پاکستانی شیعہ خبریں

شہید سبط جعفر زیدی کی شخصیت کا تحفظ و تعارف واجب ہے، مجلس چہلم پر علماء کا خطاب

ali murtazaشہید راہ حق، معروف شاعر اہلبیت (ع) و پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج لیاقت آباد استاد پروفیسر سید سبط جعفر زیدی کے چہلم کی مناسبت سے قرآن خوانی و مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا، گذشتہ روز 20 اپریل بروز ہفتہ مسجد و امام بارگاہ شاہ کربلا رضویہ سوسائٹی ناظم آباد میں خانوادہ شہید سبط جعفر زیدی کی جانب سے مجلس عزا کروائی گئی۔ مجلس عزا میں سوز خوانی شہید کی جانب سے قائم کردہ ادارہ ترویج سوز خوانی نے کی جبکہ شجاع رضوی، میر حسن میر، میر تکلم، ریحان اعظمی، مختار فتحپوری نے سلام پیش کئے۔ مجلس چہلم سے مولانا سید علی مرتضیٰ زیدی اور مولانا رضی جعفر نقوی نے خطاب کیا۔ مجلس عزا میں معروف نوحہ خواں شادمان رضا، میر حسن میر، اسد آغا، ساجد جعفری و دیگر نے نوحہ خوانی کی۔ اس موقع پر خواتین و حضرات ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔

شہید پروفیسر سید سبط جعفر زیدی کی مجلس چہلم سے خطاب کرتے ہوئے مولانا علی مرتضیٰ زیدی نے کہا کہ شہید سبط جعفر زیدی کی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ آج ہر خاص و عام یہ کہہ رہا ہے کہ شہید سب سے زیادہ ان کے قریب تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہید پروفیسر ایک انتہائی ذمہ دار شاعر اہلبیت (ع) تھے۔ لاتعداد لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حضرت امام زمانہ (عج) کی غیبت پر توجہ شہید سبط جعفر کے کلام کے بعد دی، یعنی شہید پروفیسر نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو حضرت امام مہدی (عج) کی طرف متوجہ کروایا اور لوگوں کو غیبت امام (عج) کے دوران حقیقی معنوں میں مفہوم انتظار کی طرف متوجہ کیا۔ مولانا علی مرتضی زیدی نے کہا کہ جو دوست خصوصا شعراء حضرات، اگر شہید کی شخصیت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں دیکھنا پڑے گا کہ اس ذمہ دار شاعر کا طریقہ کار کیا تھا، شہید کس طرح تمام معاملات کو لیکر آگے بڑھ رہے تھے، کیونکہ ایک شاعر اپنے اشعار کے چند مصرعوں سے جو کام کرتا ہے، خطباء و مقرر حضرات کئی کئی گھنٹے صرف کرتے ہیں۔

مولانا علی مرتضیٰ زیدی نے کہا کہ شہید پروفیسر سبط جعفر زیدی کی شخصیت کا تحفظ و تعارف بہت ضروری ہے۔ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شہید کی شخصیت کی غلط تشریح کر دی جائے۔ شہید کی شخصیت کا صحیح تعارف اگلی نسلوں کیلئے ہمارے پاس محفوظ ہونا چاہئیے۔ شہید پروفیسر جن کاموں کو لیکر آگے بڑھ رہے تھے ہمیں بھی ان کاموں کو لیکر آگے بڑھنا ہوگا۔ چاہے وہ تعلیمی میدان میں تھے، چاہے وہ مرثیہ خوانی کے حوالے سے تھے۔ یہاں اہم ترین بات ہمیں یاد رکھنی چاہیئے کہ جن اصولوں پر وہ کام کر رہے تھے وہ اصول ان اداروں کے اندر نظر آنے چاہیئیں۔ مولانا علی مرتضیٰ زیدی نے کہا کہ ہمیں سبط جعفر زیدی کے نام پر صرف مرثیہ خوانی کا ایک ادارہ نہیں چاہیئے بلکہ شہید سبط جعفر زیدی کے اصولوں کے مطابق مرثیہ خوانی کا ادارہ چاہیئے۔ لہٰذا انکے اصولوں کو زندہ رکھنا چاہیئے اس طرح انکی شخصیت معاشرے میں مسلسل اپنا اثر دکھاتی رہے گی۔

