پاکستانی شیعہ خبریں

سعودی وہابی حکومت نے عام انتخابات کے لئے من پسند جماعت کو چار بلین ڈالر فراہم کر دئیے

abullah nawazسعودی وہابی حکومت نے پاکستا ن میں انتخابات میں اپنی من پسند جماعتوں اور طالبان دہشت گرد حمایت یافتہ جماعتوں کو انتخابات کی مہم چلانے کے لئے چار بلین امریکی ڈالر جاری کر دئیے ہیں۔شیعت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق سعودی وہابی حکومت نے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں ناصبی یزیدی دہشت گرد گروہوں اور ان کی حمایت یافتہ جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کو چال بلین ڈالر کی امداد جاری کر دی ہے تا کہ عام انتخابات کے بعد پاکستان میں ناصبی ،طالبان اور دہشت گردوں سمیت امریکی حمایت یافتہ نظام قائم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے جاری کی جا نے والی غیر قانونی امداد کو حاصل کرنے میں پاکستان مسلم لیگ نواز پہلے نمبر پر ہے جسے 2بلین ڈالر فراہم کئے گئے ہیں جبکہ 20عدد مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑیان بھی نواز شریف کو دی گئی ہیں۔
اسی طرح ناصبی دہشت گردوں کی جانب سے قائم کی جانے والی متحدہ دینی محاذ اور ناصبی دہشت گردوں کے سربراہ ملا ڈیزل فضل الرحمان کو بھی 2بلین ڈالر جاری کئے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ وہ جماعتیں ہیں جو افغانستان میں امریکی و سعودی ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں جبکہ پاکستان میں فرقہ واریت اور مسلمانوں کے قتل عام سمیت کئی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔
یاد رہے کہ ملا ڈیزل فضل الرحمان اور متحدہ دینی محاذ سمیت پاکستان مسلم لیگ نواز اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ وہابی ناصبی سوچ کے حامل اور امام ابو حنیفہ کے پیرو کاروں میں سے ہیں۔یہ تمام گروہ پاکستان کو وہابی ناصبی دہشت گرد ریاست بنانا چاہتے ہیں جس کے لئے متحد ہو چکے ہیں او ر ان کی مدد سعودی وہابی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم سعودی وہابی ناصبی سفیر نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ایک ملاقات میں عمران خان سے کہا ہے کہ وہ شیعہ مسلمانوں سے زیادہ قریب نہ ہوں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد نہ رکھیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تاحال سعودی وہابی حکومت کی جانب سے انتخابا ت کے عمل میں دخل اندازی کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔جبکہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کے ناصبی دہشت گردوں کو جن پر سیکڑوں پاکستانیوں کے قتل کے مقدمات ہیں ان کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button