مضامین

کسی کو شہداء کے خون سے غداری نہیں کرنے دینگے، جن لوگوں نے سازشیں کی تھیں اللہ نے انہیں بے نقاب کردیا ہے، علامہ امین شہیدی

amin shaheediسانحہ کیرانی روڈ اور ملک گیر احتجاجی دھرنوں کے بعد پیش آنے والی صورت حال پر ڈپٹی سیکریٹری جنرل مجلس و حدت مسلمین علامہ محمد امین شہیدی کا تفصیلی انٹر ویو

سوال: کیرانی روڈ واقعہ پر تمام شیعہ تنظیموں نے ملکر احتجاج کیا۔ اس سارے عمل کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: جیسا کہ آپ سب کے علم ہے کہ گذشتہ دنوں کوئٹہ کے اندر ایک مرتبہ پھر انتہائی ہولناک واقعہ پیش آیا، جس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے، لیکن آخری اطلاعات تک 114 افراد جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ اس واقعہ کے ردعمل میں جہاں شہداء کے لواحقین نے جنازے لے کر دھرنا دیا، وہیں پر پورے پاکستان کے اندر اور پاکستان کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں شیعیان حیدر کرار اور وہ لوگ جن کے دل مظلوموں کی مظلومیت پر دھڑکتے تھے، جن کے اندر انسانیت تھی، انہوں نے بھی دھرنے دے کر مظلوموں کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ دھرنے کسی خاص جماعت یا کسی خاص گروپ کے نہیں تھے، ان دھرنوں کے حوالے سے جہاں مجلس وحدت مسلمین نے کال دی، وہیں پر شیعہ علماء کونسل نے بھی کال دی، وہیں پر طلبہ تنظیموں میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر تنظیموں نے بھی کال دی، وہیں پر آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی اور اس طرح کی دیگر جماعتوں نے بھی کال دی۔ گویا یہ سب کی ایک مشترکہ اور بھرپور کاوش تھی اور بیداری کا اظہار تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک کے اندر اور پاکستان کے مختلف مقامات پر اور تقریباً 750 سے زائد مقامات ایسے تھے، جہاں پر دھرنے دیئے گئے اور بے پناہ تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے ایئرپورٹس بند ہوگئے، ریلوے لائنز بند ہوگئیں، شاہراہیں بند ہوگئیں، شہری زندگی معطل ہوگئی، تعلیمی ادارے خصوصاً سندھ میں بند ہوگئے اور یوں لگ رہا تھا کہ اس عظیم ظلم کے خلاف پورا پاکستان یک آواز ہو کر میدان میں اتر آیا ہے۔ اسی سلسلے میں ان معاملات کو سنبھالنے اور عوام کی حمایت کے لیے ہم کوئٹہ پہنچے۔

17 فروری وہ دن ہے کہ جب 10 جنوری 2013ء کے شہداء کا چہلم منایا جا رہا تھا۔ ہمارے کوئٹہ پہنچنے کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا اور اس طرح سے جو لوگ، علماء، بزرگان 10 جنوری کے شہداء کے چہلم کی نیت سے وہاں گئے تھے، انہیں ان نئے شہداء کا استقبال کرنا پڑا اور ان شہداء کے لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ جب ہم نے کوئٹہ یکجہتی کونسل سے بات کی کہ آگے کی منصوبہ بندی کیا ہے، چونکہ وہ میزبان تھے اور کوئٹہ میں اسٹیک ہولڈر وہی ہیں۔ ہم ان کی مدد کرنے کے لیے اٹھے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا تو محسوس ہوا کہ ان کے پاس کوئی ایسے مطالبات نہیں ہیں، لہٰذا 10 جنوری کے شہداء کے چہلم کے موقع پر حاجی قیوم چنگیزی نے کوئٹہ یکجہتی کونسل کی طرف سے اپنی قرارداد سنائی تو اس میں ایک کے علاوہ باقی ساری چیزیں تشریفاتی تھیں، ان میں سے کوئی اور مطالبہ نہیں تھا اور وہ ایک نقطہ بھی جس کی طرف میں نے اشارہ کیا، وہ یہ تھا کہ اخبارات اور میڈیا میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور اہل سنت والجماعت کے نام سے جو بیانات چھپتے ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔

یہ افسوس کا مقام تھا کہ پوری ملت غمزدہ ہو اور سڑکوں پر ہو اور ہمارے پاس اس غمزدہ ملت کو اس مشکل سے نجات دلانے کے لیے کوئی پلان اور کوئی پروگرام نہ ہو، لہٰذا ہم نے ایک ٹیم بنائی اور اس ٹیم نے بیٹھ کر شہداء کے لواحقین سے گفتگو کی اور وہاں کے اکابر اور ایسے لوگ جو اہل دانش ہیں، کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایسی فہرست تیار کی، جو بنیادی طور پر وہاں کی عوام کے مطالبات کی شکل رکھتے تھے۔ یہ مطالبات ابتدائی طور پر آٹھ مطالبات تھے۔ میں نے 17 فروری کو بروری میں دھرنے دینے والے ان ہزاروں سوگواروں سے خطاب کیا تو اس میں مطالبات کی ایک ہلکی سی فہرست بیان کی اور اگلے دن جب مطالبات کی پوری شکل بن چکی تو میں گیا اور جا کر تمام مطالبات لوگوں کے سامنے رکھے اور کہا کہ یہ وہ مطالبات ہیں جو آپ چاہتے ہیں، سب نے اس کی تائید کی اور بھرپور نعروں کے ساتھ اس کا جواب دیا۔

سوال: جب کہا گیا کہ ہمارے مطالبات مان لئے گئے ہیں، لہٰذا ہم دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مطالبات منظور نہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: دیکھیں، اس سے پہلے میں ایک وضاحت کروں کہ شروع شروع میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے جب یہ دیکھا کہ پاکستان بھر کی تمام دینی تنظیموں کا اس موقع پر اتحاد سامنے آ رہا ہے اور کوئٹہ کے مسائل ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں، تو انہوں نے بھی دھرنا ختم کرنے کی پوری کوشش کی اور اس میں انہوں نے یہی کہا کہ ہمارے شہداء کے لواحقین دھرنا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرف سے مولانا ولایت حسین جعفری صاحب شہداء کے لواحقین کے پاس گئے اور ان سے بات کی کہ کیا آپ دھرنا ختم کرنا چاہتے ہیں یا دھرنا جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ شہداء کے تمام لواحقین نے کہا کہ علمائے کرام جو فیصلہ کریں گے، ہم اسی فیصلے کے مطابق کھڑے رہیں گے اور دھرنا تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک علمائے کرام کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، لہٰذا دھرنا جاری رہا، اگرچہ سی این بی سی اور بعض دیگر چینلز پر خبر چلی کہ دھرنا ختم کیا جا رہا ہے اور کل لاشوں اور جنازوں کی تدفین ہوگی، لیکن جہاں جہاں ہم سے پوچھا گیا، ہم نے واضح کیا کہ یہ افواہ ہے اور ایسی کوئی بات نہیں،
یہ بعض لوگوں کی انفرادی سوچ ہے، قومی سوچ نہیں۔ اگلے دن یعنی 19 فروری کو جب حکومت کی طرف سے ایک اعلٰی سطحی چھ رکنی وفد کوئٹہ پہنچا اور گورنر کی قیادت میں یہ کمیٹی مذاکرات کے لیے ہزارہ ٹاؤن پہنچی، تو اس سے قبل میں نے خود پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے، ہم لولی پاپ اور بہلاوے سے نہیں اٹھیں گے، بلکہ جس مقصد کے لیے ہم بیٹھیں ہیں، وہ مقصد پورا کرکے اٹھیں گے۔