مولانا رضی جعفر نقوی نے شہید پروفیسر سید سبط جعفر زیدی کی مجلس چہلم میں مصائب اہلبیت (ع) بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ شہید سبط جعفر اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن تھے۔ شہید بیس گریڈ رکھنے کے باوجود سادگی کی اعلیٰ مثال تھے۔ شہید مجالس و سوز خوانی کی رونق تھے، شہید سبط جعفر زیدی کی شہادت سے انکے شاگرد ایک بہترین تربیت کرنے والے سے محروم ہو گئے ہیں۔ شہید کا معمول تھا کہ دن کا بیشتر حصہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر ایک ادارے سے دوسرے ادارے کا چکر لگاتے۔ اپنی اہلیہ کو ساتھ لیکر غریبوں مسکینوں کے گھروں پر جاتے، بیواﺅں کی خبر گیری کرتے، یتیموں کی داد رسی کرتے ان پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے، مسائل کو حل کرتے۔ مولانا رضی جعفر نقوی نے مزید کہا کہ وہ سچے منتظر امام زمانہ (عج) تھے جو نہ صرف خود امام (عج) کی جانب متوجہ تھے بلکہ لا تعداد لوگوں کو غیبت امام (عج) کے اس پر آشوب دور میں امام زمان (عج) کی معرفت کرا رہے تھے۔ مولانا رضی جعفر زیدی نے اس موقع پر حکومت سے ان کے قتل میں ملوث تمام عناصر کر بےنقاب کرنے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے شہید سبط جعفر زیدی کے فرزند سید ابوزر زیدی نے کہا کہ شہید کی دوستی اور دشمنی ہر چیز اہلبیت (ع) کی خوشنودی اور انکی رضا کی خاطر تھی۔ وہ ہر بندہ مومن سے اس طرح ملتے کہ مولا کیلئے مل رہے ہیں اور اگر کسی سے کوئی عداوت بھی تھی تو وہ بھی اہلبیت (ع) کیلئے تھی، انکی رضا و خوشنودی کی خاطر تھی۔ لہٰذا شہید کے تمام چاہنے والے بھی اسی روش کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ شہید سبط جعفر قوم، اور بالخصوص نوجوانوں سے یہی چاہتے تھے کہ وہ بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کریں اور اپنا ذریعہ معاش حلال اور بہتر سے بہتر بنائیں تا کہ معاشرے کیلئے بہترین فرد ثابت ہو سکیں اور لوگوں کے کام آ سکیں۔

شہید کے فرزند ابوزر زیدی نے مزید کہا کہ شہید ہم (اولاد) سے ہمیشہ ایک ایسا انسان بننے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ جو حضرت محمد (ص) و آل محمد (ع) کی سیرت پر عملی حوالے سے گامزن ہو۔ شہید ہم سے کہتے تھے کہ اگر تعلیمات و سیرت اہلبیت (ع) کی روشنی میں ایک اچھا انسان بننے میں کامیاب ہو گئے تو مولا (ع) ہماری آواز میں درد اور لہجے میں خلوص خود ہی عطا کر دیں گے اور اس طرح ایک اچھا انسان ہی ایک اچھا سوز خوان بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے بھی ان کا یہی حکم تھا کہ
اپنے آپ کو ایک اچھا انسان بناﺅ، اچھا سوز خوان انشاءاللہ تم خود ہی بن جاﺅ گے۔ ابوزر زیدی نے قومی وحدت کے حوالے سے شہید سبط جعفر زیدی کے جذبات و خواہش کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ شہید سب کو ایک کرنے کی کوشش کرتے تھے، نہ صرف مسلک کے دائرے میں بلکہ وہ اتحاد بین المسلمین کیلئے بھی کوشاں تھے اور اس حوالے سے شدید خواہش رکھتے تھے۔ وہ ہر ایک سے یہی کہتے تھے کہ تمام مسالک کو مشترکات پر جمع ہو کر اسلام دشمن عناصر کا مقابلہ کرنا چاہیئے کیونکہ دشمن کا مقابلہ اسی طرح ممکن ہے۔ واضح رہے کہ امریکی پےرول پر پلنے والے دہشتگردوں نے 18 مارچ کو استاد پروفیسر سبط جعفر زیدی کو اس وقت اپنی فائرنگ کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا کہ جب وہ لیاقت آباد سندھی ہوٹل میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج سے باہر نکل رہے تھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button