پاکستانی شیعہ خبریں

اعلی عدلیہ کے چیف شہید ججوں اور وکلاء کے لواحقین ہی کو انصاف فراہم کردے مولانا مختار امامی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے جمعہ کو ملک بھر سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں سانحہ مدرسہ حسینی پشاور اور کراچی میں جسٹس مقبول باقر پر دھماکوں کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا جبکہ ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی میں جامع مسجد خوجہ اثنا عشری کھارادر اورجامع مسجد دربار حسینی ملیر برف خانہ کے باہر مظاہرے کئے گئے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے زیر اہتمام مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مختار امامی ،مولاناعلی انوار،علامہ مبشر حسن، مولانا فرخ عباس رضوی قم ،حسن ہاشمی اور برادر سجاد اکبر نے کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کی سنگین واردات اورپشاور میں جامع مسجد مدرسہ حسینی اور گلگت دیامیرمیں سیاحوں پر دہشت گردی پر شدید غم و غصہ کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ملت جعفریہ لاشوں پر لاشیں اٹھانے کے باوجود ملکی سلامتی و استحکام کے لیے صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں بے گناہ مسلمانوں اور سیاحوں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خاموش اختیارکر رکھی ہے۔علمائے کرام کا کہنا تھاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری آزاد عدالتوں کو ایک تھپڑ تو نظر آ جاتا ہے لیکن سینکڑوں بے گناہ انسانوں کا خون نظر نہیں آتا، اب وہ کم از کم سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس مقبول باقر ہی کو انصاف فراہم کردیں کہ جنہیں کالعدم تکفیری دہشت گردوں نے بم دھماکے کے ذریعے عوام کو انصاف فراہم کرنے کی سزا دینے کی سازش کی اور اس قاتلانہ حملے میں نو افراد شہید ہوئے۔ عدلیہ دیگر شہید ججوں اور وکلاء کے لواحقین ہی کو انصاف فراہم کردے ۔ بالخصوص شیعان حیدر کرار ع کے قتل عام پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مولانا مختار امامی نے خطاب کرتے ہو کہا کہ کراچی سے خیبر تک دہشت گردوں کی عملی حکمرانی ہے اور اس حکمرانی کے آگے حکومت کی کوئی رٹ نہیں ، حکومت خاموش تماشائی بنی ہے اور اگر لب کشائی بھی کرتی ہے تو دہشت گردوں سے مذاکرات کی باتیں کرتی ہے جو دہشت گردو ں کے آگے سرنگوں ہونے کے مترادف ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button