عوام سے بھی اس سلسلے میں بھرپور تائید لی اور شہداء کے لواحقین سے بھی اس سلسلے میں بھرپور تائید حاصل کی۔ تائید حاصل کرنے کے بعد ہم جرگہ میں جو کہ ہزارہ ٹاؤن میں واقع ایک گھر میں تھا پہنچے، جہاں پر وفاقی حکومت کے نمائندے تشریف لائے تھے۔ مطالبات کی فہرست جو کہ گفتگو کے بعد 8 نکات سے 23 نکات تک جا پہنچی، وہاں کے ایک ایک گھر کو درپیش مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مطالبات ترتیب دیئے گئے، جن کی تعداد 8 سے بڑھ کر 23 ہوگئی۔ یہ مطالبات کی فہرست سردار سعادت اور حاجی عبدالقیوم چنگیزی کو دی گئی۔ حاجی عبدالقیوم چنگیزی نے گورنر بلوچستان کو مخاطب کرکے پڑھنا شروع کر دئیے۔ چنگیزی صاحب نے پہلے مطالبے کو نہیں پڑھا (یعنی کوئٹہ فوج کے حوالے کیا جائے)، اس پہلے مطالبے کے علاوہ باقی سارے مطالبے پڑھ کر سنائے گئے۔

یہ وہ مطالبات تھے جو حکومت کے سامنے پیش ہوئے اور ہر مطالبے پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ کچھ جگہوں پر اختلافات ہوئے۔ اس میں جو پہلا مطالبہ تھا کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے، اس کو آخر میں ہم نے اٹھایا، کیونکہ یہ نقطہ کوئی بھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جب ہم نے یہ مطالبہ اٹھایا کہ کوئٹہ کو کیوں فوج کے حوالے نہیں کیا جاتا تو سب سے پہلے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں نے اٹھ کر کہا کہ ہمیں فوج نہیں چاہیے، ہمارا کوئی ایسا مطالبہ نہیں، کوئٹہ ہمارا شہر ہے اور جب ہمیں فوج کی ضرورت نہیں تو پھر کسی اور کو حق بھی نہیں۔ اس کے بعد سردار سعادت علی ہزارہ نے اسی بات کی تائید کی اور کہا کہ یہ ہمارا مطالبہ ہرگز نہیں کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ ہم چونکہ مہمان تھے۔ اگرچہ یہ ہمارا مطالبہ تھا کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کیا جائے اور یہ مطالبہ پورے پاکستان کے سامنے رکھا تھا اور ہر دھرنے میں اس مطالبے کو پیش کیا گیا، لیکن چونکہ شہر ان کا تھا، لہٰذا جب انہوں نے اس مطالبے کو رد کیا تو ہماری پوزیشن کمزور پڑگئی۔ اس کے باوجود ہم نے یہ کہا بلکہ یہ بات میں نے خود کی کہ چونکہ محفل میں تمام اکابر اور عمائدین موجود تھے۔

میں نے وہاں پر یہ عرض کیا کہ کوئٹہ میں فوج کو بلانے کا بنیادی مقصد شہر کے اندر ٹارگٹڈ آپریشن ہے، اگر کوئٹہ کے لوگ اس مطالبے کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم پھر بھی اس سے دستبردار نہیں ہو رہے۔ ہم گورنمنٹ سے پوچھتے ہیں کہ حکومت فوج کو لانے سے کیوں گریزاں ہے، اس سوال پر قمر زمان کائرہ اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی بول پڑے۔ ذوالفقار مگسی صاحب کا فرمانا تھا کہ آپ علمائے کرام ایک کمیٹی تشکیل دیں وہ ہمارے ساتھ چلے، ہم فوج کے ساتھ بات کرتے ہیں، اگر وہ مانتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن فوج کبھی بھی آنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے فوجی کرنل کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ بھی فوجی ہیں اور کور کمانڈر کے زیر اثر ہیں اور کور کمانڈر کی زیرنگرانی ہم ایف سی کے ذریعے سے اور رینجرز کے ذریعے سے آپریشن کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے، تاکہ ہم ٹارگٹڈ آپریشن کے مطالبے کو پورا کرسکیں۔ آپریشن فوجی ہی ہوگا لیکن ہم فوج کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ آئین کے آرٹیکل نمبر 245 کے مطابق فوج کو اگر حکومت بلائے تو فوج پابند ہے، لیکن آپ پاکستان کی سیاست کو بڑے اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔

یہاں پر ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ فوج اور طرح کا بیان دیتی ہے اور سیاسی حکومت اور طرح کا بیان دیتی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ فوج کو مکتب اہل بیت (ع) اور مسلمانوں کے بہنے والے خون کی قیمت اور قدر کا احساس نہیں۔ بہرحال اس گھر میں حکومتی وفد کے سامنے اس حوالے سے کوئی اور بولنے کے لیے تیار نہیں تھا، تو ہم نے ٹارگٹڈ آپریشن کے موضوع پر ان کے ساتھ توفق کیا اور انہوں نے جب اس بات کا اعلان کیا کہ ہم نے 170 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے ساتھ چار بندوں کو مار دیا ہے اور باقی بندوں کا ہم پیچھا کر رہے ہیں اور اسی طرح آپریشن جاری ہے، اور تب تک یہ آپریشن جاری رہے گا جب تک ہم دہشت گردی کے ان مراکز کو ختم نہیں کر لیتے۔ جب یہ بات ختم ہوئی تو ہم اس کے بعد اگلے موضوع کی طرف آئے، اگلے موضوع میں جو بات تھی کہ شہداء کے لیے پلاٹ دیئے جائیں۔

اس کے علاوہ ہر شہید کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے اور ہر زخمی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے، لیکن حکومت 10 لاکھ روپے شہید کے لواحقین اور 5 لاکھ روپے ہر زخمی کو دینے کے لیے آمادہ ہوئی۔ جہاں تک پلاٹ کی بات ہوئی تو ذوالفقار مگسی صاحب نے کہا کہ ہم جھل مگسی میں تو پلاٹ دے سکتے ہیں، لیکن کوئٹہ میں ایسی سہولت موجود نہیں، اس لیے میں جھوٹے وعدے نہیں کرنا چاہتا۔ اب ان باتوں پر جب سب نے ان مطالبات کی منظوری پر اکتفاء کیا تو طے پا گیا کہ ہم ان مطالبات کی عملی شکل کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بنائیں گے، جو کمیٹی حکومت کے ساتھ روز بروز بیٹھ کر ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جائزہ لے گی اور اس سے قوم کو بھی آگاہ کرے گی اور اس کی گارنٹی تمام لوگوں سے لی، جو حکومت کی طرف سے وہاں پر آئے ہوئے تھے۔

جب یہ باتیں مکمل ہوچکیں اور تما
م لوگ اس پر مطمئن تھے تو اس کے بعد ذوالفقار مگسی صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ دعا کرائیں، میں نے کہا کہ نہیں دعا ہمارے بزرگ کرائیں گے، علامہ ساجد علی نقوی صاحب یہاں پر تشریف فرما ہیں، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ علامہ ساجد علی نقوی صاحب نے دعا کروائی اور دعا کے اختتام کے بعد طے پایا کہ پریس کانفرنس کی جائے اور پریس کانفرنس کے ذریعے سے یہ پیغام عوام تک پہنچا دیا جائے، پریس کانفرنس جو بھی ہوئی، آپ سب نے میڈیا پر اسے ملاحظہ کر لیا۔

