مضامین

دیوبندی علما کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کی تکفیر – آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے:حق گو

میں کوئی مذہبی دانشور یا شخصیت نہیں ہوں لیکن بطور عام مسلمان میرا یہ ماننا ہے کہ انسان کے ایمان و عقیدہ کی سچائی کا تعین کرنا صرف اور صرف الله کا کام ہے یا اس کے چنے ہوے پیغمبروں کا نہ کہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا – میں نے فتوے دیکھے ہیں جو کہ فروری انیس سو چھیاسی کے ہیں جس پر ملا سمیح ال حق کے والد ملا عبدل حق ، یوسف لدھیانوی اور نوردین شامزئی جو کے اس وقت سینیٹر بھی ہے دونوں بہت نامور دیوبندی علما ہیں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اور پچاس کے قریب دوبندی علما نے شیعہ مسلمانوں کے نہ صرف کفر کا فتویٰ دیا بلکہ انھیں واجب القتل بھی قرار دیا ہے – انجمن سپہا صحابہ،لشکر جھنگوی انہی فتووں کے نتیجے میں وجود میں آی اور تین دہایوں سے شیعہ نسل کشی کے نہ روکنے والے سلسلے میں ملوث ہے

کسی کو اگر یہ امید تھی کہ ضیاء الحق آھستہ آھستہ ہمارے معاشرے کے لاشعور سے نکل جائے گا تو یہ غلط فہمی ختم ہو جانی.چاہیے کم از کم مذہبی حلقوں کی حد تک تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے -جہاں ایک طرح اہل حدیث ملہا اسحاق مدنی اور جاوید غامدی صاحب کے نظریات جو شیعہ کو مسلمان کہتے اور مانتے ہیں ایک مثبت پیغام دیتے ہیں وہاں دوسری طرف صحافی انصار عباسی جیسے لوگ جو اہل سنت والجماعت سپاہ صحابہ کے سب سے بڑے حامی ہیں وہ اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ ایسا اپنے بل بوتے پر نہیں کر رہے بلکہ ان کے پیچھے کوئی ایسی خفیہ قوتیں کارفرما ہیں جن کے مراسم سپہا صحابہ کے ساتھ بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں ورنہ وہ ا عظم طارق جو سپاہ صحابہ کا لیڈر تھا اس کے پیش کردہ حرمت صحابہ بل کی حمایت کبھی نہ کرتا جس میں صرف شیعہ مسلمانوں کے خلاف کاروائی کا کہا گیا ہے اور انھیں کافر قرار دیا گیا ہے

