مضامین

میں بطور شیعہ کیا سوچتا ہوں؟

کافی دنوں بعد تحریر لکھ رہا ہوں زہنی طور پر کافی پریشان ہوں مگر جسمانی طور کافی تندرست، زہن آجکل ایسی کشمکش میں مبتلا ہے کہ کچھ بھی کرلیا جائے سکون ہی نہیں ملتا۔ آئے دن جنازے، آئے دن شیعہ نسل کشی کا شکار ہونے والے بے گناہ پاکستانی اپنے ساتھ عقلمندوں کے لیے ہزاروں سوال چھورے جارہے ہیں جن کے جوابات مجھے سمجھ نہیں آتے یا میں خود سمجھنا نہیں چاہتا۔ اندر ہی اندر ایک فکر کھائی جارہی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے ولا ہے۔ معلوم نہیں یہ فکر فقط دماغ کا فطور ہے یا پھر “جاگنے کی گھنٹی”، فکر مجھے اس بات کی ہے کہ اب تک اتنے لوگوں کی قربانیاں دینے کے بعد بھی پاکستان میں رہنے والے 20 فیصد شیعہ یہ بات سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں کہ “اُن کا مستقبل خطرے میں ہے” پاکستان سیاسی اور سماجی معاشرہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے جنہیں ہم جاہل اور خارجی کہتے تھے وہ ہماری سستی کی وجہ سے معاشرے کے بڑے حصے پر قبضہ کرچکے ہیں۔ “پروپیگنڈہ جنگ” کا جواب ہم اب تک، جلسے جلوس، احتجاج، بندوق پستول، تنظیم اور خود ساختہ نعروں سے دے رہے ہیں۔ عربیوں کے مینڈیٹ سے آنے والی حکومت سے کیا اُمیدیں وابستہ ہیں اس شیعہ قوم کو؟ مجھے یہ فکر کھائی جاتی ہے کہ وزیر اعظم، صدر اور چیف جسٹس کے بعد آرمی چیف کی بھی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب جس کے بعد آرمی چیف بھی عربیوں کے مینڈیٹ سے لایا جائے گا۔ اگر ایسا ہوگیا تو میں اس ملک میں سانس بھی نہیں لے سکتا ریاست کے اہم ترین اور طاقتور اداروں پر سعودی ریال خور لوبی کا قبضہ ہوگا جس کے دور میں مجھے امن ملنا تو ناممکن ہے۔ کوئٹہ ہزارہ شیعہ قتل عام صرف نسل کشی تھا یا کوئٹہ میں رہنے والے شیعہ مسلمانوں کو اپنے اپنے علاقوں تک محدود کرنا تھا، کراچی کی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا مقصد شاید شیعوں کے رد عمل کو شدت پسندی دکھا کر شہر میں شیعہ مسلمانوں کے لیے پائے جانے والے نرم گوشے کو ختم کرنا تو نہیں تھا؟پارہچنار کے محاصرے کو کس خوبی کے ساتھ مسخ کردیا گیا کیا معلوم بھی لگا کے کتنا بڑا گیم کھیل لیا گیا؟۔ اگلا نشانہ “بیچارہ پشاور” ہے،کیا یہ سب اتفاق تھا یا شاطر دماغ کی پلاننگ؟ میں جب جب ان باتوں کو سمجھنا چاہتا ہوں تو اور اُلجھ جاتا ہوں، افسوس تو اس بات پر ہے کہ “شیعوں کی اعلی قیادت”(تنظیمی/ ادارے/ فعال افراد/ گروپ کے سربراہ) ان تمام حالات کو سمجھتے ہیں لیکن عام شیعوں کو معلوم نہیں کیوں لاعلم رکھا ہوا ہے۔ جن کا کام عوام کو آگاہ کرنا تھا وہ فلحال دامن حور میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اُن کی زبانیں خاموش ہیں شاید وہ خود نہیں جانتے کہ بولنا کیا ہے۔ میری تو بس یہی دُعا ہے کہ اللہ انھیں جلد بولنا سکھادے۔ –

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button