پاکستانی شیعہ خبریں

جسٹس باقر پر بم حملے کا مرکزی ملزم کالعدم لشکرِ جھنگوی کا دہشتگرد گرفتار

پولیس اور حساس اداروں کی ایک مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایک ہلاکت خیز بم دھماکے کا مرکزی ملزم اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہوگیا ہے، اس بم دھماکے میں نو افراد ہلاک اور سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس مقبول باقر زخمیہوگئےتھے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ آج بروز بدھ 17 جولائی کی علی الصبح سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں کی جانے والی ایک کارروائی میں پولیس نے پچھلے ماہ جج کے قافلے پر حملے کے مشتبہ ماسٹر مائنڈ بشیر لغاری کو اس کے دو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کرلیا ۔
ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن ایک اینٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں بشیر لغاری زخمی ہوگیا، جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔
مشتبہ ملزم کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ لشکرِ جھنگوی کے ”آصف چھوٹو گروپ“ سے تعلق رکھتا ہے، یہ کالعدم شدت پسند تنظیم مختلف فرقہ ورانہ ہلاکتوں میں ملؤث رہی ہے۔
پچھلے مہینے جون کی 26 تاریخ کو ایک طاقتور بم دھماکے سے جسٹس باقر کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ برنس روڈ کے مصروف علاقے سے گزر رہا تھا۔
اس بم دھماکے سے رینجرز اور پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک، جبکہ جسٹس مقبول باقر سمیت 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس بم کو پارک کی گئی موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے اس علاقے میں دھماکہ کیا گیا جہاں ٹریفک کا بے انتہا رش ہوتا ہے اور یہ علاقہ شہر کا ہائی سیکیورٹی زون بھی ہے، یہاں سے چند گز کے فاصلے پر سندھ ہائی کورٹ کی عمارت ہے، اور قریب ہی سندھ اسمبلی، سندھ سیکریٹیریٹ اور صوبائی حکومت کے صدر دفاتر واقع ہیں۔
جسٹس باقر جو شیعہ کمیونٹی کے رکن ہیں، کا کہنا ہے کہ مذہبی شدت پسندوں، خاص طور پر لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کی ہٹ لسٹ میں ان کا نام شامل تھا۔
تحریک طالبان کے ایک ترجمان نے سینیئر جج پر ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، انہوں نے اپنے بیان میں کا تھا کہ جسٹس باقر کو طالبان اور مجاہدین کے خلاف دیے جانے والے فیصلوں کے بدلے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
جسٹس باقر کراچی میں قائم انسداد دہشت گردی عدالت میں بطور انتظامی جج کے خدمات انجام دے رہے تھے، اور ابتداء میں انہوں نے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت بھی کی تھی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button