پاکستانی شیعہ خبریں

لاہور میں آئی ایس او کی حمایت مظلومین جہاں ریلی، فضا امریکہ مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی

iso ralyyامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام حمایت مظلومین جہان ریلی ناصر باغ سے اسمبلی ہال تک نکالی گئی، جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں امامیہ طلباء نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں امریکہ مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر استعمار مخالف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس پاکستان کے نو منتخب مرکزی صدر اطہر عمران طاہر کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ دنیا میں جہاں بھی مظلوم ہوگا، ہم اسکی حمایت کریں گے اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج فلسطین، افغانستان، شام، بحرین، عراق سمیت کئی ممالک میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا جا رہا ہے، دنیا میں جتنی بھی آزادی کی تحریکیں ہیں، انکے خلاف عالم استعمار متحد ہوچکا ہے، امریکہ اور اس کے حواریوں کو امت مسلمہ کی سیاسی بیداری پسند نہیں، اسی لئے کبھی فلسطین میں حماس کی حکومت پسند نہیں کی جاتی تو کبھی مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور فوجی آمریت کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

آئی ایس او کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصری حکومت کے خاتمے کیلئے فنڈز تک مہیا کیا ہے، ان ممالک کا شام میں بھی کردار موجود ہے، جنہوں نے دنیا بھر سے امریکی ایماء پر دہشتگردوں کو جمع کرکے فنڈنگ کی اور اسلحہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے تو یہاں کہہ دیا کہ حملہ تم کرو پیسے ہم دیں گے، ہم ایسے ہر عمل کی مذمت کرتے ہیں جس کا مقصد اسلامی ممالک میں امریکہ کے اشارے پر حکومت کا خاتمہ ہو۔
اطہر عمران نے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اسے حکومتی ناکامی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت عوامی امیدوں پر پوری نہیں اتری، پچاس ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں سے مذاکرات کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انکے خلاف بے رحمانہ آپریشن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز کے دھماکے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ قاتلوں سے فقط آہنی ہاتھوں سے نمٹنا اس مسئلے کا حل ہے۔ انہوں نے پشاور میں حالیہ بم دھماکوں کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ امن و امان کی بحالی کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں، ریلی کے اختتام پر قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button