انیس سو چھیاسی کے فتوے میں جن وجوہات پر شیعہ مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا وہ مندرجہ ذیل ہیں
1 :
شیعہ حضرت علی (ع) کی معبودیت میں یقین رختے ہیں اور انھیں حضرت محمد (ص )سے بلند مقام پر سمجھتے ہیں
2 :
شیعہ قرآن کی موجودہ شکل پر یقین نہیں رختے اور اس کو تحریف شدہ مانتے ہیں
3 : شیعہ صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں اور امہات المومنین کے بارے میں بھی اچھے خیالات کا اظہر نہیں کرتے بلکہ گالیاں دیتے ہیں
اب ان نقاط کو دیکھتے ہیں کہ یہ کس حد تک صحیح ہیں
حضرت علی (ع) کو ہم حضرت محمد (ص) کے غلاموں میں سے سمجھتے ہیں اور وہ نماز میں حالت سجدہ میں شہید کے گیے اگر وہ خدا ہوتا یا ہم انھیں خدا سمجھتے تو اس بات کا فخر سے ا علان کیوں کرتے؟اگر وہ خدا ہوتے تو نماز کیوں پڑھتے اور اپنے بیٹے تیسرے شیعہ امام حضرت امام حسین (ع) کی طرح نماز میں شہید کیوں ہوتے؟ اور خدا کیا شہید ہوتا ہے؟ اور کیا یہ بات عقل تسلیم کرتی ہے کہ جو خود الله کی عبادت کر رہا ہو وہ خود کو خدا سمجھے؟
کسی بھی شیعہ کے گھر میں چلیں جایں وہاں پڑا ہوا قرآن اٹھا یں اور دنیا بھر میں موجود کسی بھی قرآن سے اس کا موازنہ کر لیں آپ کو کسی قسم کی کوئی تبدیلی یا تفریط نہ ملے گی ، قرآن کی تحریک کا کہنا بھی الله کی طرف سے دی گیی گارنٹی کی خلاف توہین ہے جس میں کہا گیا کہ قرآن ہمیشہ سے ہمسا کے لئے محفوظ رہے گا اور مشھور شیعہ علما چاہے وہ شیخ صدوق ہوں یا محمد حسین طباطبائی یا سید ابو القاسم خوئی سب نے اس بارے میں تفصیلی مقالاجات لکھی ہیں جو میں نے بیان کیا ہے
یہ دو الزام تو اس قدر بیہودہ اور شرمناک ہیں کہ اب شیعہ کو کافر کہنے کے لئے ان الزامات کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ، البتہ تیسرا الزام جو انصار عباسی نے بھی لگایا ہے وہ بہت حد تک ایک چالاکی اور عیاری سے بھرپور الزام ہے
شیعہ مراجعہ کرام سید علی خامنائی ہوں یا سید علی سیستانی دونوں نے ان شخصیات کے بارے میں ایسے الفاظ کی ممانعت اپنے فتووں میں کی ہے کہ جو سنی حضرت کے نزدیک عزت کا مقام رکھتے ہیں اور ان شخصیات کے بارے میں کوئی بھی برے الفاظ ان علما کے فتووں کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی
اس کے باوجود کے ان حضرت کو گالی دینا اس بیہودہ عمل ہے لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں اس عمل کے کفر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا
وہ تمام حضرت جنہوں نے پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا سب کے سب ایمان کے اس درجے پر یقینن نہیں تھے کہ وہ صحابہ کے صحیح معنوں پر پورا اتر سکیں
اور جہاں تک رہا صحابہ کو گالیاں دینے کا سوال تو یہ روایت معاویہ نے شروع کی تھی اور اس نے منبروں پر بیٹھ کر مولا علی(ع) کی شان میں گستاخیاں کی – اسی طرح حضرت عایشہ کے بارے میں تاریخ میں موجود ہے کہ انہوں نہ حضرت عثمان کے بارے میں کا اس بوڑھے یہودی کو قتل کر دو – تو کیا علما دیوبند اور انصار ابی ان دو شخصیات کے بارے میں بھی اسی طرح کا رویہ رکھیں گے جو وہ شیعہ مسلمانوں کے لئے رکھتے ہیں؟ ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو گالی سے سے زیادہ سنگین جرائم کے مرتکب ہیں جیسے کے اصحاب کے قتل میں تاریخ شاہد ہے کہ حضرت ابو بکر کے کمانڈر نے رسول الله کے صحابی حضرت ملک بن نویرا کو شہید کیا اور پھر اس کمانڈر خالد بن ولید نے ملک کی بیوی کے ساتھ زبر دستی
زنا کیا – پھر حضرت عثمان کے دور میں حضرت عبدللہ ابن مسود(ر) کو اس حد تک پیتا گی کہ ان کی پسلیاں تک طور دی گیں پھر اسی دور میں حضرت ابو زر غفاری (ر) کی ساتھ حد درجہ کے مظالم کے گیے اور پھر انھیں شہر بدر کر کے تپتے ہوے صحرا میں زندگی گزرنے پر مجبور کر دیا گیا جہاں کسم پرسی کی حالت میں وہ وفات پا گیے – اور پھر حضرت علی (ع) کے خلاف مسلح بغاوت جو کے تاریخ میں جنگ جمل کے نام سے یاد کی جاتی ہے جس میں حضرت عایشہ ، طلحہ اور زبیر نے حضرت علی (ع) کے خلاف بغاوت کی اور اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا موجب بنے جن میں سینکڑوں اصحاب بھی تھے -پھر معاویہ اور مروان کی طرح سے صفین کی جنگ برپا کی گیی حضرت علی(ا) کے خلاف جس میں ہزاروں اصحاب شہید ہوے اور حضرت عمار یاسر (ر) شہید ہوے تو ان سب اصحاب کی شہادت کا ذمہدار کون ہوا ؟ اور پھر حضرت امام حسین (ع) اور ان کی اصحاب کی میدان کربلا میں شہادت کی ذمہ داری کس پر ہے؟ ذکر نائک جیسے لوگ کہتے ہیں الله یزید سے راضی ہو، تو علما دیوبند کا ایسے لوگوں کے بارے میں کیا فتویٰ ہے جو امام حسین (ع) کے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کے بارے میں ایسے خیالات رکھتا ہے؟
قصہ مختصر گزارش ہے کہ یہ سب معاملات الله کی ذات اور اس کی مرضی پر ہی چھوڑ دے جایں اور الله ہی یہ فیصلہ کرنے میں قدر ہے کہ کون کافر ہے اور کون نہیں اور اس کا اختیار ہمارے بس میں ہرگز نہیں ہے
http://criticalppp.com/archives/267233

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button