مضامین

حزب اللہ اور جمہوریت

hizbulla forceآج جب ملکی اور عالمی حالات روز بروز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ایک طرح کی عالمی جنگ بپا ہے تو نظریات اور حکمت عملی کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بالعموم ہر طرح کے مسائل ہیں اور بالخصوص ملت تشیع کے خلاف اعلانیہ ایک خونی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ کئی افراد مختلف نظریات اور حکمت عملی پیش کر رہے ہیں، کیونکہ ملت کے مسائل کئی طرح کے ہیں اور انکا حل بھی پھر کئی طرح کا ہے۔ لہذا کچھ اہم حلقوں سے عملی سیاست میں وارد ہو کر ملت کے چند مسائل کا کسی حد تک مداوا کیا جائے۔ عملی سیاست میں وارد ہونا اور اپنے امیدواروں کو اسمبلیوں تک پہنچانا اور اس سے بھی بڑھ کر دہشت گردوں کی پارلیمنٹ تک رسائی کو روکنا اور جو پارلیمنٹ میں ہیں، انکا وہاں مقابلہ کرنا۔ یہ موجودہ وقت کی سیاسی حکمت عملی ہے جو چند شیعہ پارٹیوں نے تشکیل دی ہے۔ گو کہ یہ تمام مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ صرف ایک جہت ہے، اس مقصد کی کامیابیاں مکمل تو نہیں لیکن اہم ضرور ثابت ہوں گی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان باتوں کا حزب اللہ سے کیا تعلق، جو اس مضمون کا ٹائیٹل ہے؟ جواب اسکا یہ ہے کہ اوپر مختصراً بیان کی گئی سیاسی حکمت عملی جسکو شیعہ جماعتوں ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علماء کونسل نے اپنایا ہے اور جس پر بی بی سی نے بھی روشنی ڈالی ہے، تنقید کا شکار ہے۔ اس بےجا تنقید کے ارد گرد بےجا باتوں سے استدلال کیا گیا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں کہ جمہوریت کی اسلام میں جگہ نہیں اور نہ ہی حزب اللہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کسی جمہوری عمل پر منحصر ہیں۔ یہ دلائل نہ صرف کھوکھلے ہیں بلکہ تاریخی حقائق کو درک کرنے کی نااہلی ہے۔ حزب اللہ لبنان میں حرکت أمل کے بعد وجود میں آئی۔ جب امام موسٰی صدر کی بنائی ہوئی حرکت امل، 1978ء میں انکے غائب ہونے کے بعد اسلامی تعلیمات اور اقدار سے ڈگمکانے لگی اور مزاحمت کی وہ شکل پیش نہ کرسکی جو لبنان کی انقلابی ملت کی خواہشات کے مطابق ہو تو حزب اللہ وجود میں آنے لگی، لیکن حزب اللہ باقاعدہ قوت تب بنی جب اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر جارحیت کی، تاکہ فلسطینیوں کو وہاں سے نکالا جائے۔

1985ء میں حزب اللہ نے اپنے آپکو دنیا کے سامنے آشکار کیا اور اپنے وجود کا تین نقاطی مسودہ پیش کیا۔ جس میں تیسرا نقطہ لبنان میں ایک اسلامی حکومت کا قیام ہے۔ اس بات کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ اس وقت کا لبنان ایک داخلی خانہ جنگی کا شکار تھا، جہاں ہر روز جنگ، قتل و غارت، مسلم و مسیحی نفرتیں، اسرائیلی جارحیت تھی۔ مرکزی حکومت کمزور تھی اور ہر جگہ مسلح گروہ قابض تھے اور کچھ نے اپنے زیر تسلط علاقوں میں اپنی حکومت بنا رکھی تھی، کیونکہ شیعہ لبنان کے جنوب میں اور شمال مشرق کے دو بڑے علاقوں میں اکثریت رکھتے ہیں اور وہاں کمیونسٹ گروہوں نے شیعہ نوجوانوں کو اپنی صف میں شامل کر رکھا تھا، لہذا یہ ضروری تھا کہ وہاں انکو اپنی اصلی شناخت پر لایا جائے اور ساتھ ساتھ حکومت کی رٹ نہ ہونے کی کمی کو بھی پورا کیا جائے۔

لبنان کی خانہ جنگی تقریباً 15 سال چلی اور اسکا اختتام 1990ء میں شام اور سعودیہ کی مدد سے کیا گیا۔ سیاسی نظام میں کچھ سیٹوں کی تبدیلی اور معمولی رد و بدل کے بعد پرانے سیاسی نظام کو دوبارہ لاگو کیا گیا اور یوں لبنان میں امن دوبارہ لوٹ آیا. یہ ایک نیا لبنان تھا اور اس میں ریاست معمولی حد تک معاملات پر گرفت رکھتی تھی۔ سب گروہوں کو حارحیت ترک کرکے انتخابی عمل کی دعوت دی گئی۔ شیعہ، سنی اور عیسائیوں کو شراکت اقتدار کے فارمولے میں شامل کیا گیا۔ حزب اللہ واحد گروہ تھا جس کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی کیونکہ جنوبی لبنان میں اسرائیل ابھی بھی قابض تھا۔ 1992ء میں پہلے الیکشن ہوئے اور یہاں حزب اللہ نے خود کو بدل کر لبنان کے اسی پرانے نظام جو کہ فرانس کی دین تھا، میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ میں آٹھ سیٹِں جیتیں۔ اس طرح جمہوریت کو قبول کیا۔ یہاں حزب اللہ ایک مسلح گروہ سے بڑھ کر ایک سیاسی قوت بنی۔

