پاکستانی شیعہ خبریں

دہشتگردی میں ملوث افراد کا ڈیٹا ازسرنو جمع کرنیکا فیصلہ

banedگذشتہ دو دہائیوں سے بعض طاقتیں ملک میں دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ملوث عناصر کی سرپرستی کرتی آئی ہیں تاہم خفیہ اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت ملک میں 361 کالعدم اور ان کی ذیلی تنظیمیں چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت ملک بھر میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ 119 کالعدم تنظیمیں صوبہ خیبر پختونخوا، 90 سے زائد پنجاب جبکہ سو سے زائد کالعدم اور ان کی ذیلی تنظیمیں سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کالعدم اور ان کی ذیلی تنظیموں کا زیادہ تر نشانہ غریب گھرانوں کے 12 سے 24 سال کے نوجوان بنتے ہیں جن کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے وسائل نہیں ہوتے اور ان کے گھریلو حالات مالی تنگدستی کے باعث دگرگوں ہوتے ہیں۔ ان غریب نوجوانوں کو یہ تنظیمیں خاص طور پر لڑکوں کو مدرسوں میں تعلیم حاصل کروائی جاتی ہے اور وہیں انہیں عسکری ٹریننگ دی جاتی ہے، ملک کے مختلف علاقوں میں لے جا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے حساس اداروں کی جانب سے فہرست تیار کی گئی ہے جو اعلیٰ سطح کے اجلاس میں زیربحث آئی۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حساس اداروں کی جانب سے ان مدرسوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے ٹارگٹس کو پہلے ہی ناکام بنا دیا جاتا ہے لیکن بعض مدرسوں کی تفصیلات تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں نہیں ہیں جس کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کی فہرست کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس اداروں کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انکے خاتمہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا اور اس حوالے سے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں جبکہ ان کی رپورٹس بھی روزانہ کی بنیاد پر موصول ہو رہی ہیں۔ ان رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل میں تبدیلیاں بھی کر دی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردی میں ملوث افراد پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کا ڈیٹا نئے سرے سے جمع کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے محکمہ داخلہ نے ہڑپہ کے رہائشی عثمان امجد نامی نوجوان پر نظر رکھنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو ہدایت جاری کر دی ہے۔ عثمان امجد کے حوالے سے پتہ چلا ہے کہ دہشت گردی کی وارداتوں کو مانیٹر کرتا ہے اور دہشت گردوں کے ایک گروہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button