کرتے تھے۔ جمہوری اور آئینی طریقے سے منتخب بھٹو حکومت کو جنرل ضیاء کے غیر جمہوری طریقے سے برطرف کروانے والے مفتی محمود سے لے کر مولانا ڈیزل تک جمعیت کی ایک طویل تاریخ ہے جسے بیان کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ حضرت فضل الرحمان ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ کو غیر منطقی قرار دے چکے ہیں تو اب خود کیوں اس ڈگر پر چل رہے ہیں۔
فقط دو ماہ کی مدت کے لئے بلوچستان پر حکمرانی کی خواہش رکھنے والے فضل الرحمان اور ان کی جمعیت بلوچستان کی برطرف حکومت کے وزیر داخلہ کے بیانات کو کیوں بھول گئے ۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ بلوچستان کابینہ کے بعض وزراء خود دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اسلم رئیسانی اتنے سنگدل اور بے حس وزیر اعلیٰ تھے کہ زائرین کی بسوں پر دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں پر قہقہہ لگاکر کہا کہ میں کیا کروں ،کہو تو ورثاء کو دو ٹرک ٹشو پیپر بھیج دوں تاکہ وہ اپنے آنسو پونچھ لیں۔ صدر زرداری نے کسی ہزارہ کو تو گورنر نہیں بنادیا جس پر اتنا واویلا مچایا جارہا ہے۔ گورنر بلوچستا ن ذوالفقار مگسی بھی تو بلوچ ہیں۔بلوچستان حکومت کی برطرفی پر پورا ملک مطمئن ہے کیونکہ یہ پاکستان کی آئینی جمہوریت کے عین مطابق ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button