سوال: اس کے بعد کیا ہوا؟ جب خطابات شروع ہوئے تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے کہا کہ ہمیں مذاکرات منظور نہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: جی میں اسی طرف ہی آ رہا ہوں، اس کے بعد یہ سارا طبقہ دھرنے میں لوگوں کے سامنے آیا اور وہاں پر علامہ جمعہ اسدی صاحب نے اپنی اس کامیابی کے حوالے سے لوگوں کو خوشخبری دی اور لوگ بھی بہت مطمئن ہوئے اور لبیک یاحسین (ع) و ہیھات من الذلہ کے نعروں کے ساتھ انہوں نے بھرپور استقبال کیا، اس کے بعد میں نے تقریر کی، اپنی تقریر میں منظور شدہ مطالبات کی کلی طور پر تفصیل لوگوں کو بتائی۔ میری تقریر کے بعد مولانا افضل حیدری صاحب کی باری تھی، البتہ مولانا افضل حیدری صاحب سے پہلے سردار سعادت صاحب نے چند جملے کہے، اس کے بعد مولانا افضل حیدری صاحب نے تقریر کی۔ اس دوران ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی جو قومیت کی ترویج اور دین اسلام کی نابودی کے لیے سرگرم ہے، اس پارٹی کے کچھ لڑکے اسٹیج پر آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ملاؤں کو آگے نہیں آنے دیں گے، لہٰذا جب فوری طور پر مولانا افضل حیدری صاحب کی تقریر ختم ہوئی تو نعرے لگائے گئے اور اس پورے ماحول کو خراب کیا گیا، جب ماحول خراب ہوا تو یکدم میڈیا نے بھی منفی رپورٹنگ شروع کر دی اور جیسا کہ آپ کو معلوم بھی ہے کہ ایسے مواقع پر میڈیا منفی پروپیگنڈا کتنی جلدی کرتا ہے اور یوں ہمارے میڈیا نے اپنی روایت برقرار رکھی اور ایسا ہی ہوا، فوری طور پر میڈیا نے یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ شہداء کے لواحقین نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا، جبکہ شہداء کے کسی بھی وارث کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔

