پاکستانی شیعہ خبریں

شام کے حوالے سے عرب دنیا کا کردار ناپسندیدہ ہے، فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خطے سے امریکی اور نیٹو انخلا کے بعد افغان قیادت نے افہام و تفہیم سے کام نہ لیا تو افغانستان میں بدترین خونریزی کا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔ شام پر ممکنہ امریکی حملہ پراکسی وار کا حصہ ہے جس میں عرب دنیا ناپسندیدہ کردار ادا کررہی ہے۔ یہ باتیں انہوں نے چارسدہ میں ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ کے بھائی کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد ایم پی اے فضل شکور خان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کئے۔ اس موقع پر سنیٹر غلام علی، مولانا عبد الجلیل جان، مولانا غلام محمد صادق اور دیگر بھی موجود تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ماضی میں سوات میں طالبان کے ساتھ مذاکرات قطعی غیر آئینی تھے اور اس کا مقصد جنگ و جدل کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا۔ جس کے نتائج قوم نے خود دیکھ لئے۔ اے پی سی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کا جنگ شروع کرنا مشکل کام ہے لیکن جنگ کا روکنا مشکل ترین کام ہے۔ جمعیت علمائے اسلام امن کے لئے شدت پسندوں سے مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔ خطے میں قیام امن کے لئے جے یو آئی مرکزی حکومت میں شامل ہوئی ہے اور آج ہونے والے اے پی سی میں سیاسی قیادت اور فوج مل جل کر امن وامان اور طالبان سے مذاکرات کے لئے لائحہ عمل طے کرے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف عدم اعتماد یا گورنر راج کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ صوبائی حکومت کا شیرازہ خود بکھرنے والا ہے۔ حکومت میں شامل تمام اراکین اسمبلی کو وزراء کے برابر مراعات تبدیلی کے اثرات ہیں۔

کراچی کے صورتحال کے حوالے سے مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کو سندھ میں عوام نے ووٹ دئے اور قائم علی شاہ کی قیادت میں کراچی میں مجوزہ آپریشن پر اعتراضات کوئی معنی نہیں رکھتے البتہ سیاسی قائدین اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل قومی جرگہ کراچی بھیج کر قیام امن میں غیر معمولی کردار کا حامل ہوسکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ جرگہ قیام امن تک کراچی میں موجود رہے۔

افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ عالمی طاقتیں جہاں بھی جاتی ہیں تباہی و بربادی چھوڑ دیتی ہیں۔ نیٹو امریکہ کے انخلا کے بعد پاکستان اور افغانستان میں تب امن اور استحکام ہوگا جب انخلا کے بعد افغان قیادت افہام و تفہیم سے کام لیں ورنہ خطے میں تاریخ کی بدترین خونریزی کا خدشہ موجود ہے۔ شام پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ پراکسی وار کا حصہ ہے جس میں عرب دنیا کا کردار ناپسندیدہ اور افسوس ناک ہ

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button