پاکستانی شیعہ خبریں

ٹنڈو محمد خان میں حضرت رسول اللہ (ص) اور حضرت زینب (س) کی شان میں گستاخانہ چاکنگ

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر حضرت رسول خدا (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ وال چاکنگ اور پوسٹرز لگا دیئے گئے، انتظامیہ خاموش تماشائی، عاشقان مصطفیٰ کا ٹنڈو محمد خان تھانے کا گھیراؤ۔ تفصیلات کے مطابق تکفیری دہشت گردوں نے ٹنڈو محمد خان کی مسجد علی (ع) کے باہر حضرت رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ وال چاکنگ کی گئی اور پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے کے شیعہ و سنی عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

اس ساری صورتحال کے بعد علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ہیں جبکہ کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع ٹنڈو محمد خان کے سیکریٹری جنرل محب بھٹو نے کہا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے دنیا بھر میں شعائر اسلامی کی توہین کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، کبھی شام میں نواسی رسول بی بی زینب (س) اور اصحاب رسول (رض) کے مزارات پر حملے کئے جارہے ہیں تو کبھی پاکستان میں حضرت رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ چاکنگ کی جارہی ہے۔

محب بھٹو نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر ہم نے مجلس وحدت مسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، شیعہ علماء کونسل اور اصغریہ آرگنائزیشن کا مشترکہ اجلاس بلایا جس میں تمام تنظیموں نے انتظامیہ کو دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دینے اور کل بروز جمعہ شہر بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی انشاء اللہ برادران اہلسنت سے بھی رابطہ کرکے انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف اپنی آواز حق کو مزید طاقت بخشیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رحیم یار خان میں کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کے بیٹے ملک اویس نے تکفیری شعار تحریر کئے تھے اور یہ سلسلہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقت اپنی وطن اور اسلام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخی کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کرے تاکہ وطن عزیز کو فرقہ وارایت پھیلانے والے عناصر سے پاک کیا جاسکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button