پاکستانی شیعہ خبریں

یوم القدس مستضعفین جہاں کا مستکبرین کیخلاف اٹھ کھڑے ہونے کا دن ہے، اطہر عمران طاہر

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ المصطفیٰ ہاؤس میں یوم القدس کے حوالے سے پریس کانفرنس سے مرکزی صدر اطہر عمران طاہر نے خطاب کرتے ہوئے یوم القدس، قومی و بین الاقوامی حالات اور پارا چنار دھماکوں پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی۔ مرکزی صدر نے کہا کہ ماہِ رمضان نہ صرف نفس کیخلاف جہاد بلکہ عالمی استعماری و استکباری قوتوں کے خلاف بھی کھڑے ہونے کا درس دیتا ہے، آج سے کئی برس قبل امام راحل روح اللہ خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے بیت المقدس کی آزادی اور اسرائیل کے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کیخلاف رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس صدا پر جہاں پوری دنیا کے باشعور مسلمانوں نے لبیک کہا تو سرزمین پاکستان پر امام خمینی کی اس صدا پر لبیک کہنے کا طُرہ امتیاز آئی ایس او پاکستان کو حاصل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوم القدس مظلوموں کا ظالموں اور مستضعفین جہاں کا مستکبرین کیخلاف برسرپیکار ہونے کا دن ہے، آئی ایس او پاکستان گزشتہ ادوار کی طرح اس سال بھی جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر منائے گی اور آئی ایس او کے تمام ڈویژنز میں ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ لاہور اور کراچی میں مرکزی ریلیاں نکالی جائیں گی، اس سلسلہ میں ملک بھر میں پروگرامات کے سیکورٹی و دیگر انتظامی امور کو عملی شکل دی جا چکی ہے۔

انہوں نے بحرین، یمن، مصر اور فلسطین کی بگڑتی صورتحال اور شام میں اہلِ بیت اطہار علیھم السلام اور صحابہ کرام (رض) کے مزارات مقدسہ پر حملوں کے بعد اسلامی ممالک اور او آئی سی کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے حالات پر گفتگو کرتے اطہر عمران کا کہنا تھا کہ پارا چنار دھماکے حکومت و سیکورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہر سانحہ کے بعد مذمتی بیانات سے ہٹ کر عملی اقدامات کریں اور 21 رمضان المبارک یوم علی علیہ السلام کے حوالے سے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہونے والے عزاداری کے جلوسوں کے فول پروف سیکورٹی اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات پر عدلیہ اور حکومت کو رویہ افسوسناک ہے، عدلیہ نے آج تک کسی بھی دہشت گرد کو سزا نہیں دی جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں خودکش بمبار کا ہزارہ ٹاؤن پر حملے سے پہلے مارا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس دہشت گردی میں کون ملوث ہے۔ اس موقع پر سابقہ چیئرمین آئی او پاکستان افسر حسین خان، مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان ابوذر مہدی، مرکزی جنرل سیکرٹری جواد رضا جعفری، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد امجد، مرکزی فنانس سیکرٹری ناصر عباس، انچارج محبین تجمل نقوی اور لاہور ڈویژن کے صدر عابد حسین نے بھی موجود تھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button