یہاں اس بات پر غور کرنا اہم ہے کہ حزب اللہ کا 1980ء کی دہائی میں ولایت فقیہ کی پیروی میں مسلح جدوجہد کرنا، اس وقت کی اہم ضرورت تھی جسکی تاکید امام خمینی (رہ) نے کی اور انکی تائید بھی انکو حاصل رہی۔ اس وقت تک حزب اللہ نے کچھ فلاحی اور رفاعی کاموں کا آغاز بھی کیا۔ لیکن ایک اور جہت جو کہ سیاسی جہت تھی اور 1990ء میں حالات بدل چکے تھے، اس میں کام کرنا اسکے 1985ء کے اسلامی حکومت کے قیام والے تیسرے نقطہ سے عملی طور پر دست بردار ہونے کے متبادل تھا۔ البتہ نظریاتی طور پر حزب اللہ بلکہ کوئی بھی مذہبی جماعت اس اسلامی حکومت کی تشکیل سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔

یہاں ایسے سیاسی نظام میں وارد ہونا جو کہ فرانس کے دین اور غیر اسلامی تھا، حزب اللہ کی ایک سیاسی جدو جہد تھی، جس سے حزب اللہ نے اپنے لئے آسانیاں پیدا کیں۔ اپنے عسکری ڈھانچے کی حفاظت، ذرائع مواصلات کی نگرانی، جنوبی لبنان کی آزادی اور حقوق کے لئے سیاسی بازگشت۔ حزب اللہ نے یہ سب کیا۔ ادھر حزب اللہ کو یہ بھی احساس ہے کہ لبنان میں مسلمانوں اور مسیحوں کے ملا کر 18 مختلف فرقے موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے طریقہ سے زندگی بسر کرنا چاہتا ہے۔ حزب اللہ کے ایم پی علی عمار کے مطابق حب پارلیمنٹ میں شراب اور جوئے کے اڈوں پر بحث ہوتی ہے جو کہ لبنان مین کثرت سے ہیں تو حزب اللہ اس پر ب
حث نہیں کرتی اور نہ اس میں حصہ لیتی ہے۔ یہ بات اہم اس لئے ہے کہ حزب اللہ اپنے ووٹ کی طاقت سے پارلیمنٹ میں موجود رہ کر اپنے اور اپنے لوگوں کے حقوق کا دفاع کرتی ہے۔ یہ اسکا مختلف جہتوں پر کام کرنے کا ایک رخ ہے۔ اسکے عسکری، مذہبی، فلاحی اور ثقافتی کام اسکے علاوہ ہیں۔

ان باتوں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ حزب اللہ اپنے چند مسائل کے حل کے لئے لبنان کے غیر اسلامی جمہوری نظام میں شامل ہے، اپنے اہم اہداف، جن میں جنوبی لبنان کے آزادی اہم ہے، وہ اس نے اسلحہ سے ہی حاصل کی۔ لیکن سیاسی عمل کو اس نے اپنی مکمل نجات کا راستہ کہیں نہیں بتایا اور حزب اللہ سیاسی طاقت بھی ووٹوں کی وجہ سے بنی۔ یہی وجہ ہے کہ 2009ء کے الیکشن میں حزب اللہ اور اسکے اتحادی اکثریت حاصل کر پائے اور بعد میں سعد حریری کو بےدخل کر دیا۔ (یہاں 2009ء کے الیکشن میں حزب اللہ اور اسکے اتحادی جن کو 8 مارچ الائنس کہا جاتا ہے 55 % ووٹ حاصل کر بائے، اور لبنان کے شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت حکومت نہیں بنا سکے، لیکن بعد میں کچھ اور پارٹیوں کو ساتھ ملا کر سعد حریری کو بےدخل کرنے میں کامیاب رہے۔)

اس لئے اگر پاکستان میں علامہ ساجد نقوی یا علامہ ناصر عباس جعفری یہ کہیں کہ وہ تکفیریوں کا راستہ روکیں گے تو یہ چند مسائل کا ایک حل ہے نہ کہ مکمل حل۔ اس میں کامیابی اور ناکامی تو بعد کی بات ہے لیکن میدان میں حاضر رہنا اہم ہے۔ جب تک ملت تشیع پاکستان کے سیاسی نظام میں کچھ کامیابی حاصل نہ کرے دیگر سمتوں میں زیادہ آگے نہیں جاسکتی۔ حزب اللہ کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد سے بھی یہی سبق ملتا ہے۔ کوئی کہے کہ حزب اللہ جمہوری عمل کے بغیر ہی طاقت بن گئی تو یہ غلط ہے، لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ حزب اللہ ولایت فقیہ کی پیروی میں رہ کر ہی سب کچھ کر پائی، چاہے وہ سیاسی عمل ہو یا عسکری یا دیگر۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button