سوال: اس ساری صورتحال کے بعد کیا ہوا۔؟
علامہ امین شہیدی: جی اس کے بعد ہم فوراً ایک کمرے میں آئے اور وہاں پر 10 رکنی ایک وفد بنایا اور اس وفد کو شہداء کے خانوادوں کے پاس بھیجا۔ وہاں پر صورتحال کچھ اس طرح تھی کہ دھرنا ایک گراؤنڈ میں تھا اور شہداء کی لاشیں امام بارگاہ میں موجود تھیں اور شہداء کے تمام لواحقین اپنے اپنے جنازوں کے ساتھ وہاں پر تشریف فرما تھے۔ لہٰذا شہداء کے لواحقین سے بات چیت ہوئی اور انہوں نے مجھے خود فون کرکے اور آ کر کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور پوری طرح سے آپ پر اعتماد کرتے ہیں، شہداء کے لواحقین نے مجھ سے کہا کہ ہم علمائے کرام کے ساتھ ہیں اور جو آپ نے فیصلہ کیا ہے وہ سر آنکھوں پر تسلیم خم ہے، ہم قبول کرتے ہیں، اس لیے ہم کسی کی شرانگیزی میں نہیں آئیں گے۔ جب انہوں نے یہ بات کی اور انہوں نے کہا کہ یہ بات آپ خود میڈیا سے کریں کہ وہ قوم کو یہ پیغام دیں، لہٰذا اس کے بعد ہم نے رات کو 12 بجے امام بارگاہ میں چلے گئے اور وہاں پر شہداء کے تمام لواحقین کو اکٹھا کیا اور سب کی باتیں سنی گئیں اور سارے مطالبے ایک ایک کرکے انہیں بتائے گئے اور تمام تر تفصیلات بتائی گئیں، اس کے بعد شہداء کے لواحقین نے اعلان کیا کہ ہم کل صبح ان جنازوں کو دفنائیں گے اور اس دھرنے کو ہم خود کل ختم کرائیں گے۔ اس کے بعد آپ سب نے دیکھا کہ رات کو تقریباً ساڑھے 12 یا 1 بجے کے قریب پریس کانفرنس کی گئی، جو میڈیا پر لائیو چلی، اس میں شہیدوں کے لواحقین و عزیزوں نے خود آکر یہ باتیں کیں اور ان مطالبات کو تسلیم کرنے اور دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ہم نے وہاں پر بھی کہا تھا، آج بھی کہتے ہیں اور آئندہ بھی کہیں گے کہ ہمارا دین ہمیں استقامت سکھاتا ہے، ہمارا دین ہمیں پاکیزگی سکھاتا ہے، ہمارا دین ہمیں اجتماعی میدان میں بصیرت سکھاتا ہے۔ جن میں بصیرت کی کمی ہوتی ہے، وہ اپنی سادگی کی وجہ سے دشمن کی چالوں میں آجاتے ہیں۔ سادہ لوح لوگوں کو ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے جو ایک دین مخالف قوت ہے، جس نے شہدائے کوئٹہ کے خلاف اور دین کے خلاف جو سرگرمیاں دکھائیں، وہ سارے شہر اور لوگوں کو پتہ ہے، ان کی ان سرگرمیوں کو تاریخ نہیں بھولی اور نہ ہم بھولے ہیں، لیکن ان کی اس سازش میں ہمارے بعض سادہ لوح لوگ ان کے کام آگئے۔ جب شہداء کے لواحقین نے یہاں پر پوری طرح سے حمایت کا اعلان کیا اور ہم اٹھے تو تب کوئٹہ کے اندر ایک لوکل ٹی وی چینل نے (جو ہزارہ کمیونٹی میں چلتا ہے اور اس کو چلانے والا بھی ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک گروپ ہے، اس گروپ کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی MAGIC کے نام سے ٹی وی چینل چلاتے ہیں) فوراً اسٹیج پر جا کر نعرہ لگا دیا کہ دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا، جینا ہوگا مرنا ہوگا۔ شہداء کے لواحقین نے ان نعروں کے باوجود آکر اعلان کیا کہ ہم خود یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ تمام مطالبات ہمیں منظور ہیں اور کل ہم جنازے اٹھائیں گے۔

جب شہداء کے لواحقین نے یہ اعلان کیا تو HDP کی اس لڑکے اور اس لڑکی کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو پائی، لیکن باقی دنیا تو وہاں پر موجود نہیں تھی اور ٹی وی کی آنکھ نے تو صرف وہ منظر دکھایا جس میں اس لڑکی نے نعرہ بازی کی۔ لہٰذا بہت سارے دوستوں کو غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شہداء کے لواحقین نے ماننے سے انکار کیا ہے۔ الحمداللہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہ
ے۔ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قبر میں جانا ہے اور قبر میں نبی کریم (ص) اور علی مرتضیٰ علیہ السلام سمیت تمام آئمہ علیہ السلام کو جواب دینا ہے اور شہداء کا خون ایسا خون نہیں کہ جو رائیگاں جائے۔ جو بھی شہداء کے خون کے ساتھ غداری کرے گا، وہ نہ دنیا میں سرخرو ہوگا اور نہ ہی آخرت میں۔ اس لیے ہم نے آخری وقت تک یہ کہا اور ٹی وی پر بھی یہ کہا کہ جب تک ایک شہید کی فیملی بھی راضی نہیں ہوتی، ہمارے دھرنے ختم نہیں ہوں گے اور الحمداللہ جب تمام شہداء کی فیملیز راضی ہوئیں تو اس کے بعد دھرنوں کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

