پاکستانی شیعہ خبریں

ایم ڈبلیو ایم کراچی کی جانب سے طوفانی بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے شعبہ فلاح و بہبود خیر العمل فاؤنڈیشن نے شہر قائد میں موسلادھار بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں ہیں۔ متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا کام جاری ہے جبکہ بڑی تعدادمیں متاثرین کیلئے افطار اور کھانے پینے کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی کی جانب سے کراچی کے علاقے کھوکھراپار اور امروہہ سوسائٹی میں ریلیف کیمپس بھی لگا دئیے گئے ہیں جہاں عوام الناس سے متاثرین کی مدد کیلئے کپڑے، دودھ، خشک غذائی اشیاء، صاف پانی اور نقد امداد جمع کرانے کی اپیل کی گئی ہے۔ کراچی میں جمعہ کے روز سے ہونے والی موسلادھار بارش کے نتیجے میں کراچی انتظامیہ کی جانب سے نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کے باعث شہر کے مضافاتی اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے شہریوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل حسن ہاشمی نے خیر العمل فاؤنڈیشن کے تمام رضاکاروں اور ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے جس کے بعد ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء مولانا دیدار علی جلبانی، انجینئر رضا نقوی، علی حسین نقوی، سجاد اکبر زیدی، حسن عباس رضوی اور ڈاکٹر حسن جعفر نے امروہہ سوسائٹی، سعدی ٹاؤن، سچل گوٹھ، جلبانی گوٹھ، ثومر کندھانی گوٹھ کھوکراپار کے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کیمپس اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان نے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں روزہ داروں کیلئے افطار اور کھانے کا انتظام کیا گیا۔

حسن ہاشمی نے اندرون سندھ اور دیگر حصوں میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر وحدت رضاکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے فوری طور پر وحدت ہاؤس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رہنماء ایم ڈبلیو ایم کراچی مولانا دیدار علی جلبانی نے مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بارش اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے ایم ڈبلیو ایم سے تعاون کریں تاکہ پریشان حال لوگوں کی بروقت مدد کی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین بارش کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بے گھر اور متاثرہ لوگوں کی مدد بلکل اسی طرح کریں گے جیسے تین برس قبل سیلاب متاثرین کی مدد کی تھی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button