پاکستانی شیعہ خبریں

آئی ایس او پاکستان ایک مستقل حقیقت ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اطہر عمران

ather imranامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ایک مستقل حقیقت ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آغا علی الموسوی نے کہا تھا کہ ایک بات کو اپنے دل پر تحریر کرلیں کہ آئی ایس او پاکستان ایک ایسی جمعیت ہے جسے توڑنے کے لئے ہرممکن کوشش کی گئی لیکن آئی ایس او کبھی بھی کسی مشکل سے ٹوٹ نہ سکی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیادوں میں مخلص اور باکردار علمائے کرام کا خلوص اور محنت تھی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا مقدس خون تھا۔ وقتی طور پر مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے لیکن ٹوٹ نہیں سکتی، ان خیالات کااظہار اُنہوں نے ملتان میں آئی ایس او پاکستان کے 41 ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے بزرگ عالم دین آغا علی الموسوی کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرماتے تھے کہ آئی ایس او پاکستان میرے لیے معیار کسوٹی تھا، میں جب کبھی مشکل حالات میں پھنس جاتا اور حقیقت کو درک کرنا مشکل ہوجاتا تو میں آئی ایس او کو دیکھتا، وہ جس طرف ہوتی وہی راستہ حق و حقیقت کا راستہ ہوتا۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ آئی ایس او پاکستان میرے لیے معیار حق تھا، معیار حق ہے اور معیار حق رہے گا۔

اطہر عمران نے مزید کہا کہ تنظیمیں اُس وقت خود بخود مر جاتی ہیں جب اُس کے کارکنان میں رشک کی بجائے حسد، خلوص کی بجائے ریاکاری، تعلیم کی بجائے تمسخر پیدا ہو جائے۔ تنظیمیں کبھی بھی اپنے نعروں، جھنڈوں، اجتماعات سے نہیں پہچانی جاتیں بلکہ نظریات کی وجہ سے پہچانی جاتیں ہیں۔ تنظیموں کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ اُس کے کارکنان اپنے نظریات پر باقی رہیں اور انہی نظریات سے اُس تنظیم کی سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اپنے نظریات پر سمجھوتے کا مطلب تنظیم کی موت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جو تنظیمیں اور تحریکیں اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرلیتی ہیں، اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی۔ وہ تنظیمیں کبھی بھی دوام کو نہیں پہنچ سکتیں، جن کے کارکنان کی جلوتیں اور خلوتیں ایک جیسی نہ ہوں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button