پاکستانی شیعہ خبریں

الیکشن کمیشن بلاتاخیر پرویز مشرف کو انتخابات لڑنے کی اجازت دے، علامہ مرزا یوسف

mirza shabآل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین نے سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کو نااہل قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جانبدارانہ اور متعصبانہ فیصلے سے پوری دنیا میں پاکستانی عدلیہ کی بدنامی ہوئی ہے، یہ عدالت کا انتقامانہ فیصلہ ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کرپٹ، لٹیرے، چور، دہشتگرد، بھتہ خور اور کالعدم تنظیموں کے شناخت شدہ قاتل اگر انتخابات لڑنے کے اہل ہیں تو پرویز مشرف نااہل کیوں؟ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی جانبدار ہے۔ بقول شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کے الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں سابقہ کرپٹ حکمرانوں اور اپوزیشن لیڈران کے نمک خوار اور حامی بیٹھے ہیں۔ ان سے انصاف، غیر جانبدار اور شفاف الیکشن کی کوئی امید نہیں یے۔

علامہ مرزا یوسف حسین نے مزید کہا کہ ایک غریب محب وطن ایک ماہ بجلی، گیس یا ٹیلیفون کا بل ادا نہ کرسکے تو اسکی لائن کاٹ دی جاتی ہے اور جن لوگوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا، دنیا میں کرپشن کا نیا ریکارڈ قائم کیا، بینکوں سے لئے گئے کروڑوں اربوں کے قرضے معاف کروائے۔ جو 62,63 پر پورے نہیں اترتے، یہ سب اہل قرار دیئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح جن دہشت گردوں نے GHQ، کامرہ ایئر بیس، کراچی نیوی ایئر بیس پر حملے کئے، جن لوگوں نے افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور ایف سی پر حملے کئے، سنی شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرکے مساجد، مدارس، امام بارگاہوں پر حملے کروا کر روزے داروں اور نمازیوں کو قتل کرنے والے شناخت شدہ دہشت گرد بھی اہل قرار دیئے جاچکے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک اور مملکت عزیز پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرناک علامت ہے۔

علامہ مرزا یوسف حسین نے کہا کہ پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرنے والے ہائیکورٹ کے جج شوکت صدیقی جو وکلاء تحریک میں پیش پیش رہا ہے، جسے گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا اور یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں یہ رہا ہوئے اور قانونی تقاضوں اور پروسس کو نظر انداز کرکے اسے جج بنایا گیا اور منصوبہ بندی کے تحت اسی کی عدالت میں یہ کیس بھیجا گیا۔ جس نے اپنی اوقات دکھاتے ہوئے انتقامی کارروائی کے تحت مشرف کی ضمانت منسوخ کرکے اس منصب کیلئے اپنے آپ کو نااہل ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے عوام اور ملک کے لئے بہت کام کیا ہے، اس دعوے کے باوجود یہ ساری سیاسی جماعتیں اکیلے پرویز مشرف کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ لہذا الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ بلاتاخیر پرویز مشرف کے کاغذات منظور کرکے الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دے، بصورت دیگر یہ سمجھا جائے گا کہ فخرالدین جی ابراھیم کے علاوہ دیگر چار افراد کی سیاسی جماعتوں سے وابستگیاں ہیں اور فخرالدین جی ابراہیم انڈر پریشر ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button