رات یوں گزری اور صبح 7 بجے HDP کی کچھ خواتین میدان میں اتر آئیں اور انہوں نے جا کر امام بارگاہ کہ جس میں شہداء کے جنازے موجود تھے، کو باہر سے تالے لگا دیئے۔ تالے لگانے کے بعد نعرہ بازی شروع کر دی۔ آپ ویڈیو کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔ میڈیا نے دوبارہ یہ خبر پھیلانا شروع کر دی کہ شہداء کی فیملیز نے جنازوں کی تدفین سے انکار کر دیا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ شہداء کے خانوادے تو امام بارگاہ کے اندر موجود تھے۔ ہمارا سوال یہ تھا کہ رات کو تو امام بارگاہ میں موجود شہداء کی فیملیز نے مطالبات کو تسلیم کیا تھا اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اچانک باہر خواتین کہاں سے آگئیں۔ جب دین نہ ہو، جب خدا کا خوف نہ ہو، تو پھر شہداء کے مقدس ترین لہو کو بھی اپنے کم ترین اور بے قیمت ترین مقاصد کے لیے اس طرح سے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوال: تو پھر تالے کیسے ٹوٹے اور کس طرح سے اس معاملے پر قابو پایا گیا۔؟
علامہ امین شہیدی: آفرین ہو ان شہداء کے وارثوں پر، جن میں علماء بھی تھے اور غیر علماء بھی تھے، پاکیزہ ترین لوگ تھے، خود جا کر اپنے ہاتھوں سے تالے توڑے اور اپنے جنازے نکالے، یہ لوگ نہ ان HDP کے بدمعاشوں کے دھونس میں آئے اور نہ ان کی سازش کا شکار ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنازہ ہوا۔ جنازے کے دوران بھی انہی لڑکیوں کو بھیجا گیا، تاکہ بدمزگی پیدا ہو اور وہ بدمزگی شہداء کی اپنی فیملیز نے دور کر دی، مقابلہ کیا اور اپنے جنازوں کو نہایت تقدس اور احترام کے ساتھ خود دفنایا۔ میں یہاں پر چند باتیں گزارش کروں گا کہ جو لوگ کوئٹہ کی صورتحال سے واقف نہیں، وہ پہلے کوئٹہ کی صورتحال کو سمجھیں، وہاں پر موجود قبائلی سسٹم کو سمجھیں، وہاں پر فعال لسانی گروپ کی فعالیت کو سمجھیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح سے امام خمینی (رہ)، رہبر معظم سید علی خامنہ ای، اسلامی انقلاب، تشیع کی روح کے دشمن ہیں اور کس طرح سے تشیع کو خراب کرنے کے لیے رات دن پروپیگنڈوں میں لگے رہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ امیر شام کی سازشوں کی طرح سے ہم بھی ان سازشوں کا شکار ہوں، جو دین کے نام پر اور خدانخواستہ اپنے مقدس مشن سے غلط فہمی کی وجہ سے ہٹ جائیں۔ اب بھی الحمداللہ جب یہ اعلان ہوا اور پورے پاکستان میں اور پوری دنیا بھر میں بھی دھرنے اسی وقت ختم کر دیئے گئے، البتہ کچھ دوستوں نے مناسب سمجھا کہ جب تک شہداء کی لاشوں کی تدفین نہیں ہوتی، اس وقت تک دھرنا بھی باقی رہے گا۔ بہرحال یہ ان کا جذبہ تھا جو اچھی بات ہے۔ جب اعلان ہوا کہ تدفین ہوچکی ہے تو انہوں نے اپنے دھرنے بھی ختم کر دیئے۔

یہاں پر دو باتیں اور ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایسے موقع پر جب فتنہ ہوتا ہے تو اس فتنے سے ہمیشہ آپ کا دشمن استفادہ کرتا ہے اور وہ دشمن آپ کو آپس میں لڑانے کے لیے ہی جدوجہد کرتا ہے، اس جدوجہد میں سادہ لوح لوگ مارے جاتے ہیں اور یہ ہمیشہ تاریخ میں ہوتا رہا ہے اور اب بھی میسجنگ کا ایک طوفان برپا کیا گیا اور پھر وہ جماعتیں جن کا وجود لسانیت پر ہے اور دین دشمنی پر قائم ہیں۔ انہوں نے شہداء کا پرچم اٹھا کر بیان بازیاں شروع کر دیں، چاہے وہ سندھ کی لسانی تنظیم ہو، چاہے وہ کوئٹہ کی لسانی تنظیم ہو، ہمیں افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر اور یہ سن کر کہ ایسے موقع پر شہداء کے خون کو ان لوگوں نے نہیں بخشا اور کچھ سادہ لوح لوگ ان کے ان پروپیگنڈوں اور ان سازشوں کی زد میں آگئے۔

سوال: اب تو حقائق بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں، اب موجودہ صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: جی ہاں! الحمداللہ یہ غبار چھٹ چکا ہے اور سب کو معلوم ہوچکا ہے کہ حقائق کیا تھے، آج اور کل جس طرح لوگوں کو آگاہی پہنچی ہے اور لوگوں نے اصل حقائق کو سمجھا ہے تو وہ شکوک و شبہات کا بادل چھٹ چکا ہے اور الحمداللہ لوگ اب مطمئن ہیں۔ ان تفصیلات کی تصدیق آپ ان تمام علماء اور ان تمام لوگوں سے کرسکتے ہیں، جو اس اجلاس میں موجود تھے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، چاہے ان کا تعلق مجلس وحدت مسلمین سے ہو، چاہے شیعہ علماء کونسل سے ہو یا آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی سے ہو یا کوئٹہ یکجہتی کونسل سے ہو یا ان کے علاوہ کوئٹہ کے دیگر علمائے کرام ہوں۔ جو حقائق میں نے بیان کیے ہیں وہ بالکل درست ہیں۔

سوال: کیا کوئٹہ کے لوگ علماء کرام اور مذاکرات سے مطمئن ہیں، دوسرا اس ساری صورتحال کو وہاں کے عام لوگ کس طرح سے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: میرے پاس کوئٹہ ہی کے ہزارہ دوستوں کے اتنے سارے میسج موجود ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا کہ ہم شرمندہ ہیں کہ HDP کی سازشوں سے آپ علمائے کرام کہ جنہوں نے اتنی قربانیاں دیں اور اس مقدس مشن کو سربلند رکھنے کے لیے جدوجہد کی، ان علمائے کرام کی کس انداز میں کردار کشی کی گئی اور لوگوں کو علمائے کرام سے اور دین سے دور کرنے کی سازش ہوئی۔ لیکن الحمداللہ وہ تمام کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور حق جیت گیا۔ قرآن کریم کا ی
ہ وعدہ ہے کہ پانی ہمیشہ صاف ستھرا باقی رہتا ہے، اس کے اوپر موجود جھاگ چند ابتدائی لمحوں کے لیے ہوتی ہے اور اس کے بعد جھاگ ختم ہوجاتی ہے۔ الحمداللہ جھاگ ختم ہوچکی ہے، غبار چھٹ چکا ہے اور لوگوں تک حقائق پہنچ چکے ہیں۔

سوال: آخر میں اسلام ٹائمز کے توسط سے کوئی پیغام دینا چاہیں۔؟
علامہ امین شہیدی: جی بس اتنا کہوں گا کہ اللہ تبارک و تعالٰی سے دعا ہے کہ ہماری زندگی کو شہداء کے مقدس مشن کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے اور ہماری زندگی کو اسی راہ میں صرف کرنے کی توفیق دے اور وہ دن جب ہم میں سے کوئی بھی شخص شہداء کے خون سے غداری کا سوچے، وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہو، اور اس کو خدا اٹھا لے۔ اللہ تعالٰی سے ایک اور دعا ہے کہ جب تک ہم زندہ ہیں، شہداء کی راہ میں زندہ رہیں اور جب دنیا سے اٹھنے لگیں تو ہمیں انہی شہیدوں کے ساتھ دنیا سے اٹھنا نصیب فرمائے۔ اسلام ٹائمز کا بہت بہت شکریہ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button